English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

نواز شریف کی واپسی: انصافی حکومت کے تابوت میں آخری کیل

القمر
سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ نواز کے قائد نواز شریف نے جمعرات کو اپنی جلد وطن واپسی کا عندیہ دیا ہے جب کہ ان کے بھائی شہباز شریف نے موجودہ حکومت کے جلد خاتمے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔  لاہور میں خواجہ محمد رفیق کی برسی کے موقع پر ہونے والی تقریب سے ٹیلی فونک خطاب میں سابق وزیراعظم نے حاضرین سے کہا کہ ’میں امید کرتا ہوں آپ سے پاکستان میں جلد ملاقات ہو گی۔‘  نواز شریف کی تقریر سے قبل مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما اور سابق سپیکر ایاز صادق نے بھی اپنی تقریر میں کہا کہ وہ اگلے ماہ نواز شریف کو لینے لندن جا رہے ہیں۔  نواز شریف سے اپنے حالیہ دورہ لندن میں ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے ایاز صادق نے کہا کہ  وہ 20 تاریخ (جنوری) کو دوبارہ لندن جائیں گے۔ ’لوگ پوچھ رہے ہیں کہ کیا لے کر جاؤ گے تو میں بتا رہا ہوں میں تو میاں  نواز شریف کو لینے جاؤں گا۔‘ ایاز صادق نے کہا کہ ’میں نواز شریف سے مل کر آیا ہوں میری مسکراہٹ بتا رہی کہ حالات کیا ہیں۔
اس موقع پر تقریر میں مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں کا دھڑن تختہ ہونےوالاہے، ان کے گھبرانے کا وقت آنے والا ہے۔ نواز شریف کی تازہ تصویر ٹویٹ کرتے ہوئے مریم نواز نے بھی ایک معنی خیز ٹویٹ کیا جس میں انہوں نے لکھا ’میں نے سنا ہے آپ ایک کھلاڑی ہیں۔ آپ سے مل کر خوشی ہوئی میں ہی کوچ ہوں۔نواز شریف اور ایاز صادق کی طرف سے جلد واپسی کے عندیے کے باجود تجزیہ کاروں کے مطابق ابھی سابق وزیراعظم کی وطن واپسی کی فضا ہموار نہیں ہوئی ہے۔ تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ ان کا خیال ہے نواز شریف کو عام انتخابات سے قبل واپس آنا ہی پڑے گا تاہم جتنی دیر کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوتی اور معاملات طے نہیں ہوتے اس سے قبل وہ پاکستان نہیں آئیں گے۔ سہیل وڑائچ کے مطابق نواز شریف اس وقت واپس آئیں گے جب موجود حکومت کے جانے کی بات طے ہو جائے گی۔ ’میرا خیال ہے ان (موجودہ حکومت) کے جانے کی بات چیت چل رہی ہے‘۔
تحریک انصاف کی کے پی کے میں ہار پر عمران خان کا دل یقینا نرم ہوگیا ہوگا کہ کم از کم ن لیگ اور پی پی پی تو کے پی کے میں کہیں نظر نہیں آئیں مگر ان کا دل کسی اور خبر سے بھاری ہورہا ہوگا کیوںکہ حالیہ اجلاس میں انہوں نے حاضرین کو مطلع کیا کہ اب نواز شریف کی سزا ختم کروانے اور اسے چوتھی بار وزیر اعظم بنوانے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ انہیں سمجھ نہیں آرہی کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جس شخص کو ملک کا وزیر اعظم چور لٹیرا کہتا ہو، اب اس کی سزا ختم کروانے کی باتیں کی جارہی ہیں۔ عمران خان نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اگر ایسا ہی ہونا ہے پھر تو سب جیلوں کے دروازے کھول دینے چاہئیں۔ اگر نواز شریف قید نہیں رہے گا تو کسی دوسرے کو قید رکھنے کا کیا جواز ہے۔
