نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے حکومت کی جانب سے اسکولوں میں سوریانمسکار کے انعقاد کی مذمت کردی۔بھارت میں آزادی کے 75 سال مکمل ہونے کے سلسلے میں ’آزادی کا امرت مہوتسو‘ کے عنوان سے پروگرام کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ نے حکم کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان طلبہ اس پروگرام میں حصہ لینے سے گریز کریں ، کیوں کہ سوریانمسکار سورج کی عبادت کی ایک شکل ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سیکرٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت ایک سیکولر، کثیر مذہبی اور کثیر ثقافتی ملک ہے اور ملکی آئین ہمیں کسی خاص مذہب کے سرکاری تعلیمی اداروں میں پڑھانے یا کسی مخصوص گروہ کے عقائد کی بنیاد پر تقاریب منعقد کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ موجودہ حکومت اس اصول سے انحراف کر رہی ہے اور ملک کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اکثریتی فرقے کی سوچ اور روایت کو سماج کے تمام طبقات پر مسلط کیا جا رہا ہے۔بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق وزارت تعلیمنے پچھترویں یوم آزادی کے موقع پر 30 ریاستوں میں سوریانمسکار کا پروگرام چلانے کا فیصلہ کیا ہے ، جس کے پہلے مرحلے میں 30 ہزار سکولوں کا احاطہ کیا جائے گا۔ یکم جنوری سے 7جنوری تک اس پروگرام کے انعقاد کی تجویز دی گئی ہے ،جب کہ 26 جنوری کو سوریانمسکار کے حوالے سے ایک کنسرٹ کا بھی منصوبہ ہے۔ بورڈ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا سوریا نمسکار یہ ایک غیر آئینی عمل اور حب الوطنی کا جھوٹا پروگرام ہے،جس سے مسلمانوں کو بلیک کیا جارہا ہے۔ اسلام اور ملک کی دیگر اقلیتیں نہ تو سورج کو دیوتا مانتی ہیں اور نہ اس کی عبادت کو درست سمجھتی ہیں۔ اگر حکومت ملک سے محبت کا حق ادا کرنا چاہتی ہے تو اسے حقیقی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری ، مہنگائی، کرنسی کی قدر میں کمی، نفرت انگیزی کی سازشیں ، ملکی سرحدوں کی حفاظت میں ناکامی اور دیگر کئی مسائل ایسے ہیں،جن پر حکومت کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔واضح رہے کہ بھارت میں بی جے پی کی انتہاپسند حکومت نے مسلمانوں پر زمین تنگ کررکھی ہے اور اس کے شدت پسند رہنماؤں نے حال ہی میں ایک مذہبی اجلاس کے دوران مسلمانوں کی نسل کشی اور قتل عام جیسے خطرناک عزائم ظاہر کیے تھے۔ اس معاملے میں انہیں حکومت کی سرپرستی حاصل ہے۔
The post بھارت، اسکولوں میں ہندو عقائد کے پرچار پر مسلم پرسنل لا کی مذمت appeared first on Daily Jasarat News.
