راولپنڈی(خبرایجنسیاں) پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ نواز شریف سے ڈیل کی باتیں بے بنیاد ہیں جب کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے سیز فائر 9 دسمبر کو ختم ہوگیا، اب ان کے خلاف آپریشن ہورہا ہے۔ بدھ کو آئی ایس پی آر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جو ڈیل کی باتیں کررہے ہیں ان سے پوچھیں یہ ڈیل کون کررہا ہے اور اس کے محرکات اور ثبوت کیا ہیں، کہیں تفصیلات بھی بتائے، درحقیقت ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ فوجی ترجمان نے کہا کہ سول ملٹری تعلقات میں کوئی مسئلہ نہیں ہے، مسلح افواج حکومت پاکستان کے ماتحت ادارہ ہے ، شام کو ٹی وی پروگرام میں باتیں ہوتی ہیں اسٹیبلشمنٹ نے یہ کردیا وہ کردیا، گزارش ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو اس بحث سے دور رکھیں،عوامی اور قومی ایشوز پر توجہ دی جائے۔میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت سے متعلق قیاس آرائیاں بھی نہ کی جائیں،معاشی چیلنجز کے باوجود دفاعی آپریشن پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کی طرح پاک فوج کو بھی مہنگائی کا احساس ہے ، پاک فوج بھی ایک عام آدمی کی طرح چیزیں خریدتی ہے ہمیں عام لوگوں کا بھی خیال ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے اثرات پاکستان کی سیکورٹی پر پڑے، بارڈر مینجمنٹ کے تحت پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے کا کام 94 فیصد مکمل ہوچکا ہے، یہ امن کی باڑ ہے اور یہ ضرور مکمل ہوگی، اس باڑ کو لگانے میں ہمارے شہدا کا خون شامل ہے، باڑ کا مقصد دونوں اطراف کے لوگوں کو تقسیم کرنانہیں بلکہ محفوظ بنانا ہے، پاک ایران بارڈرپرباڑلگانے کاکام بھی 71فیصد مکمل ہوچکا ہے جبکہ نیشنل سیکورٹی پالیسی پر عمل کے لیے فریم ورک بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کسی بھی مسلح فرد یا گروہ کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، طاقت کا استعمال صرف ریاست کا استحقاق ہے، نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی گئی، جن علاقوں میں آپریشنز کیے گئے وہاں حالات معمول پرآرہے ہیں۔میجر جنرل بابر افتخار کے مطابق کچھ عرصے سے پاکستان کے مختلف اداروں اور شخصیات کیخلاف منظم مہم چلائی جارہی ہے جس کا مقصد حکومت، عوام، اداروں اور افواج کے درمیان خلیج پیدا کرنا اور اداروں پر عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانا ہے، ہم ایسی تمام سرگرمیوں کے حوالے سے آگاہ ہیں بلکہ ان کے لنکس کو بھی جانتے ہیں جو ملک میں اور بیرون ملک بیٹھے یہ کام کر رہے ہیں، پاکستان اور پاکستان سے باہر بیٹھے یہ عناصر فیک نیوز اور من گھڑت باتوں سے اداروں کے بیچ جو دراڑ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں اس میں پہلے بھی ناکام ہوئے اب بھی ہوں گے۔فوجی ترجمان نے کہا کہ اس پروپگنڈے کا سدباب کرنے اور اس میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے اجتماعی سطح پر اقدامات کرنے اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے قوانین کی ضرورت ہے، حکومت اس سلسلے میں اقدامات کررہی ہے، جھوٹی خبروں کو انفرادی سطح پر بھی روکنے کی ضرورت ہے اور قانون سازی بھی کرنی ہوگی۔انہوں نے بتایا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے قیدی رہا نہیں کیے گئے بلکہ ان کے خلاف آپریشنز جاری ہے۔بابر افتخار کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارتی فوج دہشت گردی کے نام پر مظلوم کشمیریوں کو شہید کررہی ہے، بھارت کنٹرول لائن کے اردگرد بسنے والے لوگوں کو شہید کرچکا ہے اور مقبوضہ کشمیر میں بدترین ریاستی مظالم سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے، بھارت اندرونی طور پر مذہبی انتہا پسندی کا شکار ہے، بھارتی فوجی قیادت کی جانب سے منفی اور جھوٹا پروپیگنڈا کیا گیا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ کراچی میں بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ اور اسٹریٹ کرائمز کی شرح میں واضح کمی آئی ہے، نیشنل ایکشن پلان کے تحت کراچی میں78کارروائیاں کی گئیں۔
