English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

برطانیہ-اسرائیل معاہدہ مشرق وسطٰی میں برطانوی عزائم کا عکاس: شفقنا بین الاقوامی

القمر
ایک سال ہوچکا ہے جب برطانیہ نے باضابطہ طور پر یوروپین یونین کو خیرباد کہہ دیا۔ تب سے بورس جانسن کی قدامت پسند حکومت انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرنے والے حلیفوں سے قربت کی وجہ سے تنقید کی زد میں ہے جب کہ دوسری جانب برطانیہ دنیا بھر میں خود کو انسانی حقوق کا چیمپین پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ 29 نومبر کو برطانیہ کی سیکرٹری خارجہ لز ٹرس نے اپنے اسرائیلی ہم منصب یائر لپیڈ سے ملاقات کی اور اعلان کیا کہ اسرائیل برطانیہ کا اول درجے کا سائبر پارٹنر بنے گا۔ تاہم برطانیہ کی جانب سے اسرائیلی ٹیکنالوجی کو اپنانے کے خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں۔ مڈل ایسٹ آئی کی ایک رپورٹ کے برطانیہ اور اسرائیل کا یہ معاہدہ اسرائیلی سافٹ وئیر پیگاسس کی جانب سے 400 سے زائد برطانوی شہریوں کو نشانہ بنانے کے کئی ماہ بعد سامنے آیا ہے ۔ جن برطانوی افراد کو جاسوسی کا نشانہ بنایا گیا ان میں ہاؤس آف لارڈز کے اراکین بھی شامل تھے۔
دونوں وزراء نے مشرق وسطٰی میں ایران کا رستہ روکنے کی مشترکہ خواہش کا اظہار بھی کیا۔ یہ معاملات ایسے موقع پر سامنے آئے ہیں جب یوروپین یونین ایران کے ساتھ 2015 کے معاہدے کی تجدید کی کوشش کررہا ہے۔ ایران اس معاہدے جہاں نئے شرائط کا مطالبہ کررہا ہے وہیں برطانیہ اسرائیل کی طرف داری میں جتا ہوا ہے جو کہ ایک نئے معاہدے کی مخالفت کررہاہے  جس سے لگتا ہے کہ برطانیہ بھی اس معاہدے کی تجدید کی مخالفت کرےگا۔ اسرائیل کی طرف جھکاؤ کی ایک وجہ یوروپین یونین کو خیرباد کہنے کے بعد برطانیہ کی کمزور معاشی صورتحال بھی ہے۔ بریگزٹ کے بعد برطانیہ نے جلد بازی میں بہت سارے ممالک بشمول اپنی نوآبادیات کے ساتھ تجارتی معاہدے کیے ہیں جسیا کہ افریقہ میں کینیا اور نائجریا اور بھارت اور آسٹریلیا کے ساتھ۔ ۔جس کے بعد اب برطانیہ مشرق وسطٰی میں اپنے روایتی حلیف کے ساتھ بھی تعلقات کو از سر نو بحال کرہا ہے۔
دوہرا کھیل بے نقاب
اسرائیل پر برطانیہ کا سابقہ مؤقف اکثر پریشان کن نظر سے دیکھا جاتا تھا کیونکہ لندن نے ہمیشہ مقبوضہ مغربی کنارے پر غیر قانونی بستیوں کی تعمیر کو اور ان کے پھیلاؤ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی اقدامات کی ہمیشہ مذمت کی۔ حتٰی کہ ڈیوڈ کیمرون جو کہ اسرائیلی حمایت یافتہ وزیر اعظم کی زندہ مثال تھے انہوں نے بھی 2010 میں خبردار کیا تھا کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی اقدامات اس کو جیل کیمپ میں تبدیل کر دیں گے۔ اور اب برطانیکہ اسرائیل کو اسلحے کے بڑے خریدار، تجارتی پارٹنر اور مشرق وسطٰی میں تزویراتی حلیف کے طور پر دیکھ رہا ہے اور بریگزٹ کے بعد اس کے امکانات بہت بڑھ گئے ہیں۔ حتٰی کہ 2016 کے بریگزٹ ریفرنڈم کے فوری بعد لندن اور تل ابیب کے درمیان تجارتی حجم میں بڑی حد تک اضافہ ہوگیا تھا۔
اسی اثنا میں اسرائیل نے گزشتہ برس مئی میں غزہ پر وحشیانہ بمباری کی اوراس میں ایف-35 جنگی طیاروں کا استعمال کیا۔ امریکی ہتھیار ساز کمپنی لاک ہیڈ مارٹن نے جس نے یہ طیارے تیار کیے تھے کا کہنا تھا کہ ان طیاروں کے بنیادی حصوں پر برطانوی قوت اختراع کے نشانات واضح طور پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ برطانوی ڈیفنس جرنل کے اندازے کے مطابق ان میں سے 15 فیصد برطانوی تیار شدہ ہیں۔ اگرچہ امریکہ اسرائیل کی غیر مشروط حمایت کرتا ہے تاہم یہ برطانیہ ہی تھا جس نے 1917 کے بیلفور اعلامیے میں اسرائیلی ریاست کی حمایت کی تھی ۔ اس وقت بھی برطانیہ کا دوہرا کھیل سامنے تھا ۔ ایک طرف برطانیہ نے فلسطینیوں سے وعدہ کیا کہ وہ سلطنت عثمانیہ کے خلاف بغاوت پر عرب رہنماؤں کے خلاف ان کی حمایت کرے گا اور دوسری جانب انہی کی سرزمین صیہونی تحریک کے تحت یہودیوں کے حوالے کر دی۔
اسرائیلی تشدد سے قبل تجارت
ٹرس اس وقت سیکرٹری تجارت تھیں جب انہوں نے تسلیم کیا کہ برطانیہ نے حادثاتی طور پر سعوی دعرب کا ہتھیار فروخت کیے ہیں جب برطانوی عدالت نے یمن میں برطانوی اسلحے پر اس فروخت کو غیر قانونی قرار دیے دیا تھا  تاہم اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ برطانیہ مشرق وسطٰی کے معاملات میں کس طرح اپنے اثرو رسوخ کو بڑھانا چاہتاہے۔ حقیقت یہ ہے کہ برطانیہ خلیج فارس میں اپنے اثرو رسوخ کو قائم رکھنا چاہتا ہے اوراس کے لیے وہ کسی بھی انسانی حقوق کو خاطر میں نہیں لاتا۔ اس وقت برطانیہ خلیج تعاون کونسل کے ساتھ آزادانہ تجارتی معاہدے کو آگے لے کر بڑھ رہا ہے۔ یاد رہے کہ جی سی سی برطانیہ کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے اور دونوں کے درمیان 2019 تک تجارت کا حجم 45 بلین پاؤنڈ کے قریب تھا۔
برطانیہ کا ایک متنازعہ پارٹنر بحرین بھی ہے جہاں لندن پر یہ الزام لگایا جاتا ہے وہ تجارت کو تشدد پر ترجیح دیتا ہے کیونکہ بورس جانسن نے جون 2021 میں بحرینی حکام کو ڈاؤننگ سٹریٹ میں خوش آمدید کہا تھا۔ حال ہی میں ایک بحرینی سیاسی کارکن علی مشیمی نے لندن میں بحرینی سفارت خانے کے باہر بھوک ہڑتال کی تھی ۔ مشیمی اپنے 73 سالہ والد حسن مشیمی اور 69 سالہ ڈاکٹر عبدالجلیل سنگیس جو کہ حکومت کے دو سیاسی مخالف ہیں ان پر تشدد کے خلاف مظاہرہ کررہے تھے۔  برطانوی پارلیمنٹ میں بحرین کے ان اقدامات پر خدشات کے باوجود لندن نے مانامہ کی بادشاہت کی نہ صرف حمایت کی ہے بلکہ اس کو مضبوط بنایا ہے کیونکہ برطانیہ بحرین میں بحری اڈے کے قیام کی کوشش میں ہے ۔ بریگزٹ نے برطانیہ کی خارجہ پالیسی میں زیادہ تبدیلی نہیں لائیں کیونکہ برطانیہ ماضی کی طرف مشرق وسطٰی میں اپنے تاریخی حلیفوں کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات کرنے سے کتراتا ہے اور اپنے مفادات کو انسانی حقوق پر ترجیح دیتا ہے۔
اتوار، 19 دسمبر 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

The post برطانیہ-اسرائیل معاہدہ مشرق وسطٰی میں برطانوی عزائم کا عکاس: شفقنا بین الاقوامی appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے