English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کرونا کے خلاف جنگ میں صنفی تفریق کس طرح پاکستان پر اثر انداز ہورہی ہے؟ شفقنا خصوصی

القمر
ہائی ڈیپینڈینسی یونٹ کے بیڈ نمبر 281 اور 282  گزشتہ 18 دنوں سے دو ادھیڑ عمر کی خواتین کے قبضے میں تھا۔ دونوں مریضوں کو بیک وقت آئسولیشن یونٹ میں منتقل کر دیا گیا۔ ان کی طویل بیماری اور مختلف مشینوں سے ہمہ وقت واسطہ اور بچغیر کسی مدد کے سانس لینے میں دشواری نے انہیں چڑچڑا بنا دیا تھاتاہم اس کے باوجود ان کے بچے ہر روز بلا شکایت ان کے پاس حاضر ہوتے۔ دونوں خواتین جو دو مختلف خاندانوں سے تعلق رکھتی تھیں اور دونوں ایک ہی وائر س سے متاثر ہوئی تھیں۔ ان کے بچے ڈاکٹرز سے روزانہ ایک ہی سول پوچھتے تھے کہ وہ اپنی ماؤں کو گھر کب تک لے جا سکیں گے تاہم اس سوال کا جواب ڈاکٹرز کے پاس نہیں تھا۔ اس وبا کے دوران فتوحات کی خبریں کم ہی تھیں تاہم کرونا ویکسین نھے امید کی ایک کرن روشن کر دی۔ تاہم ویکسین سے گریز خاص طور پر عورتوں کی جانب سے اس وائرس کے خلاف جنگ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
اگرچہ ویکسین  کے استعمال میں صنفی امتیاز ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے مگر پاکستان اور خاص طور پر جنوبی ایشیا اس خطرے کا بڑا شکارہیں ۔ مختلف مطالعات سے پتا چلتا ہے کہ بھارت بھی اسی طرح کے مسائل کا شکار ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم  کی 2020 کی رپورٹ کے مطابق ، پاکستان صنفی تفریق میں 156 ممالک میں سے 153ویں نمبر پر ہے۔ جس سے ہمارے خطے میں گہری ہوتی مردانہ اقدار اور نظام میں موجود منظم صنفی تفریق کا اظہار ہوتا ہے۔  یہی صنفی امتیاز ہم ویکسی نیشن ڈرائیو میں دیکھتے ہیں۔ اس تفریق میں دیگر عناصر بھی شامل ہیں جس میں عورتوں کی بھلائی اہم ترین کردار ادا کرتا ہے۔ عمومی طور پر معاشرے میں مردوں کی صحت کو عورتوں کی صحت پر ترجیح دی جاتی ہے کیونکہ مردوں کو گھر کا چولہا جلانے والا اور روزی روٹی کمانے والا سمجھا جاتا ہے۔ جس کے نتیجے میں ویکسی نیشن کے عمل میں بھی عورتوں کو ترجیح نہیں دی گئی۔ اسی طرح روایتی طور پر عورتیں خاندان میں فیصلہ ساز نہیں ہوتیں اس لیے ویکسی نیشن کے لیے ان کا فیصلہ گھر کے مرد ممبران پر منحصر ہوتا ہے۔
ڈیجیٹل ناخواندگی اور ٹیکنالوجی تک رسائی نہ ہونا بھی عورتوں کی ترقی اور فیصلہ سازی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے بچوں کا فنڈ کے مطابق کرونا وبا سے متعلق عورتوں کی معلومات کو اکثر گھر کے مرد حضرات روک دیتے ہیں اور اس کے علاوہ گھر کے مرد افراد کی جانب سے پابندیوں کی وجہ سے خواتین اپنے آپ کو ویکسین کے لیے رجسٹر نہیں کروا سکتیں۔ اسی طرح اس طرح کی غلط معلومات کہ ویکسین عورتوں کی پیدائش کرنے کی صلاحیت پر اثر انداز ہورہی ہے ایک اور فیکٹر ہے جو کہ صنفی تفریق کا سبب ہے۔ اگرچہ یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ یہ ویکیسن محفوظ ہے اور اس کے کوئی مضر اثرات نہیں ہیں اور نہ ہی یہ شرح پیدائش پر اثر انداز ہوتی ہے تاہم پھر بھی جھوٹی خبروں اور واٹس ایپ گروپوں نے اس ویکسین کے بارے میں غلط افوہوں کو جنم دیا ہے۔
مزید برآں قدامت پسند معاشرتی روایات بھی بہت ساری عورتوں کی راہ میں رکاوٹ ہیں یہی وجہ ہے کہ حکومت کی جانب سے گھر سے باہر بہت ساری سہولیات پر پابندیاں عورتوں کے لیے خطرہ نہیں ہیں۔ ان میں سے حکومت کی جانب سے عائد کردہ دوسخت پابندیاں جو کہ غیر ویکسین زدہ افراد پر عائد ہیں وہ سم کارڈ کی بندش اور تنخواہوں کی بندش ہے ۔ بین الاقوامی ادارے آئی ایل او کے مطابق 5۔8 ملین گھریلو ملازمین کام کررہی ہیں جن میں سے اکثریت بچوں اور عورتوں کی ہے ۔ چونکہ تنخواہون کی بندش غیر روایتی سیکٹرپر اثر انداز نہیں ہوتی اس لیے انہیں ویکسین لگوانے کی جلدی نہیں ہے۔ جہاں تک سم کارڈ کی بندش کا تعلق ہے بہت ساری خواتین کے سم کارڈ ان کے گھر کے مردوں کے نام پر ہوتے ہیں ۔ اسی طرح پاکستان میں عورتوں کو قانونی کاغذات جیسا کہ پاسپورٹ اور شناختی کارڈ جیسی سہولیات بھی حاصل نہیں ہوتیں جو ویکسین کی راہ میں ایک اور رکاوٹ ہے۔
ان تمام پابندیوں کے باوجود اگر خواتین ویکسین کے لیے رجسٹر ہوجائیں تب بھی سفری مشکلات اپنی جگہ باقی ہیں ۔ ایک سستی اور دسترس میں محجفوظ پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت کی عدم دستیابی کی وجہ سے انہیں سفر کے لیے مردوں پر ہی انحصار کرنا پڑتا ہے پس اس کا مطلب ہے کہ ویکسی نیشن سنٹرز تک جانے کے لیے انہیں گھر کے مرد ممبران کی ہی محتاجی کا سامنا ہوگا۔ اگر حکومت صنفی عدسے میں دیکھے تو اسے ویکسی نیشن کے لیے اپنی کوششوں کو نئی جہت دینا ہوگی کیونکہ اگر صنفی تفریق کو مد نظر نہ رکھا گیا تو پاکستان کرونا کے خلاف جنگ ہار سکتا ہے۔ پاکستان کے پاس خواتین ہیلتھ ورکرز کا ایک وسیع نیٹ ورک ہے جسے اس مقصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ پاکستان کا پبلک ہیلتھ سسٹم بہت ہی کمزور ہے یعنی 963 لوگوں کے لیے صرف ایک ڈاکٹر دستیاب ہے اور 1608 لوگوں کے لیے صرف ایک بیڈ میسر ہے ۔ اس لیے ہر ایک کو ویکسی نیشن کی طرف متوجہ ہونا چاہیے تاکہ پاکستان بدترین حالات سے بچ سکے۔
ہفتہ، 25 دسمبر 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

The post کرونا کے خلاف جنگ میں صنفی تفریق کس طرح پاکستان پر اثر انداز ہورہی ہے؟ شفقنا خصوصی appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے