English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کے پی کے انتخابات: کیا واقعی تبدیلی جارہی ہے؟

القمر
خیبر پختونخوا کے ضمنی انتخابات کے پہلے مرحلے میں مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) نے 21 سیٹیں جیت کر میدان مار لیا ہے۔ جبکہ حکمران جماعت تحریک انصاف 14 نشستیں حاصل کرکے دوسرے نمبر پر ہے۔غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق آزاد امیدوار 8 سیٹیں لے کر تیسرے، عوامی نیشنل پارٹی 7 سیٹوں کیساتھ چوتھے، مسلم لیگ (ن) 3 سیٹیں جیت پر پانچویں پوزیشن پر آئی ہے۔ سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ ’پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں غلطیاں کیں اور اس کی قیمت ادا کی، جس کی بڑی وجہ امیدواروں کا غلط انتخاب تھا‘۔ ساتھ ہی انہوں نے اعلان کیا کہ وہ خیبر پختونخوا مں دوسرے مرحلے اور ملک بھر میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے لیے پی ٹی آئی کی حکمت عملی کی نگرانی خود کریں گے۔
پاکستان تحریکِ انصاف اب یہ چاہتی ہے کہ کسی طرح اپنی شکست کا ذمہ دار یا تو دشمن کی ریشہ دوانیوں کو قرار دے دیا جائے، یا پھر مقامی اور عالمی منڈی میں ہوئی مہنگائی کو یہاں بھی اپنی ناقص کارکردگی کی وجہ قرار دے کر گونگلوؤں پر سے مٹی جھاڑ لی جائے، یا پھر تیسرا طریقہ یہ ہے کہ آپسی لڑائیوں اور امیدواروں کے غلط چناؤ کو مصیبت کی جڑ قرار دے کر اپنا دامنِ تار تارہونے سے بچا لیا جائے لیکن یہ تمام چیزیں پھیلانے والے کون ہیں، اسی سے آپ اندازہ لگا لیجیے کہ ان میں سچائی کس قدر ہے؟ مہنگائی کو خیبر پختونخوا حکومت کے دو اہم ترین عہدیداروں عاطف خان اور شوکت یوسفزئی نے ذمہ دار قرار دیا۔
دشمن کی ریشہ دوانیوں، یعنی مافیا، پی ڈی ایم کی چتر چالاکیوں اور عوام میں شعور کی کمی کو پی ٹی آئی کا عام ورکر ذمہ دار قرار دے رہا ہے۔ اور آپسی لڑائیوں اور امیدواروں کے غلط چناؤ کو حکومتی بزر جمہروں نے بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے۔ مثلاً ایک خاتون صحافی نے امیدواروں کے فیصلوں کے حوالے سے ایک طویل فہرست لکھی جن کی وجہ سے پی ٹی آئی کو حالیہ عرصے میں نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ان میں سے ایک لاہور کے این اے 133 میں جمشید اقبال چیمہ کی جانب سے کاغذاتِ نامزدگی نہ جمع کرانا بھی شامل ہے۔ انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ خانیوال میں پی ٹی آئی نے اپنے کارکن کو ٹکٹ نہ دیا جس کی وجہ سے وہ شکست سے دوچار ہوئی۔ یہ بتانا بھول گئیں کہ مخالف پارٹی نے 2018 میں کامیابی حاصل کی تو عثمان بزدار صاحب ان صاحب کو توڑ کر پی ٹی آئی میں لے کر گئے تھے اور اب دوسرے امیدوار کو ٹکٹ ن لیگ سے ملا تو وہ بھی جیت گیا، یعنی مسئلہ امیدوار نہیں، پارٹی میں ہے۔
ان تمام لوگوں کی کوشش یہ ہے کہ دراصل حکومت کی غیر مقبولیت کو کوئی اور نام دے کر بلدیاتی انتخابات میں ہوئی شکست کا ذمہ دار اسے قرار دے دیا جائے۔ حقیقت لیکن اتنی سادہ نہیں۔ حکومت کی غیر مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پچھلے چند ماہ سے عوامی نیشنل پارٹی کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ وہ بھرپور محنت کر رہی ہے اور اپنی جماعت کو بڑی حد تک اس نے منظم کیا ہے۔ لوگوں کو عوامی نیشنل پارٹی سے بہتر کارکردگی کی توقع بھی تھی۔ اور یہ مانا جانا چاہیے کہ اس نے گذشتہ دو عام انتخابات کے مقابلے میں بہت بہتر کارکردگی دکھائی بھی ہے۔  تحریک انصاف کے لئے ان انتخابات میں ناکامی اس لحاظ سے بھی پریشان کن ہے کہ یہ پارٹی 2013 سے خیبر پختون خوا میں صوبائی حکومت کی نگران ہے۔ اس کے علاوہ عمران خان کی قیادت میں 2018 سے مرکز میں بھی پی ٹی آئی ہی کی حکومت ہے۔ واضح رہے باقی صوبوں کی طرح خیبر پختون خوا کی حکومت نے بھی سپریم کورٹ کے حکم پر بلدیاتی انتخابات منعقد کروانے کا اہتمام کیا ہے۔
یوں تو پاکستان تحریک انصاف کے برے نتائج اور صوبہ بھر میں عمومی شکست کی وجوہ کوئی ایسی ڈھکی چھپی نہیں ہیں جیسے عام آدمی سے دوری، حکومتی ایوانوں میں غیر ملکی افراد کی ضرورت سے زیادہ کھپت غیر ذمہ دارانہ حکومت، زمینی حالات سے لا تعلقی، پارٹی کے پرانے وفاداروں سے سرد مہری، ہر طبقہ زندگی پر حکومتی اشرافیہ کی جانب سے طنز و تشنیع، آسمان کو چھوتی ہوئی مہنگائی، بنیادی اشیائے ضروریہ کی عدم دستیابی، بیروزگاری وغیرہ وغیرہحکمران جماعت کے نمائیندوں نے خیبر پختون خوا کے بلدیاتی انتخابات میں ناکامی کے باوجود امید ظاہر کی ہے کہ پارٹی اپنی کمزوریوں پر قابو پاکر مستقبل میں ایک بار پھر انتخابی کامیابی حاصل کرے گی۔ شبلی فراز بھی مہنگائی کو تحریک انصاف کی شکست کی ایک وجہ مانتے ہیں لیکن صوبائی وزرا کے برعکس انہوں نے دو تین ماہ میں قیمتوں میں کسی ڈرامائی کمی کی امید ظاہر نہیں کی اور کہا کہ قیمتوں میں اضافہ عالمی عوامل کی وجہ سے ہے۔ دنیا کے سب ملکوں میں قیمتوں میں اضافہ ہؤا ہے۔ ان کے خیال میں تحریک انصاف باہمی اختلافات دور کرکے موجودہ سیاسی مشکل سے باہر نکل آئے گی۔
خیبر پختون خوا میں تحریک انصاف کی ناکامی پارٹی کے لئے ضرور دھچکہ ہے لیکن اس سے صوبائی یا قومی اسمبلی میں پارٹی کی سیاسی پوزیشن پر اثر نہیں پڑے گا۔ اس کا مظاہرہ آج شوکت ترین کو واضح اکثریت سے سینیٹر منتخب کرواکے کیا بھی گیا ہے۔ تاہم تحریک انصاف کو یہ ضرور سمجھنا ہوگا کہ اب وہ محض دوسروں پر الزام تراشی اور سابقہ حکومتوں کو مورد الزام ٹھہرا کر عوام کی سیاسی حمایت حاصل نہیں کرسکے گی۔ اب بھی اس کے پاس کچھ وقت ہے۔ اگر وہ 2023 میں دوبارہ کامیابی کی خواہشمند ہے تو اسے الزامات ، نعروں اور سہانے مستقبل کے خواب دکھانے سے آگے بڑھنا ہوگا۔ اب عوامی مسائل کا ادراک کرتے ہوئے انہیں حل کرنے کا ٹھوس اور قابل عمل منصوبہ سامنے لانا ہوگا۔ عمران خان کو تقریروں کے زور پر اپنی مقبولیت اور سیاسی اصابت پر اصرار کرنے کی بجائے عوام کی مشکلوں اور تکلیفوں کا احساس کرنا ہوگا اور یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ان کی حکومت داخلی اور خارجی سطح پر یکساں طور سے ناکام رہی ہے۔
منگل، 21 دسمبر 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

The post کے پی کے انتخابات: کیا واقعی تبدیلی جارہی ہے؟ appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے