English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کی اہم امور پر بریفنگ

القمر

سال2021کے اختتام پر پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے انتہائی اہم پریس بریفنگ دی۔ پریس بریفنگ کا مقصدنیشنل سیکیورٹی ڈومین میں خطّے کے بدلتے حالات کے تناظر میں ملکی دفاع، داخلی سلامتی، بالخصوص آپریشن ردّالفساد کے تحت مختلف اقدامات کا اِحاطہ کرنا تھا۔
‏ *EASTERN WESTERN BORDER MANAGEMENT*
پاک بھارت DGs MOکے مابین2003ء کےCease Fire Agreementپر عملدراآمد کے حوالے سے فروری2021ء میں جو رابطہ ہوا اس کے بعد سے LOC پُرا من رہی۔ جس سے مقامی آبادی کے روز مرہ حالات میں کافی بہتری آئی۔
ہندوستانی لیڈر شپ کی گیدڑ بھبکیاں اور LOCپر پاکستان کی جانب سےInfiltrationکا مسلسل جھوٹا پراپیگنڈہ ایک خاص politicalایجنڈے کی عکاسی ہے۔ جس کا بنیادی مقصدIIOJKمیں بدترین ریاستی مظالم اور ڈیموگرافی میں ہندوستان جو تبدیلیاں کرنے کی کوشش کر رہا ہے اُس سے توجہ ہٹانا ہے۔
ایک طرف تو ہندوستان اندرونی طور پر مذہبی انتہا پسندی اورSaffroniation کی طرف گامزن ہے۔جس کا چرچہ اب پوری دُنیا میں ہے۔
۔ دوسری جانب ہندوستان نے خطے کے امن کو داؤ پر لگاتے ہوئے Defence Procurementکا نہ رکنے والا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔
اس سے نہ صرف روائتی جنگ میں طاقت کا توازن متاثر ہو گا بلکہ خطے میں اسلحہ کی دوڑ سے امن پر شدید منفی اثرات مرتب ہونگے۔
‏LOCپرہندوستان کے سیکیورٹی میکنزم بشمول Anti Infiltration Gridکی موجودگی میں Infiltrationکا جھوٹا پروپیگنڈہ انتہائی مضحکہ خیزاور خود اُن کے سیکیورٹی میکنزم پر سوالیہ نشان ہے؟
حال ہی میں ہندوستان کی فوج نے نیلم ویلی کے سامنے کرن سیکٹر میں دراندازی کے نام پر ایک اور Fake Encounterمیں ایک معصوم کشمیری کو شہید کر دیا اور الزام پاکستان پر لگا دیا۔
جس شبیر نامی مبینہ دہشتگرد کی یونیفارم میں تصاویر ہندوستانی میڈیا چلا رہا ہے وہ نہ صرف زندہ ہے بلکہ اس وقت بھی آزاد کشمیر کے علاقے شاردہ میں ریٹائرڈ زندگی گزار رہا ہے۔
۔ اس سے پہلے بھی ہندوستان LOCکے اردگرد بسنے والے کئی ایسے بے گناہ لوگوں کو شہید کر چکا ہے۔
حقیقت میں ہندوستان کشمیر کی Indigenous Freedom Struggleکو ہمیشہ Externaliseکرنے کی کوششوں میں سر گرم رہتا ہے۔لیکن اب تو ہندوستان اور خاص طور پر مقبوضہ کشمیر کی مستند سیاسی قیادت اور دُنیا بھر سے آوازیں اُٹھ رہی ہیں کہ بھارتی فوج دہشتگردی کے نام پر بے گناہ معصوم کشمیریوں کو نشانہ بنا رہی ہیں اور اُن کی آزادی کی IndigenousاورCompletely Legitimate تحریکِ آزادی کو ناجائز طور پر مسخ کرنے کے درپے ہے۔
سچ یہ ہے کہ کشمیر میں انسانی تاریخ کا بد ترین محاصرہ اگست2019 سے جاری ہے۔
کشمیر یوں کی نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے۔ اُن کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کا گھناؤنا کھیل تمام بین الاقوامی قوانین کو پامال کرتے ہوئے جاری ہے۔
ایک عالمی جریدے کی27اکتوبر کی رپورٹ میں لکھا ہے کہ کس طرح ہندوستان کے اگست2019کے غیر قانونی اقدام نے ایک خراب صورتحال کو بدترین انسانی اَلمیے میں تبدیل کیا ہے۔
اس حوالے سے17-19دسمبر کو سرا جیو میں منعقد ہونے میں Russel Tribunal on KashmirکیFindingsچشم کُشا ہیں۔
اسTribunalمیں 15بین الاقوامی ججز کے علاوہ بین الاقوامی ماہرین نے شرکت کی۔
۔ Russel Tribunal on Kashmirنے4ایریازکو فوکس کیا۔ جس میں Genocide، Decolonization، Settler Colonialism اور کشمیریوں کے خلاف جنگی جرائم شامل ہیں۔
اس Tribunalکے شرکاء نےHuman Rights Watchاور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹس جو کہ ہندوستان کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے متعلق تھیں، کا خاص طور پر ذکر کیا کہ کس طرح7دہائیوں سے ہندوستان کی کشمیریوں کے خلاف فوجی، سیاسی، معاشی، سماجی اور ثقافتی جنگ جاری ہے اور کس طرح وہ جنیوا کنونشن اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
5جنوری کے موقع پر کشمیری عوام کو اپنے حقِ خود ارادیت کیلئے، جس کا وعدہ اقوامِ متحدہ نے1949میں کیا تھا، کیلئے لازوال جدوجہد اور اُن کی بے مثال بہادری اور قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔
‏On 5th Jan 1949, the people of Kashmir were promised right to self-determination by United Nation. That promise still remains unfulfilled.

۔ *WESTERN BORDER* پر سیکیورٹی کی صورتحال 2021میں Challengingرہی۔
۔ Western Border Management خصوصاََ پاک افغان بارڈرکے لوکل/ آپریشنل اور Strategic Dynamicsہیں۔جنہیں متعلقہ سطح پر addressکیا جا رہا ہے۔
شمالی وزیرستان میں ایک اہم آپریشن دُواتوئی کیا گیا۔ جس کے نتیجے میں پاک افغان بارڈر پر مکمل ریاستی رِٹ بحال ہوئی۔
یہ ایک ایسا علاقہ تھا جہاں مشکل ترین موسمی حالات اور Inaccessible areas دہشتگردوں کو بارڈر کے دونوں جانب نقل وحرکت کی سہولت میسر کرتے تھے۔ Terrainاور شدید موسمی حالات کے باعث اس علاقے میں فینسنگ کا کام بھی شروع نہیں کیا جا سکا تھا جو اس آپریشن کے بعد مکمل کر لیا گیا ہے۔
اگست 2021میں افغانستان سے غیر ملکی افواج کا اچانک انخلاء اور اس سے پیدا ہونے والی صورتحال کے بھی براہِ راست اثرات پاکستان کی سیکیورٹی پر ہوئے۔
ہم مکمل طور پر Focusedہیں اور Western Border Management Regimeکے تحت جو کام جاری ہیں وہ معینہ مدت میں پایہئ تکمیل کو پہنچیں گے۔
بارڈر مینجمنٹ کے تحت پاک افغان بین الاقوامی سرحد کی باڑ کا کام تقریباََمکمل(94%) کرلیا گیا ہے اور پاک ایران بارڈر پر 71% سے زائد کا کام ہوچکا ہے۔
پاک-افغان بین الاقوامی سرحد پر لگائی یہFence دونوں اطراف بسنے والے لوگوں کوSecurity، آمدورفت اور تجارت کوRegulateکرنے کیلئے وقت کی اشد ضرورت ہے۔ اس کا مقصد لوگوں کو تقسیم کرنا نہیں بلکہ محفوظ بنانا ہے۔
بارڈر ایریاز کے لوگ ٹرمینلز اور Designated Xrosing Pointsسے طے شدہ طریقہ کار کے مطابق آ جا سکتے ہیں۔ اس طریقہ کار کو وقت کے ساتھ مزید مؤثر بنایا جائے گا۔
اس باڑ کے لگانے میں ہمارے شہداء کا خون شامل ہے۔ امن کی یہ باڑلگے گی اور انشا اللہ قائم رہے گی۔
افواہوں، غلط فہمیوں اور Spoilers کا سدِّباب کرتے ہوئے Area Specific اِکا دُکا واقعات اور مسائل کو بردباری اور مکمل احتیاط سے حل کرنا ہے تاکہ بنیادی مقصد یعنی امن کا حصول ممکن بنایا جا سکے۔ اس حوالے سے پاک-افغان حکومتی سطح پر دونوں اطراف پر مکمل ہم آہنگی ہے۔
پاک افغان سرحد پر پاکستان کی1200سے زائد بارڈ پوسٹس ہیں جبکہ سرحد کی دوسری جانب377بارڈ رپوسٹ ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک سے دوسری پوسٹ کے درمیان کم از کم 7-8کلو میٹر کا فاصلہ ہے۔
جس کے نتیجے میں دوسری جانب سے کسی بھی غیر قانونیmovementاور تخریبی کارروائی کو checkکرنا ایک challengeہے۔
2021میں پاک افغان بارڈر پر 164 اور پاک ایران بارڈر پر 31بارڈر فورٹس اور 60واچ ٹاورز کی تعمیر ہو چکی ہے جبکہ مجموعی طورپر اب تک673 فورٹس / بارڈر پوسٹس اور بارڈر ٹرمینلز تعمیر کئے جا چکے ہیں۔
پاکستان نے بارڈر سیکیورٹی کو مستحکم کرنے کیلئے FC بلوچستان اور FC KP کیلئے 67نئے وِنگز قائم کیے جبکہ مزید6 وِنگز کا قیام in processہے۔ طور خم، خرلاچی، غلام خان، انگور اڈہ، بدینی اور چمن بارڈر ٹرمینلز کے ذریعے تمامCargoاو ر پیدل نقل وحرکت کوensureکیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں سمگلنگ اور نارکو ٹریفک پر قابو پانے میں خاطر خواہ کامیابی ہوئی۔
افغانستان کی موجودہ صورتحال ایک سنگین انسانی اَلمیے کو جنم دے سکتی ہے۔ جس کا براہِ راست اثر پاکستان اور خطے کی سلامتی اور سیکیورٹی پر ہو گا۔
آرمی چیف نے بھی اس حوالے سے مختلف فورمز اورInternational Delegationsکے ساتھ ملاقاتوں میں اس کی نشاندہی کی ہے۔

‏Operation Radd-ul-Fassad
اگر ہم آپریشن ردّالفساد کا جائزہ لیں تویہ آپریشن دیگر آپریشنز کے مقابلے میں مختلف ہے۔یہ نہ توArea Specificہے اور نہ ہیMilitary Specificہے۔
پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشن کر کے اُن کے تمامOrganized Infrastructueکو تباہ کیا اور کئی دہشت گرد تنظیموں کا مکمل صفایا کیا۔
آپریشن ردّالفساد کے تحتصرف2021 کے دوران چھوٹے بڑے60,080 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کئے گئے۔
اس حوالے سے پاکستان کی سول / ملٹری انٹیلی جنس ایجنسیز، LEA’sاور سیکیورٹی فورسز نے شاندار اقدامات کیے اور دہشتگردوں کے نیٹ ورکس کو پکڑنے اور اُنہیں ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
انٹیلی جنس ایجنسیز نے2021میں 890 Threat Alertsجاری کیں۔جس کی بنا ء پردہشتگردی کے کئی ممکنہ واقعات کو روکنے میں کامیابی ہوئی۔
جو دہشتگردی کے واقعات ہوئے ان میں ملوث terrorists، plannersاورfacilitatorsکو بے نقاب/گرفتار کیا گیا۔
اس کے ساتھ ساتھ بلوچستان اور KPمیں پولیو مہم پر اثر انداز ہونے کیلئے پولیو سیکورٹی ٹیمز کو نشانہ بنایا گیا۔
تاہم چیلنجز کے باوجود پولیو مہم کا میابی سے جاری رہی۔ اسی حوالے سے پولیو ورکرز اور سیکورٹی ٹیم کی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں۔جنہوں نے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے پولیو فری پاکستان کے لئے اس عمل کو جاری رکھا۔
ایک Dedicated Effort کے ذریعے قبائلی علاقوں میں 95 De-mining Teams کو employ کیا گیا جس کے ذریعے دہشتگردوں کی جانب سے لگائی گئیں 69 ہزار Mines کو Recoverکیا جا گیا اور بہت سی قیمتی جانوں کو بچایا گیا۔
‏De-miningکے دوران سیکیورٹی فورسز کے بہت سے اہلکار زخمی اورشہید بھی ہوئے۔
کراچی جس کا شمار آبادی کے لحاظ سے دُنیا کے بڑے شہروں میں ہوتا ہے اور پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتاہے۔ 2014میں کراچیCrime Indexمیں دُنیا میں چھٹے نمبر پر تھا۔
2021 میں improveہو کر 129 نمبرپر آچکا ہے۔یہ Developed World کے بڑے Capitalsسے بہتر امن وامان کی صورتحال میں ہے۔ کراچی میں دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ،بھتہ خوری اور اغواء برائے تاوان کے واقعات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔2021میں 248آفیسرز اور جوانوں نے مختلف آپریشنز میں دفاعِ وطن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
ہم شہداء پاکستان اور اِن کے لواحقین کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں، جن کی قربانیوں سے ہی امن قائم ہوا ہے۔
ان آپریشنز کے دوران ایک لاکھ34 ہزار سے زائد غیر قانونی اسلحہ اور 9 ملین سے زائدایمونیشن ملک بھر سے Recover کیا گیا۔
‏LEAs کی Capacity enhancement پر خصوصی توجہ دی گئی۔اس حوالے سےLevies / Khasadarsکے17958افراد کو 3مراحل میں تربیت مہیا کی گئی جبکہ مزید3992افراد کوچوتھے مرحلے کے تحت تربیت دی جا رہی ہے۔
یہ اہلکار تربیت کے بعد Newly Merged Districts اورKPمیں اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔
‏NAPکے تحت 78سے زائد دہشت گرد تنظیموں اور سرکردہ دہشت گردوں کے خلاف بھرپور ایکشن کیا گیا۔
نیشنل ایکشن پلان اور پیغامِ پاکستان پر مکمل عمل درآمد کرکے انتہا پسندی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
‏Hate Speech اور شدت پسند مواد پر پابندی لگانے کے ساتھ ساتھ دہشت گردوں کے بیانیے اور اس کی تشہیر کو مؤثر طریقے سے ناکام بنایا گیا۔
۔ خاص کر وہ نکات جو کہ فرقہ واریت، لسانیت اور نفرت انگیز مواد کے متعلق ہیں اُن اقدامات پر عمل درآمد سے ہی معاشرے میں ہم آہنگی اور رواداری قائم کی جا سکتی ہے۔
اس حوالے سے علماء کرام، میڈیا اور عوام نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے جو کہ قابلِ ستائش ہے۔
کسی بھی فرد یا مسلح گروہ کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
قانون کی بالادستی اور پاسداری سے معاشرے ترقی کرتے ہیں۔
طاقت کا استعمال صرف ریاست کا استحقاق ہے اور اس حوالے سے کسی سے بھی کوئی رعائت نہیں برتی جائے گی۔
خطّے کے بدلتے سیکیورٹیMatrixکی مناسبت سے ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج ملکی جغرافیائی سرحدوں کا دِفاع اورداخلی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے اپنی صلاحیتوں اور اِستعداد کو Emerging Challengesسے ہم آہنگ رکھیں۔ اس ضمن میں معاشی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے دِفاعی پیداوار میں خودانحصاری کیلئے بیشتر اقدامات کئے گئے۔ مسلح افواج سے منسلک دفاعی پیداوار کے ادارےHIT، POF،PAC، NRTCوغیرہ نے اس مدّ میں خاطر خواہ کامیاب projectsکئے جن سے نہ صرف قومی پیسے کی بچت ہوئی بلکہ دفاعی سازو سامان کی exportسے زرِ مبادلہ کے ذخائر میں بھی اضافہ ہو اہے۔

‏SOCIO ECONOMIC UPLIFT

جن علاقوں میں آپریشنز کئے گئے تھے وہاں Normalcyلوٹ رہی ہے اور وہاں لوگوں کی فلاح وبہبود کیلئے مختلف اقدامات کئے جا رہے ہیں۔
ترقی کے ان منصوبوں کیلئے فورسز سیکیورٹی مہیا کر رہی ہیں۔
‏ *KP*
‏KPکے قبائلی اضلاع میں 31بلین لاگت سے زائد کے 831 ترقیاتی منصوبے شروع کئے گئے۔جن سے مقامی افراد کو فائدہ ہو رہا ہے۔
‏SecurityاورStabilityکے باعث2021میں 558ایسے منصوبے پایہئ تکمیل تک پہنچے ہیں۔ان میں مارکیٹس، تعلیمی ادارے، ہسپتال اور Communication Infrastructureکے منصوبے شامل ہیں۔
‏ *BALOCHISTAN / CPEC*
بلوچستان میں ملک دُشمن عناصر کی CPEC اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کو ثبوتاژ کرنے کی تمام مذموم کوششیں ناکام ہو رہی ہیں۔
‏CPECاور دیگر منصوبوں کی سیکیورٹی کو پاک افواج بیش بہا قربانیاں دے کر یقینی بنا رہی ہیں۔
حال ہی میں آپ نے کروٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کا دورہ کیا ہے جوکہ93%مکمل ہو چکا ہے۔جس سے نیشنل پاور گرڈ میں 720میگا واٹ شامل ہونگے۔اس منصوبے سے مقامی آبادی کو خاطر خواہ فائدہ ہو گا۔
سُکھی کناری ہائیڈرو پاور پراجیکٹ بھی تکمیل کے مراحل میں ہے۔تمام چیلنجز کے باوجود کسی منصوبے کی progress میں خلل نہیں آنے دیا گیا۔
اس ضمن میں ملک کے طول و عرض میں جاری کئیprojects پر پیش رَفت کے حوالے سے آپ کو وہاں لیکر جائیں گے تاکہ آپ خود اُن کو رپورٹ کر سکیں۔
اس کے علاوہ بلوچستان میں وفاقی حکومت کے ویژن بلوچستان کے تحت199 Developmental Projects جن کی لاگت تقریباََ 601بلین ہے، کا آغاز کیا جا چکا ہے۔ جس میں ہیلتھ کے 10، ایجوکیشن کے 18، ایگری کلچر کے20 اور ٹرانسپورٹ کے42 چندبڑے اہم منصوبے شامل ہیں۔ان تمام منصوبوں کو مکمل سیکیورٹی مہیا کی جارہی ہے تاکہ یہ بروقت مکمل ہو جائیں اور بلوچستان کے عوام ان سے مُستفید ہو سکیں۔

