سکھر( نمائندہ جسارت)راولپنڈی ریلوے ورکس منیجر کی کرپشن الزامات میں گرفتاری پر ریلوے پریم یونین سراپا احتجاج ،پاکستان ریلوے ایمپلائز پریم یونین سی بی اے کے مرکزی چیئرمین ضیاالدین انصاری، مرکزی صدر شیخ محمد انور، مرکزی سیکرٹری جنرل خیر محمد تنیو اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات خالد محمود چودھری نے اپنے مشترکہ اخباری بیان میں کہا ہے کہ راولپنڈی میں عدم ثبوت اور انکوائری کے بغیر کسی ریلوے ملازم کو گرفتار کرنا قابل مذمت ہے۔ پریم یونین وفاقی وزیرریلوے کے اس غیر قانونی اور خیر اخلاقی اقدام کی بھرپور مخالفت اور مذمت کرتی ہے۔ یاد رہے کہ آج راولپنڈی سی ڈی ایل شاپ کے ورکس منیجر شہزاد اور دو فورمینوں کو بغیر کسی انکوائری کے دفتر بلا کر پولیس کے حوالے کرنے کے احکامات کے خلاف تمام ریلوے مزدور پریم یونین کے ڈویژنل صدر ڈاکٹر اشتیاق کی سربراہی میں ریلوے اسٹیشن پر اکٹھے ہوگئے اور تمام یونینز نے تھانے کا گھیرائو کرلیا جس کی وجہ سے مجبوراً ڈی ایس ریلوے راولپنڈی ڈویژن نے گرفتار ملازمین کی رہائی کا حکم دیا۔ جس کے بعد تمام ملازمین پر امن طور پر منتشر ہوگئے۔ اس موقع پر ڈبلیو ایم سی ڈی ایل نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے پریم یونین سمیت تمام یونینز کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ افسر اور ملازمین پر عدم اعتماد سے ریلوے بحرانی کیفیت کا شکار ہے۔ ریلوے پریم یونین کرپشن کے خلاف میدان عمل ہے لیکن کسی باکردار افسر یا ملازم کو صرف من گھڑت الزام میں گرفتاری کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر ریلوے عملی طور پر کرپشن میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کریں پریم یونین وزیر ریلوے کے اقدام کو سراہے گی لیکن بے بنیاد الزامات پر کارروائیاں کرنے سے ملازمین اور ریلوے افسران میں بے چینی پائی جاتی ہے موجودہ حکومت میں سب سے زیادہ ملازم طبقہ پریشانی کا شکار ہے ریٹائرڈ ملازمین اپنے واجبات کے حصول کے لیے ریلوے دفاتر کے چکر لگا رہے ہیں جبکہ ڈیوٹی پر مامور ملازمین اور افسران کو وزیر ریلوے آئے روز چور چور کہہ کہہ کر ملازمین کی عزت نفس کو مجروح کر رہے ہیں۔ وزیرریلوے ہوش کے ناخن لیں اور ریلوے کے صنعتی امن کو برقرار رکھنے کے لیے اپنے فیصلوں پر نظرثانی کریں۔
