تحریر امین وارثی
16دسمبر کو خانیوال کے صوبائی حلقہ پی پی 206میں ضمنی الیکشن ہوا جس کے نتائج کے مطابق پہلے نمبرپر مسلم لیگ نواز کے امیدوار رانا محمد سلیم حنیف نے 47ہزار 649 ووٹ پیپلزپارٹی کے امیدوار سید میر واثق نے 15ہزار 69ووٹ حاصل کیے دوسرے نمبر پر نورین نشاط ڈاہا نے 34 ہزار ووٹ حاصل کئے بظاہر نورین نشاط پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر لڑ رہی تھیں لیکن اس کے ساتھ سردار احمد یار ہراج سردار حامد یار ہراج, نیازی ,سید, ڈاہا گروپس کے مضبوط دھڑے یہ الیکشن لڑ رہے تھے حکومتی امیدوار ہونے کی وجہ سے نورین نشاط کو خانیوال کے صوبائی وزیر سید حسین جہانیاں گردیزی وفاقی وزیر سید فخر امام بھی سپورٹ کر رہے تھے ڈاکٹر شفیق کمبوہ نے ماضی میں ایم پی اے کے پندرہ ہزار ووٹ لئے تھے وہ بھی آخری دنوں میں نورین نشاط کے ساتھ چلے گئے تھے دھڑوں کی اکثریت پی ٹی آئی کے ساتھ تھی ایک مہینے کی انتخابی مہم میں ہم نے دیکھا کہ ایک طرف مسلم لیگ نواز کی لیڈرشپ سے لیکر کارکن تک لاہور سے ٹیمیں اس حلقے میں متحرک تھی اسی طرح پیپلز پارٹی کی لیڈرشپ سے لیکر بلاول ہاؤس اور لاہور ملتان کی ٹیمیں یہاں اپنے کارکنوں کا لہو گرما تھی اور اپنے اپنے ووٹرز کو متحرک کر رہی تھیں جبکہ مقابلے کی سب سے بڑی پارٹی تحریک انصاف کی لیڈر شپ غائب رہی اس کی امیدوار کے پوسٹرز پینافلیکسو اور تشہیری مہم سے عمران خان کی فوٹو تک نہیں لگی کیونکہ عام آدمی موجودہ حکومت کی ظالمانہ معاشی پالیسیوں کے خلاف نفرت سے بھرا بیٹھا ہے تحریک انصاف کے بڑوں نے بھی اس حلقے میں آکر انتخابی مہم میں حصہ نہیں لیا تاہم حکومت کے وزیر مشیر جو ضلع خانیوال سے تعلق رکھتے ہیں وہ اپنے تعلق واسطے کی بنیاد پر روز کسی نہ کسی دھڑے کو نورین نشاط کے حق میں اعلان کراتے تھے اور ایسا لگتا تھا کہ پی ٹی آئی کی نورین نشاط سیٹ نکال لے گی لیکن کل پولنگ کے روز حو رزلٹ آئے ہیں اس سے ثابت ہو گیا کہ دھڑوں کے نیچے سے عام آدمی کا ووٹ کھسک چکا ہے پیپلزپارٹی کے امیدوار سید میر واثق کا اپنا ہدف 12ہزار ووٹ لینے تک تھا لیکن پارٹی نے کمپئین اتنے بھر پور طریقے سے چلائی کہ وہ 15 ہزار سے کراس کر گیا. مسلم لیگ نواز کے کارکنان پر پولیس نے پولنگ سے 24گھنٹے پہلے پیپلزپارٹی امیدوار میر واثق کی ایف آئی آر کو بنیاد بنا کر زبردست کریک ڈاؤن کیا اور گھروں میں دیواریں پھلانگ کر درجنوں کو گرفتار کر لیا اور ووٹرز کی سپلائی لائن کاٹ دی لیکن اس کے کارکن خوف و ہراس کا شکار ہونے کی بجائے انتقامی کارروائی پر ردعمل میں باہر نکل آئے اور شیر پر مہریں لگا کر حکومت کے خلاف نفرت کا اظہار کیا
خانیوال میں مستقبل کی سیاست مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کے درمیان ہوگی.
