رپورٹ : علیم عُثمان
مسلم لیگ (نون) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی پہلی اہلیہ بیگم نصرت شہباز اپنی آزادی محفوظ رکھنے کی غرض سے لندن سے قطر منتقل ہوگئی ہیں تو دُوسری طرف پاکستان میں ان کے شوہر اور بڑے بیٹے کو گرفتاری سے تحفظ کی گارنٹی مل گئی ھے.
ذرائع کے مطابق نصرت شہباز کو گزشتہ ہفتے اس وقت عجلت میں برطانیہ چھوڑنا پڑا جب لندن میٹروپولیٹن پولیس نے ان سے تقاضا کیا کہ وہ فی الفور برطانیہ سے نکل جائیں ورنہ انہیں زبردستی پاکستانی حکام کے حوالے کر دیا جائے گا، پنجاب کی سابق خاتون اول اپنے خلاف درج “منی لانڈرنگ” کے ایک مقدمہ میں مفرور اور حکومت پاکستان کو مطلوب ہیں. وہ لندن میں اپنے چھوٹے بیٹے سلیمان شہباز کے گھر غیر قانونی طور پر قیام پذیر تھیں. ذرائع کے مطابق گزشتہ ہفتے حکومت پاکستان کے دباؤ پر لندن میٹرو پولیٹن پولیس نے سلیمان شہباز کے اپارٹمنٹ پر چھاپہ مارا تھا جس کے بعد نصرت شہباز قطر کی پرواز پکڑ کے برطانیہ سے نکل گئیں.
اسی مقدمے میں اگرچہ ان کا چھوٹا بیٹا سلیمان شہباز اور داماد علی عمران بھی پاکستان میں ایف آئی اے کو مطلوب اور عدالت سے اشتہاری ہیں تاھم برطانیہ میں ان کے قیام کو قانونی تحفظ حاصل ھے البتہ کنبے کے سربراہ شہباز شریف اور ان کا چھوٹا صاحبزادہ حمزہ شہباز پاکستان میں موجود ہونے کی بنا پر گرفتاری کی زد میں تھے مگر انہیں گرفتار نہ کئے جانے کا یقین دلا دیا گیا ہے. ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز فیملی کے خلاف ایف آئی اے میں درج اس آخری “منی لانڈرنگ” کیس میں خاندان کے ارکان کے خلاف ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں اور اگرچہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت باپ بیٹے کو حراست میں لے کر جیل میں ڈالنے کی تیاری کر چکی تھی جنہی ایف آئی اے حکام کسی بھی وقت تحویل میں لے سکتے تھے مگر “بڑے گھر” کی مداخلت پر شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی گرفتاری روک دی گئی ھے. ذرائع کا دعویٰ ہے کہ قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈران کو مقتدر حلقوں نے یقین دلایا ھے کہ انہیں گرفتار نہیں کیا جائے گا.
