اسلام آباد ( نمائندہ جسارت)وفاقی وزیر توانائی حماداظہرنے کہاہے کہ زیادہ طلب کی پیش گوئی، ایل این جی کارگوز میں مزیدڈیفالٹ کے خطرات اور بجلی کے پیداواری کارخانوں میں کم اسٹاک کی وجہ سے موسم سرما کیلیے 2 لاکھ ٹن فرنس آئل درآمد کی گئی، نہروں کی سالانہ بندش کی وجہ سے ڈیموں سے پانی کااخراج کم ہواہے اس لیے فرنس آئل سے چلنے والے پلانٹس چل رہے ہیں اورآئندہ چند یوم میں فرنس آئل کی کھپت 13 ہزارٹن یومیہ ہوجائیگی۔ اتوار کوسماجی رابطہ کی ویب سائیٹ ٹوئٹرپرجاری ٹویٹس میں انہوں نے کہاکہ فرنس آئل سے متعلق بعض غلط فہمیوں کی وضاحت ضروری ہے، موسم گرمامیں پاکستان کو فرنس آئل کی معتدل کمی کاسامنا کرنا پڑا تھا کیونکہ پیوستہ سال کے مقابلہ میں ڈیموں میں کم پانی کی وجہ سے پاورپلانٹس زیادہ چلائے گئے، فرنس آئل کی کھپت گزشتہ سال کے مقابلہ میں 116 فیصدزیادہ رہی تھی‘اورآئندہ چند یوم میں فرنس آئل کی کھپت 13 ہزارٹن یومیہ ہوجائیگی۔ مقامی ریفائنریزاس حجم کا نصف پیداوار دے رہی ہے اورآئی پی پیز کے پاس موجودذخائر اب بھی مطلوبہ سطح سے کم ہے۔ وزیرتوانائی نے کہاکہ ایل این جی میں کمی کی صورت میں ملک میں فرنس آئل کے وافر ذخائرموجودہیں۔ بعض ریفائنریزمیں فاضل ذخائرآئی پی پیز کو دی جارہی ہے کیونکہ فرنس آئل کی کھپت پہلے سے ہی 6 ہزارٹن یومیہ کی سطح سے بلند ہے۔ انہوں نے کہاکہ نئی ریفائنری پالیسی کو حتمی شکل دی جارہی ہے تاکہ ریفائنریز کو فرنس آئل کی پیداوارسے شفٹ کیا جاسکے۔
