سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں طارق روڈ پر رفاہی پلاٹ پر مدینہ مسجد کی تعمیر کے معاملہ پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس نے کہا ہے کہ پارک کی زمین پر مسجد بنادی گئی ہے۔
ایڈمنسٹریٹر اوقاف نے کہا اس مسجد کا اوقاف سےکوئ تعلق نہیں ہے۔مسجد کی غیر قانونی تعمیر ہوگئی آپ کو معلوم ہی نہیں ہے جسٹس قاضی امین نے کہا
چیف جسٹس نے کہاپارک کس کے قبضے میں تھا جس پر مسجد بنائی گئی؟سپریم کورٹ کا ایڈمنسٹرئٹر ڈی ایم سی ایسٹ کو پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے کہا آپ لوگوں کوکچھ کرنا ہے یا نہیں ؟ یا ہمارے انتظار میں بیٹھے رہنا ئے ؟ چیف جسٹس کی ڈی سی ایسٹ کی سرزنش آپ لوگوں کا کیا کام ہے ؟ صرف تنخواہیں لینے بیٹھے ہیں آپ
کیا کام ہے صرف کاغذ ادھر اُدھر کرنا ہے ؟ کان سے سنتے ہیں آنکھ سے دیکھتے ہیں؟
چیف جسٹس نے برہم ہوتے ہوئے کہاعدالت نے ایڈمنسٹریٹر ایسٹ اور مسجد انتظامیہ کو فوری پیش ہونے کا حکم دے دیا۔
رفاعی پلاٹس پر مساجد کی تعمیر کے خلاف سپریم کورٹ کا ایکشن
القمر
