کراچی :وزیر اعلی سندھ کے معاون خصوصی برائے انکوئریز اینڈ انسپیکشن وقار مہدی کا کہنا ہے کہ کراچی میں جاری ترقیاتی منصوبے اپنی مقررہ مدت میں مکمل کرنا، متعلقہ اداروں اور آفسران کی ذمے داری ہے، ترقیاتی اسکیموں پر کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کریں گے،ان باتوں کا اظہار پی پی پی سندھ کے جنرل سیکریٹری و معاون وزیر اعلی سندھ وقار مہدی نے کراچی کے ضلع کورنگی میں ڈی سی آفس میں ضلعی ترقیاتی اسکیموں کے اجلاس میں بات کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ڈی سی کورنگی، ضلعی ایڈمنسٹریٹر، ایس ایس پی کورنگی شاہ جہاں خان، سمیت واٹر بورڈ، بلدیہ، ڈی ایم سی، پولیس، تعلیم، صحت سمیت مختلف اداروں کے افسران بھی شریک تھے۔ افسران نے اجلاس شرکاء کو کورنگی میں جاری ترقیاتی اسکیموں پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سندھ حکومت نے کورنگی میں کئی اہم منصوبے مکمل کیے، جن میں سڑکوں کی تعمیر، بلائی گزرگاہیں، اوور ہیڈ برجز، گندے پانی کی نکاسی کے لیے سیوریج سسٹم شامل ہے، اس موقعے پر چند افسران نے فیکٹریوں سے نکلنے والے فضلے پر اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کچھ صنعتوں سے فضلہ نالوں میں شامل ہوکر سیوریج سسٹم کو چوک کردیتا ہے، اس فضلے کا سیوریج سسٹم میں شامل ہونا پورے سسٹم کے لیے مسئلہ پیدا کرتا ہے، یہ ہی صورتحال انڈسٹریل ایریا روڈ پر بلال چورنگی کے آس پاس دیکھنے کو ملتی ہے۔ جس پر وزیر اعلی سندھ کے معاون خصوصی نے متعلقہ افسران کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ روڈ پر سیوریج کا پانی کھڑا ہے، جس سے نئی بنائی ہوئی روڈ خراب ہورہی ہے، آپ کسی صورت وہاں سیوریج سسٹم کو چوک نہ ہونے دیں، اسٹون کرشنگ کی وجہ سے سیوریج چوک ہو رہی ہے جس پر صنعتکاروں کی انجمن سے بات کر کے اس کا حل نکالیں مگر سڑک پر سیوریج کا پانی جمع نہ ہونے دیں ورنہ سندھ حکومت کی بنائی گئی سڑک تباہ ہوجائے گی، کے ایم سی کا نالہ ہے بھی اگر تو آپ کوشش کریں کہ وہاں سے کچرا اور سیوریج کا پانی صاف کروادیں۔ وزیر اعلی سندھ کے معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ کورنگی 8 ہزار روڈ پر سیوریج کا کام فی الفور مکمل کیا جائے۔ واٹر بورڈ کے افسران پانی کی بلاتفریق فراہمی کو کورنگی میں یقینی بنائیں۔ جہاں سڑکوں پر سیوریج کا پانی جمع ہے، واٹر بورڈ کے سپرنٹنڈنٹ انجینیر کا کام بنتا ہے کہ اپنے نگرانی میں معاملات کو درست سطح پر لائے کیوں کہ اس کی وجہ سے کورنگی کی اہم شاراہو ں بشمول انڈسٹریل ایریا روڈ پر ٹریفک جام کا مسئلہ رہتا ہے، اور ٹریفک پولیس کے لیے بھی مسائل جنم لے رہے ہیں، ٹریفک پولیس افسران بھی کورنگی میں ٹریفک کے بڑھتے مسائل پر توجہ دیں، اور جن وجوہات کی وجہ سے ٹریفک جام ہورہا انھیں نہ صرف اپنے حکام تک، بلکہ ہمیں بھی بتائیں تاکہ ان کا تدارک کیا جا سکے۔ انہوں نے فوری طور پر ٹوٹی ہوئی لائنز کی مرمت اور اسٹریٹ لائٹس کی بحالی کیلئے بھی ہدایت جاری کی . وقار مہدی کا مزید کہنا تھا کہ چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر ترقیاتی کاموں کی نگرانی جاری رکھوں گا، وزیر اعلی سندھ کورنگی سے موصول شکایتو ں پر کسی قسم کی رعایت نہیں دیں گے، 2021/22 کے ضلعی بجٹ کے ڈیویلپمنٹ پروگراز عوام کے علم میں ہونے چاہیں، اس کے لیے ضروری ہے کہ منصوبوں پر آنے والی لاگت اور منصوبہ ساز ادارے کے نام کی تختی اور بورڈ لگے ہوئے ہوں تاکہ عوام کو علم ہو کہ منصوبہ کس ادارے کا ہے اور کب مکمل ہونا ہے۔عوامی مفاد کے منصوبوں میں رکاوٹ بننے والے افسران کو کسی صورت عہدے پر براجمان نہیں رہنے دیں گے، کورنگی میں کھیلوں کے میدان اور کورٹس کا بحال ہونا خوش آئند ہے۔ انہوں نے ضلع کورنگی میں اسٹریٹ کرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے حوالے سے بھی پولیس افسران پر زور دیا کہ ان کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات بروئے کار لائے ۔

