English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

شہباز شریف مستقبل کے ڈارک ہارس ثابت ہوں گے؟

القمر
وزیراطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے وفاقی حکومت مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے وطن واپس نہ آنے پر ان کے ضمانتی شہباز شریف کے خلاف کارروائی کے لیے لاہورہائی کورٹ سے رجوع کرے گی۔ وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو علاج کی غرض سے لندن بھیجے جانے کے عدالتی فیصلے میں شہباز شریف کی جانب سے ایک بیان حلفی جمع کرایا گیا تھا، جس میں انہوں نے اپنے بھائی کی پاکستان واپس آنے سے متعلق ضمانت دی تھی، عدالت عالیہ کو اس حوالے سے ازخود نوٹس لیتے ہوئے شہباز شریف کو طلب کرنا چاہیے تھا، لیکن ابھی تک لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے اس معاملے پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی، اس لیے وفاقی حکومت نے اس ضمن میں  شہباز شریف کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے، ان کے خلاف عدالتی کارروائی کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی جائے گی، نواز شریف کی واپسی کے لیے وزیراعظم نے اٹارنی جنرل کوہدایت جاری کی ہے، اٹارنی جنرل سے کہا گیا ہے کہ وہ اس معاملہ کو ہائی کورٹ کے سامنے اٹھائیں۔
یاد رہے کہ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہر طرف سے نواز شریف کی واپسی کی صدائیں سنائی دے رہی ہیں اور وزیر اطلاعات کا یہ بیان سوائے کھمبا نوچنے کے اور کچھ نہیں ہے۔ عمران خان اور ان کی کابینہ اس وقت جس بوکھلاہٹ کا شکار ہے اس سے اس قسم کے بیانات کی توقع عبث نہیں ہے۔ بہر حال اس وقت عمران خان کو نواز شریف سے بھی زیادہ خطرہ شہباز شریف سے ہے۔ کیونکہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے بہت قریب سمجھے جاتے ہیں اور خبر یہ بھی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ان کو وزیر اعظم بنانے پر تیار ہے یہی وجہ ہے کہ عمران خان کا زیادہ زور نواز شریف کی بجائے شہباز شریف پر ہے جو کہ متقدر حلقوں کے قریب سمجھے جاتے ہیں اور عمران خان کی حکومت درحقیقت انہی حلقوں کی مرہون منت ہے۔اس طرح کے بیانات کو مدنظر رکھیں تو حکومت کی کشتی بیچ منجھدار میں نظر آتی ہے۔ معیشت کی غیرمستحکم صورتحال، اور افراط زر میں آنے والی شدت حکومت پر مائیک ٹائسن کے مکوں جیسے وار کرکے نڈھال کر رہی ہے۔ چند حکومتی چہروں نے تو اب بہادری کا مکھوٹا پہننا بھی چھوڑ دیا ہے۔ ہر ہفتہ جب وہ اپنے اپنے حلقہ انتخاب کا رخ کرتے ہیں تو انہیں حقیقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
کسی وقت میں پی ٹی آئی کی سینئر شخصیات اور اسٹیبشلمنٹ کے درمیان پائے جانے والے قریبی تعلقات بھی خرابیوں کا شکار ہیں۔ ایسے معاملات کی جب بات آتی ہے تو ٹھوس معلومات کا ہمیشہ فقدان رہتا ہے مگر درالحکومت کی نوعیت ایسی ہے کہ سرگوشیوں سے اگرچہ تفصیلات تو برآمد نہ ہوں مگر بڑی حد تک معاملے کا ادراک ضرور ہوجاتا ہے۔ اس وقت جو بات سمجھ آ رہی ہے وہ یہ ہے کہ حکومتی سفیروں کی سوچی سمجھی اور نپی تلی کوششوں کے باوجود بھروسے کی کمی سے پیدا ہونے والا خلا پُر نہیں ہوپا رہا ہے۔ آنے والے سالوں میں یہ تعلقات مزید آزمائش سے گزریں گے۔ وزیراعظم عمران خان کو نومبر میں نئے آرمی چیف تعینات کرنا ہے۔ یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس پر سابق وزرا اعظم ایک ہی وقت میں شادمان ہوئے اور ماتم کناں بھی ہوئے۔ فیصلے میں ابھی تقریباً ایک سال کا وقت ہے لیکن یہ معاملہ اس قدر اہمیت رکھتا ہے کہ سیاسی تالاب پر ابھی سی لہریں نمودار ہونے لگی ہیں جو مختلف منظرناموں کو پیدا کر رہی ہیں جن کے اثرات آئندہ ہفتوں میں سب کے سامنے ہوں گے۔
جب تک حکمراں جماعت کے ہاتھ اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں میں تھے تب تک تو اسے پی ڈی ایم کی حکومت گرانے کی کمزور کوششوں کی کوئی فکر نہیں تھی۔ سیاسی بندھن پی ٹی آئی کو پارلیمنٹ میں کم نشستوں، یا اپنے اتحادیوں کی وفاداری یا پھر خارجہ پالیسی کی رسا کشی کی پرواہ کیے بغیر ایک کے بعد دوسرے بحران سے نکالنے میں مددگار رہا۔ جب کبھی پی ٹی آئی قیادت پھلسی یا ڈگمگائی تو اسٹیبشلمنٹ نے اس کو منہ کے بل گرنے سے پہلے تھام لیا کرتی۔ یہ ایک ایسا تعلق تھا جس میں پیار، سہارے، قدردانی کی کوئی کمی نہیں تھی، آگے چل کر یہ سب باتیں وقتی ثابت ہوئیں۔ اس تعلق کے دو فیصلہ کن عناصر کی اہمیت بڑھ رہی ہے: پہلے عنصر کا تعلق اقتصادی صورتحال اور پی ٹی آئی کی ان شدید معاشی طوفانوں میں سے کشتی پار لگانے کی اہلیت کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات سے ہے۔ دوسرے عنصر کا تعلق پی ٹی آئی قیادت اور اسٹیبشلمنٹ کی اعلیٰ کمانڈ کے مابین تعلقات کی نوعیت میں آنے والی تبدیلی سے ہے۔ آنے والے ہفتوں میں یہ دونوں عناصر پرکھے جائیں گے۔
وزیر اعظم نے دو روز پہلے میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے شہباز شریف کی ہر تقریر کو ’درخواست برائے روزگار‘ قرار دیا تھا تو وہ اسی صورت حال کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔ یعنی اپوزیشن بھی اپنی سیاسی کامیابی کے لئے اسی دروازے کی طرف دیکھ رہی ہے جس سے حکومت کو ’اقتدار‘ کی بھیک میسر آتی ہے۔ یقینی طور پر میاں شہباز شریف اس وقت ڈارک ہارس ہیں جو حکومت کے لیے انتہائی خطرہ ہے اور عمران خان کو اس خطرے کا بخوبی ادراک ہے تاہم کھیل ان کے ہاتھ سے نکلتا جارہا ہے۔
اتوار، 2 جنوری 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

The post شہباز شریف مستقبل کے ڈارک ہارس ثابت ہوں گے؟ appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے