English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کیا اومیکرون وائرس ہمیں کرونا کے ڈیلٹا ویرینٹ سے تحفظ فراہم کرتا ہے؟ شفقنا صحت

القمر
جنوبی افریقی سائنسدانوں کی جانب سے ایک تحقیق کے مطابق سارس کووڈ-2 اومیکرون ویرینٹ انفیکشن ڈیلٹا ویرینٹ کے خلاف امنیتی رد عمل کو متحرک کر کے اس کو بے اثر کرتا ہے۔ یعنی کہ اگر کوئی شخص اومیکرون کرونا ویرینٹ سے متاثر ہو جائے تو وہ ڈیلٹا ویرینٹ کے انفیکشنز سے لڑنے کے قابل ہو جائے گا اور اس پر ڈیلٹا ویرینٹ مؤثر نہیں رہے گا۔ سائنسدانوں نے دو طرح کے افراد کو جانچا یعنی وہ لوگ جو ویکسین لگوا چکے تھا اور وہ جو ویکسین زدہ نہیں تھے اور دونوں جنوبی افریقہ میں اومیکرون وائرس کا شکار ہوچکے تھے ۔ جب ان دونوں قسم کے افراد میں وائرس کی علامات سامنے آنا شروع ہوئیں تو ان میں اومیکرون اور ڈیلٹا ویرینٹ کے خلاف مزاحمت کی صلاحیت کو جانچا گیا ۔ دونوں افراد کو 14 دن کے دورانیے میں رکھا گیا۔
اس تجربے سے یہ نتیجہ نکلا کہ ان دو ہفتوں میں اومیکرون سے لڑنے کی صلاحیت میں 14 گنا اضافہ ہوا جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اینٹی باڈیز کے رد عمل میں اضافہ ہوا ہے۔ ریسرچرز نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ ان نتائج سے ڈیلٹا ویرینٹ کو ختم کرنے کی صلاحت میں بھی 4۔4 گنا اضافہ ہوا ہے۔ جنوبی افریقہ کے ادراہ صحت و ریسرچ پروفیسر الیکس سیگل کا کہنا ہے کہ اومیکرون سے متاثرہ شخص میں ڈیلٹا ویرینٹ سے دوبارہ متاثر ہونے کے امکانات میں کمی دیکھی گئی ہے۔ اگر اومیکرون کرونا وائرس کم مرض آور ثابت ہوتا ہے تو اس سے ثابت ہوگا کہ وبا کا رستہ تبدیل ہوگیا ہے۔ اومیکرون اب قابض ہوجائے گا اور ہماری زندگیوں میں رکاوٹوں میں کمی آجائے گی۔
سیگل نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ اومیکرون ڈیلٹا کو باہر نکال دے گا اور ہوسکتا ہے کہ ڈیلٹا کو باہر نکالنا ایک اچھی چیز ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ ہم کسی ایسی چیز کی تلاش میں ہو جس کے ساتھ ہم باآسانی رہ سکیں۔  یہ تحقیق جس کے مطابق اگر اومیکرون انفیکشن ڈیلٹا کو بے اثر کرنے کی امنیت میں اضافہ کرتا ہے ابھی تک کسی سائنسی جرنل میں شائع نہیں ہوئی لیکن تحقیق افریقہ ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ ویب سائٹ پر پیر کو شائع کی گئی ہے۔ ایک مرتبہ اس پر نظر ثانی کے بعد اس کو طبی جریدے میں شائع کیا جائے گا۔ آزادانہ طور پر کام کرنے والے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ جنوبی افریقین تجربے کی ابھی تک تصدیق نہیں ہوسکی تاہم یہ نتائج کسی حد تک عقل کا عنصر رکھتے ہیں لندن سکول آف حفظان صحت اور ٹراپیکل میڈیسین کے ایپی ڈرمالوجسٹ کارل پیئرسن کا کہنا ہے کہ یہ اعدادوشمار بالکل اسی طرح ہیں جس طرح انگلینڈ میں ہورہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اومیکرون آتا ہے اور تیزی سے پھیلتا ہے اور ڈیلٹا کا ٹرینڈ آہستہ آہستہ زوال پزیر ہوتا ہے۔ ییلے سکول آف پبلک ہیلتھ کے ایک اور ایپی ڈرمالوجسٹ ناتھن گروباخ کا کہنا تھا کہ وہ اسی طرح کا ٹرینڈ امریکہ میں دیکھ رہے ہیں۔ یعنی اومیکرون تیزی سے بڑھ رہا ہے اور ڈیلٹا کے کیسز کم ہوتے جارہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب ہے کہ اومیکرون کمزور اور حساس افراد میں ڈیلٹا کا مقابلہ کررہا ہے جس کے نتیجے میں یہ افراد ڈیلٹا کے خلاف کم کمزور ثابت ہوں گے اور ڈیلٹا کے کسیز میں کمی دیکھی جائے گی۔
کرونا وائرس کو سامنے آئے دو سال کا عرصہ ہوگیا ہے اور اس دوران اس نے لوگوں کی زندگیوں کو تہہ و بالا کر دیا ہے اور روزہ مرہ کے کاموں کو، معیشت کو اور معاشرتی ساخت کو تباہی سے دورچار کر دیا۔ جب لوگ پہلی مرتبہ اس وائرس کا شکار ہوئے تو ان میں اس وائرس سے لڑنے کے لیے اینٹی باڈیز اور امنیتی سیلز پیدا ہوئے۔ پس یہی وجہ ہے کہ ایک مرتبہ کرونا سے صحتیاب ہونے کے بعد اس سے دوبارہ متاثر ہونے کا امکان کم رہ گیا تھا۔تاہم 2020 کے اواخر میں کرونا ویرینٹس جیسا کہ الفا اور بیٹا کی آمد کے ساتھ یہ صورتحال تبدیل ہوگئی۔ الفا ویرینٹ میں ایسی میوٹیشنز تھیں جو کہ تیزی سے پھیلیں جیسا کہ بیٹا میں ایسی تبدیلیاں موجود تھیں کہ وہ اینٹی باڈیز سے خود کو محفوظ رکھ سکتا تھا۔
ہفتہ، یکم جنوری 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

The post کیا اومیکرون وائرس ہمیں کرونا کے ڈیلٹا ویرینٹ سے تحفظ فراہم کرتا ہے؟ شفقنا صحت appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے