بھارت میں مسلمانوں سے نفرت اور انتہاپسندی کے واقعات میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے اور اس کی تازہ ترین مثال آن لائن بھارتی ایپ ‘بلی بائی ‘ پر نیلامی کے لیے پیش کی گئی 100 مسلم خواتین ہیں۔ قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق، بھارتی ایپ ’بُلی بائی‘ پر 100 مسلمان خواتین کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے انھیں ’ آن لائن نیلامی ‘کے لیے پیش کیا گیا ہے ۔ نیلامی کے لیے پیش کی گئی خواتین کی تصویروں میں مسلمان اداکارہ شبانہ اعظمی، کم عمر نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی ، دہلی ہائی کورٹ کے جج کی اہلیہ سمیت کئی مسلم سیاستدان اور سماجی کارکن خواتین شامل ہیں۔ خیال رہے کہ یہ دوسرا موقع ہے جب مسلمان خواتین کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے انھیں نیلامی کے لیے پیش کیا گیا ہے، گزشتہ برس بھی سلی ڈیلز نامی بھارتی ایپ پر 80 سے زائد مسلمان خواتین کو فروخت کے لیے پیش کرکے ان کی توہین کی گئی تھی۔ لہٰذا بُلی بائی ایک سال سے بھی کم عرصے میں اس طرح کی دوسری کوشش ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ 17 دسمبر سے 19 دسمبر 2021 کے درمیان اترا کھنڈ میں دھرم سنسد منعقد کی گئی ، اس میں شدت پسند سادھوﺅں نے مسلمانوں کے قتل کرنے کی تجویز پاس کی ، بھارت کو روہنگیا بنانے کی بات کی ، ایک سادھونے ملک کے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے سینے میں چھ گولیاں داغنے کی خواہش ظاہر کی ، آزاد ہندوستان کے پہلے دہشت گرد ناتھورام گوڈ سے زندہ باد کے نعرے لگائے گئے ، اس کو ملک کا محسن بتایا گیا ، اسی طرح کی ایک دھرم سنسد چھتیس گڑھ کی راجدھانی رائے پور میں ہوئی جہاں مہاتما گاندھی کی شان میں گستاخی کی گئی ، ان کیلئے انتہائی نازیبا کلمات کا استعمال کیا گیا جس کیلئے پور ے ملک نے ناراضگی کا اظہار کیا ۔
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو ہورہی ہے جس میں ایک شدت پسند صحافی ایک تقریب کے دوران لوگوں کو ہندو راشٹر بنانے کیلئے حلف دلوا رہا ہے ، تلوار اٹھانے ، حملہ کرنے اور شہریوں کو خون بہانے کیلئے اکسارہاہے ، اسی طرح کی بات ایک اسکول ٹیچر بھی بچوں کے ساتھ کرتاہے ، یعنی بچوں کو بھی دیش کو ہندو راشٹر بنانے کے نام پر دہشت گرد ی کرنے اور ہتھیار استعمال کرنے کا حلف دلوایا جارہا ہے ۔ مسلمانوں کے خلاف لگاتار نفرت پھیلائی جارہی ہے ۔ اس وقت مسلمانوں کے ساتھ بھارت میں جو کچھ ہورہا ہے کہ اس سے لگتا ہے کہ بھارت عنقریب میانمر میں تبدیل ہوجائے گا اور مسلمانوں کے رہنے کی کوئی جگہ نہیں رہے گی۔
بلی بائی، سلی ڈیلز، دھرم سنسد جیسے واقعات کی طویل فہرست ہے اور روزانہ پیش آرہے ہیں ۔ مسلمانوں ، دلتوں ،عیسائیوں ، سکھوں اور دیگر اقلیتوں کو مسلسل نشانہ بنایاجاہے ، ان کے تعلق سے اکثریتی سماج میں غلط فہمیاں پیدا کی جار ہی ہے بھارتی میڈیا اپنی ذمہ داری نبھانے اور حقیقت پر مبنی خبروں کو دکھانے کے بجائے اسلاموفوبیا کو فروغ د ے رہاہے اور لگاتار جھوٹ پھیلا رہا ہے ۔ سول سوسائٹی بھی خاموش ہے ، حقوق انسانی کے کارکنا ن بھی پہلے کی طرح فعال نہیں ہیں ۔اتنے بڑے بڑے واقعات رونما ہوجانے کے باوجود ایسا لگتا ہے جیسے بھارت میں کچھ ہوا ہی نہیں ہے۔ اور اس کی ایک ذمہ داری اپوزیشن جماعتوں پر بھی عائد ہوتی ہے جو ہندو انتہا پسندی کے سامنے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے ہوئے ہے۔
بھارت میں باہم نفرت کی فضا بنانے کا ایک ماحول سا بن گیا ہے، نفرت کے اس بازار کو گرم رکھنے کے لئے طرح طرح کے ہتھکنڈے اپنائے جا رہے ہیں، بلی بائی جیسی ایپلی کیشنز بھی بظاہر اسی کی ایک شکل معلوم ہوتی ہے۔درحقیقت یہ یہ ریاست کی دانستہ بے عملی ہے جس کے نتیجے میں سلی ڈیلز والے دہشت گردوں کی جرات بڑھ گئی ہے اور وہ بلی بائی کے نام سے پھر ابھرے ہیں۔ مودی سرکار درحقیقت بھارت کے سیکولر چہرے کو بگاڑنے میں پیش پیش ہے اور اپنی سرپرست جماعت آر ایس ایس کے سامنے بے بس ہے۔ یہی وجہ کے بھارت بہت جلدخانہ جنگی کی طرف بڑھتا دکھائی دیتا ہے اور نصیر الدین شاہ جیسے لیجنڈ اداکار کا بیان اس بات کا عکاس ہے کہ بھارتی معاشرہ اس طرح کے اقدامات سے خانہ جنگی کی طرف جارہا ہے اور شاید آنے والے وقتوں میں بھارت اپنے حصے بخرے ہوتا دیکھ رہا ہو۔
جمعرات، 6 جنوری 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
The post بھارت میں انتہا پسندی کا سونامی appeared first on شفقنا اردو نیوز.
