
اسلام آباد( نمائندہ جسارت+صباح نیوز) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں نالائقیوں کے سبب ہارے، آئندہ سفارش یا رشوت ستانی برداشت نہیں ہوگی۔ بدھ کو وزیراعظم سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے ملاقات کی جس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، علی امین گنڈاپور سمیت دیگر بھی شریک تھے۔اس موقع پر وزیراعلیٰ نے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں ناکامی سے متعلق رپورٹ پیش کی، جس میں شکست کا ذمے دارگورنر کے پی ، اسپیکرقومی اسمبلی اسد قیصر سمیت 4 صوبائی وزرا ء اور 11 اراکین اسمبلی قرار دیا گیا ہے جس پر پارٹی فیصلے کے مخالف جانے والے ارکان کو ابتدائی طور پر شوکاز نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے۔رپورٹ میں بلدیاتی انتخابات میں پارٹی امیدواروں کو سپورٹ نہ کرنے والے دیگر اضلاع کے اراکین اسمبلی کے نام شامل ہیں۔وزیراعظم نے بلدیاتی انتخابات میں شکست کے ذمے داروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کرتے ہوئے مزید مشاورت کے لیے کور کمیٹی کا اجلاس بلانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کی شکست میں اضلاع کی سطح پر ذمے داروں کا تعین بھی کر دیا گیا، تحصیل مئیر پشاو کا ٹکٹ گورنر شاہ فرمان ، کامران بنگش اور تیمور سلیم جھگڑا کی سفارش پر دیا گیا۔رپورٹ کے مطابق مئیر کے ٹکٹ پر سفارش پر ارباب شہزاد خاندان کی مخالفت پر شکست کا سامنا کرنا پڑا، مردان کے تمام ٹکٹ عاطف خان خان کی سفارش پر دیے گئے تھے، صوابی میں تمام ٹکٹ اسپیکر اسد قیصر اور صوبائی وزیر شہرام ترکئی کی سفارش پر دیے گئے۔تھرا میں نور عالم اور ایم پی اے ارباب وسیم شکست کے ذمے دار قرار پائے۔ تحصیل بڈھ بیر میں گورنر شاہ فرمان اورایم این اے ناصر موسی زئی کے درمیان اختلافات پر شکست کا سامناکرنا پڑا۔ذرائع کے مطابق رپورٹ میں بلدیاتی الیکشن کے دوران مخالف امیدوار کی حمایت کرنے پر چارج شیٹ تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اراکین اسمبلی کو شوکاز نوٹس دیے جائیں گے، پارٹی پالیسی کے خلاف جانے والے ایم پی ایزاورایم این ایزکے خلاف کارروائی کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پارٹی کی جانب سے ایم این ایز،ایم پی ایزکوشوکازکے علاوہ مزید کوئی کارروائی نہیں کی جاسکتی۔ وزیراعظم نے وزیراعلی ٰمحمود خان کو اگلے مرحلے کی حکمت عملی سے متعلق گائیڈ لائنز دی۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے خیبرپختونخوا کے آئندہ مرحلے بلدیاتی انتخابات کے لیے امیدواروں کا چنائو خود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ملاقات میں عمران خان نے محمود خان کو پارٹی کارکنوں کو منظم کرنے کی ہدایت کی۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں پہلے مرحلے کے نتائج سے سبق سیکھنا ہوگا، پارٹی کے اندرونی اختلافات کا فائدہ مخالفین کو ہوا ہے۔