‏ *COVID-19*
۔ افواجِ پاکستان کووڈ کے خلاف جاری کاوشوں میں بھرپور سر گرم ہیں۔اس حوالے سےMandatory Vaccinationکا عمل جاری ہے جو کہ اس وَبا کے خلاف ایک مؤثر ہتھیار ہے۔عوام اور خاص کر میڈیا نے کووڈ آگاہی اور کووڈ پروٹوکولز کیimplementation میں زبردست کردار ادا کیا ہے۔
تازہ ترین رِپورٹس کے مطابق نئےvarientکے آنے کے بعد cases میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہو رہا ہے۔NCOC نے اس حوالے سے ہدایات جاری کیں ہیں۔حفاظتی تدابیر پر عمل ہی کووڈ کے خلاف ایک موثر ہتھیار ہے۔

‏Military Exercises

کووڈ کے چیلنجز کے باوجود مسلح افواج نے مختلف انٹرنیشنل ملٹری Exercisesمیں حصہ لیا،جس میں امریکہ، رُوس، سعودی عرب، چائنہ، ترکی، مصر، آذربائجان اور اُردن کی افواج کے ساتھ مشقیں قابلِ ذکرتھیں۔
اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں International PACESمقابلوں کا انعقاد ہوا جس میں 107 انٹرنیشل کھلاڑیوں نے شرکت کی۔
اس کے علاوہ World Military Shooting Championship کا انعقاد بھی ہوا۔جس میں 41انٹرنیشنل کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔
روس میں ہونے والے ورلڈ ملٹری باکسنگ چیمپئن شپ مقابلے میں پاکستان آرمی کے باکسر سپاہی بلال ضیا ء نے کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔

پاکستان مخالف پروپیگنڈہ

کچھ عرصے سے پاکستان کے مختلف اداروں کے خلاف ایک منظم مہم چلائی جاری رہی ہے۔جس کا بُنیادی مقصد حکومت، عوام اداروں اور افواجِ پاکستان کے درمیان خلیج پیدا کرنا اور اداروں پر سے عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانا تھا۔
ہم ایسی تمام سرگرمیوں کے حوالے سے نہ صرف آگاہ ہیں بلکہ اُن کے مختلف Linkages سے بھی واقف ہیں۔
پاکستان میں اور پاکستان سے باہربیٹھے وہ لوگ جوhalf truths، fake newsاور من گھڑت جھوٹے پروپیگنڈے سے اداروں اور شخصیات کو نشانہ بنا کر پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوششوں میں ہمہ تن مصروف ہیں۔ پہلے بھی ناکام ہوئے ہیں اور آئیندہ بھی ہوں گے۔

افواجِ پاکستان کی طاقت عوام سے ہے اور اس رشتے میں دراڑ ڈالنے کی تمام کوششیں ناکام ہونگی۔
‏ *Diamond Jubilee Celebrations*
2022پاکستان کی آزادی کے75سالہ تقریبات کا سال ہے۔
ان گزرے سالوں میں پاکستان کو کئی آزمائشوں سے گزرنا پڑا۔
لیکن ہم نے من حیث القوم ان تمام چیلنجز کا بھرپور مقابلہ کیا۔ آئیے اسلاف کی قربانیوں کی تجدید کرتے ہوئے پاکستان کو ایک خُوشحال، پُر امن اور محفوظ مُلک بنانے کیلئے اپنا اپنا انفرادی اور اجتماعی کردار ادا کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے