اسلام آباد(نمائندہ جسارت) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی طرح پیپلزپارٹی اور ن لیگ فنڈنگ کی بھی اسکروٹنی کے منتظر ہوں، جس کے نتیجے میں قوم کو حقیقی سیاسی فنڈ ریزنگ ، سرمایہ داروں کے مفادات اور احسانات کے بدلے پیسے کی بھتہ خوری کے درمیان فرق دیکھنے کو ملے گا۔ٹویٹر پر جاری بیان میں ان کا کہنا تھاکہ پی ٹی آئی فنڈنگ پرالیکشن کمیشن کی جانچ پڑتال کا خیرمقدم کرتا ہوں، اکاؤنٹس کی جتنی جانچ
ہوقوم کے لیے اتنے ہی حقائق کی وضاحت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پتا چلے گا کہ پی ٹی آئی واحد جماعت ہے جس کی بنیاد سیاسی فنڈ ریزنگ پرہے۔علاوہ ازیں اپنے بیانمیں وزیراعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں اقوام متحدہ کی زیر نگرانی رائے شماری کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا وعدہ ابھی پورانہیں ہوا کیونکہ ہندوتوا مودی حکومت ڈھٹائی سے سلامتی کونسل کی قراردادوں، انسانی ہمدردی کے قوانین اورچوتھے جنیوا کنونشن سمیت عالمی کنونشنز کی خلاف ورزی کر رہی ہے اور غیر قانونی زیرتسلط جمو ں کشمیر کی حیثیت اور آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوشش کرکے جنگی جرائم کی مرتکب ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ کو مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارت کے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم پر کارروائی کرنی چاہیے کیونکہ کشمیری بھارتی قبضے اورظلم و جبر کو مسترد اور مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیں، پاکستان کشمیریوں کی حق خودارادیت کی منصفانہ جدوجہد کے لیے اپنے عزم پر ثابت قدم ہے۔مزید برآں ہکلہ-ڈیراہ اسماعیل خان موٹروے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ سی پیک کے مغربی روٹ سے پسماندہ علاقوں میں ترقی ہوگی،بدعنوانی کے خاتمے کا فائدہ پوری قوم کو ہوگا، پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے، جتنے پیسے پچھلوں نے خرچ کئے تھے اتنے پیسوں میں ہم نے دگنی سڑکیں بنادی ہیں، 2013ء کے مقابلہ میں آج سستی سڑکیں بن رہی ہیں اس کا مطلب کسی کی جیب میں بہت زیادہ پیسہ جارہا تھا، کم ازکم ایک ہزارارب روپیہ لوگوں کی جیبوں میں گیا۔
