جنیوا(انٹرنیشنل ڈیسک) انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے نے کہا ہے کہ میانمر میں رواں سال آبادی کے تقریباً ایک چوتھائی حصے یا ایک کروڑ40 لاکھ سے زائد افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہوگی۔ اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر برائے انسانی معاملات او سی ایچ اے نے میانمر میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی ضرورت سے متعلق ایک رپورٹ جاری کی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال فروری میں فوجی بغاوت کے بعد میانمار میں خوراک اور ایندھن کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ہوا ہے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس کی عالمی وباکے باعث ملک کی انسانی صورت حال مزید سنگین ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک کروڑ44 لاکھ افراد کو خوراک و طبی سامان جیسی امداد کی ضرورت ہوگی۔ او سی ایچ اے نے تعلیم پر کورونا وائرس کی وبا کے اثرات سے متعلق تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ 2020ء اور 2021ء میں اسکولوں کی بندش سے تقریباً ایک کروڑ20 لاکھ بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق میانمر کے لوگوں کو ایسے سیاسی، معاشرتی واقتصادی، انسانی حقوق اور انسانی امداد کے بحران کا سامنا ہے جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی اور اس کے ساتھ ضروریات ڈرامائی انداز میں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔
میانمر میں غذائی قلت ،لاکھوں شہری امدادکے منتظر
القمر
