گوادر:چیف سیکرٹری بلوچستان مطہر نیاز رانا نے کہا ہے کہ بلوچستان کے سمندر میں غیرقانونی ٹرالنگ پر مکمل طور پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
وہ تین دن تک گوادر میں بیٹھ کر لوگوں کے مسائل سنیں گے اعلی سطحی اجلاس میں چیف سیکرٹری بریفنگ دی گئی جبکہ آل پارٹیز گوادر کے وفد کا چیف سیکرٹری سے ملاقات تفصیلات کے مطابق چیف سیکرٹری بلوچستان کی زیر صدارت گوادر میں اعلی سطحی اجلاس منعقد ہوئی۔
اجلاس میں کمشنر مکران ڈویژن شبیر مینگل، چیئرمین گوادر بندر گاہ نصیر خان کاشانی، ڈاٹریکٹر جنرل ادارہ ترقیات گوادر مجیب الرحمن قمبرانی،ڈپئی کمشنر گوادر کیپٹن ریٹائرڈ جمیل احمد بلوچ سمیت دیگر اعلی حکام شریک تھے، جس میں غیر قانونی ٹرالنگ اور غیر قانونی ماہی گیری کے روک تھام سمیت دیگر امور کا جائزلیا گیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ گوادر میں زیر تعمیر نیو انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا پروجیکٹ ڈائریکٹر آفس کراچی سے گوادر منتقل ہوگا اور آئندہ پروجیکٹ ڈائریکٹر اپنے آفس گوادر میں بیٹھیں گے۔
چیف سیکریٹری نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گوادر میں پینے صاف پانی کی فراہمی کا مسئلہ حل کردیا گیا ہے جن منصوبوں پر کام تیزی جاری ہے ان جلد پایہ تکمیل تک پہنچ جائیگا۔
چیف سیکرٹری نے اجلاس میں برہمی کا اظہار کیا ہے کہ افیسران اپنی صلاحیتوں کو صحیح بروکار نہیں لا رہے انہوں نے ہدایت کی کہ افسر اپنی تمام تر صلاحیتیں لوگوں کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے بروکارلائیں اور لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
چیف سیکرٹری نے کہا وزیر اعظم عمران خان کے خصوصی احکامات کی روشنی میں گوادرکے مسائل کو فوری طور پر حل کیا جارہا ہے جس کے تحت غیر قانونی فشنگ ٹرالرز پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
ماہی گیروں کے مسائل کے حل کے لیے ڈی جی فشیریز کے مرکزی دفتر کو فی الفور کوئٹہ سے گوادر منتقل کر دیا گیا ہے۔ غیر قانونی ٹرالنگ روکنے کے لیے محکمہ فشریز اور دیگر اداروں کے اہلکاروں کا گشت بڑھا دیا گیا ہے۔