 نواز شریف کے بارے میں عمران خان کی پریشانی کے دو پہلو ہیں۔ ایک تو عدالتیں پاناما لیکس میں پکڑے گئے سابق وزیر اعظم کی سزا کیسےختم کرسکتی ہیں۔ اس کا جواب تو عدالتیں ہی دے سکتی ہیں۔ یہ جواب عمران خان کی باتوں جیسا سادہ بھی ہوسکتا ہے کہ: جو عدالت سزا دے سکتی ہے، وہ اسے ختم بھی کرسکتی ہے۔ البتہ عمران خان کو اپنے اطمینان کے لئے یہ سچائی جان لینی چاہئے کہ نواز شریف کو ایک مقدمہ میں ایک مشکوک عدالت نے سزا دی تھی جس کے خلاف اپیلیں اب بھی اعلیٰ عدالتوں کی توجہ کا انتظار کررہی ہیں۔ البتہ اس معاملہ کا دوسرا پہلو ذرا تشویش ناک ہے۔ وہ یہ کہ عمران خان کو کس نے بتایا کہ نواز شریف کی سزا ختم کرنے کی ’منصوبہ بندی ‘ ہورہی ہے اور یہ کہ اس کا منصوبہ ساز کون ہے۔ وہ آخر ملک کے وزیر اعظم ہیں۔ ان کا ذریعہ معلومات بھی یقیناً تگڑا ہی ہوگا۔ اس حوالے سے عمران خان کی پریشانی جائز ہے۔
بات صرف نواز شریف کی واپسی کی ہوتی تو خیر تھی مگر معاملہ شاید اب زیادہ سنگین ہے ۔اسٹیبلشمنٹ وزیراعظم عمران خان کی آخری سپورٹ تھی جسے وہ گنوا چکے۔ آئندہ تین ماہ ان کی سیاست کیلئے بہت اہم ہیں۔ اپوزیشن کیساتھ ڈیل کی خبریں گرم، مارچ میں حکومت جانے کی باتیں ہونے لگی ہیں۔عمران خان کیلئے مشکلات اسی دن سے شروع ہو گئی تھیں جب انہوں نے نئے ڈی جی آئی ایس کے معاملے پر بڑا سخت سٹینڈ لیا تھا۔ اس کے بعد اسٹیبلشمنٹ کے اندر ایسی باتیں شروع ہو گئیں کہ اس بندے کو ہم خود لائے، اسے مکمل سپورٹ دی، لوگوں کی مخالفت برداشت کی، نواز شریف کو اپنا مخالف کیا۔ وہی ہماری اپوائنٹمنٹ روک کر ہمارے لئے شرمندگی کا باعث بنا اور مخالفوں کے سامنے ہمیں کمزور بنا کر پیش کر دیا۔جنرل فیض کی محبت کے چکر میں عمران خان یہ بات بھول گئے تھے کہ دیگر جنرلز اس حوالے سے کیا سوچیں گے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ہمیں نظر آ رہا ہے کہ عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان زیادہ ملاقاتیں نہیں ہو رہی۔ دونوں جانب سے فاصلہ رکھا جا رہا ہے۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے پہلے ہی سے کہا جا رہا تھا کہ شہباز شریف کو وزیراعظم بنا دیا جائے جبکہ نواز شریف پارٹی کے چیئرمین بن کر موجیں کریں لیکن ان کی بات نہیں مانی گئی۔ نواز شریف اپنی ضد پر قائم رہے لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ وہ اور ان کی صاحبزادی مان گئے ہیں کہ عمران خان کو اگلے پانچ سال برداشت کرنے سے بہتر ہے شہباز شریف کو ہی وزارت عظمیٰ کا عہدہ دیدیا جائے۔ اور اس بات کی خبریں بھی سرگرم ہیں کہ عمران خان کے پاس وقت تھوڑا ہے ۔ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات عمران خان حکومت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوں گے۔
ہفتہ، 25 دسمبر 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

The post نواز شریف کی واپسی: انصافی حکومت کے تابوت میں آخری کیل appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے