واشنگٹن ڈی سی —
تحریک طالبان پاکستان یا ٹی ٹی پی پاکستان کی دہشت گرد کارروائیوں پر بڑی جد و جہد کے بعد کافی حد تک قابو پایا لیا گیا ہے۔ تاہم ماہرین کے بقول اب یہ عسکری گروپ نئے خطرات پیدا کر رہا ہے۔
یہ گروپ افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہے اور طالبان کے اس دعوے کے باوجود کہ وہ افغان سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کی اجازت نہیں دیں گے۔ ٹی ٹی پی کی جانب سے ہاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، لیکن طالبان جن کا اس وقت افغانستان پر کنٹرول ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی کارروائی کرنے یا انہیں ملک سے نکالنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
ریٹائرڈ جنرل نعیم لودھی پاکستان کے سابق سیکرٹری دفاع ہیں اور دہشت گردی سے متعلق امور پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کہ وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان اگر یہ مطالبہ کرے بھی اور ممکن ہے کہ دبے الفاظ میں پاکستان کی جانب سے یہ مطالبہ کیا بھی گیا ہو کہ ٹی ٹی پی کے لوگوں کو اس کے حوالے کیا جائے تو اس پر طالبان حکومت راضی نہیں ہے، اور نہ ہو گی۔ یہ بات بالکل واضح ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی کو سابقہ ادوار میں پاکستان مخالف قوتوں نے پاکستان پر دباؤ رکھنے کے لیے قائم کیا تھا۔ لیکن افغانستان کے بدلتے ہوئے حالات میں انہوں نے افغان طالبان کا ساتھ۔ بھی دیا۔ ان سے بیعت بھی کی۔ اور اب طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد وہ ان کے بہت قریب بھی ہیں۔ ایسے میں جب کہ طالبان اندرونی طور پر مشکلات کا شکار ہیں اور انہیں داعش جیسے دشمنوں کا سامنا ہے، جس کے مقابلے کے لیے انہیں ٹی ٹی پی جیسے اتحادیوں کی ضرورت بھی ہے۔ اس لیے یہ بات منطقی ہے کہ وہ ان سے بگاڑ پیدا نہیں کریں گے۔ اور اسی لیے جب پاکستان نے یہ معاملہ طالبان کے سامنے رکھا، تو انہوں نے کہا کہ وہ انہیں نکال تو نہیں سکتے لیکن اگر پاکستان ان سے بات چیت کر کے معاملات طے کر لے تو وہ یہ سہولت فراہم کر سکتے ہیں۔


جنرل نعیم لودھی نے کہا کہ پاکستان کو یقیناً اندازہ تھا کہ اس کا نتیجہ کچھ نہیں نکلنا لیکن اتمام حجت کے لیے پاکستان نے یہ بات چیت کی۔ اس کی شرائط بڑی سادہ تھیں کہ ٹی ٹی پی، پاکستان کے آئین کو تسلیم کرے۔ اپنے ہتھیار پھینک دے اور شدید نوعیت کے جرائم میں ملوث اپنے لوگوں کو مقدمے چلانے کے لیے ان کے حوالے کر دے۔
دوسری جانب ان کے بھی مطالبات تھے کہ پاکستان اپنی تحویل میں موجود ان کے کارکنوں کو رہا کرے۔ ظاہر ہے انہیں ٹھوس ضمانتوں کے بغیر چھوڑا نہیں جا سکتا تھا۔ اس دوران کچھ عرصے تک جنگ بندی بھی رہی جو اب ٹوٹ چکی ہے۔
خیال رہے کہ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ یا آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار نے بھی ایک نیوز کانفرنس میں بتایا تھا کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ جنگ بندی نو دسمبر کو ختم ہو گئی تھی جس کے بعد سے ان کے خلاف آپریشن جاری ہے۔
جنرل نعیم کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں اب صورت حال یہ بن رہی ہے کہ ادھر تو طالبان انہیں اپنی سرزمین سے آپریٹ نہیں کرنے دیں گے اور سرحد کے اس طرف پاکستانی حصے میں فوج انہیں نہیں چھوڑے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ طالبان اپنا یہ وعدہ پورا کریں گے اور ٹی ٹی پی کو افغانستان کے اندر سے کارروائیاں نہیں کرنے دیں گے۔ اور اس کے شواہد بھی مل رہے ہیں کہ جو حملے آپ کو نظر آ رہے ہیں یہ ان سلیپر سیلز سے کیے جا رہے ہیں جو پاکستان کے اندر ہیں۔ اور جنہیں ہو سکتا ہے کہ اب بھی بیرونی مدد اور حمایت حاصل ہو ۔
ایک سوال کے جواب میں جنرل نعیم نے کہا کہ ان کے خیال میں اگر کسی مرحلے پرطالبان کو محسوس ہوا کہ ٹی ٹی پی کسی مصالحت کے لیے تیار نہیں ہے تو وہ تحریک طالبان پاکستان کے مقابلے میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کو ترجیح دیں گے۔
جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا ان کے خیال میں چین، روس یا دوسرے پڑوسی ملکوں کے یہ خدشات درست ہیں کہ افغانستان کے اندر سے دہشت گردی یا انتہا پسندی نکل کر ان تک بھی پہنچ سکتی ہے تو انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے یہ خدشات بلا سبب نہیں ہیں اور ظاہر ہے کہ جس طرح پاکستان یہ چاہتا ہے کہ ٹی ٹی پی کے لوگوں کو اس کے حوالے کیا جائے، اسی طرح چین، روس، ایران اور دوسرے ممالک کا بھی یہ ہی مطالبہ ہو گا کے ان کے ہاں سے دہشت گردی کرنے والے ان لوگوں کو جو افغانستان میں پناہ لئے ہوئے ہیں، ان کے حوالے کیا جائے۔ اور غالبا یہ ہی وجہ ہے کہ یہ پڑوسی ممالک بھی ابھی تک مدد کرنے ہا انہیں تسلیم کرنے کے لیے آگے نہیں بڑھے۔ اور طالبان بھی ان کی بات سننے کے لیے تیار نظر نہیں آ رہے۔
وہ کہتے ہیں کہ اب آپ اسے طالبان کی کوتاہ اندیشی کہہ لیجئے یا طریقہ کار کیونکہ ماضی میں بھی ہمیں یہ ہی رجحان نظر آتا ہے کہ صرف اسامہ بن لادن کو بچانے کے لیے اس وقت انہوں نے اپنا پورا ملک تباہ کروا لیا۔ اور اسے حوالے نہیں کیا۔ اب آنے والے دنوں میں اس بات کا فیصلہ ہو گا کہ پڑوسی ملک طالبان کے اصولوں کو تسلیم کرتے ہیں یا افغان طالبان اپنے اصول یا طریقہ کار کو تبدیل کرتے ہیں۔


No media source currently available
ڈاکٹر حسین یاسا جرمنی میں مقیم ایک سینئر افغان صحافی ہیں۔ اس حوالے سے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات سے پاکستان کو کچھ حاصل نہیں ہوا۔ اور انہوں نے کچھ تعطل کے بعد پھر سے اپنی کارروائیاں شروع کر دی ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کے تمام تر اخلاص کے باوجود افغانستان میں طالبان کی امارت اس معاملے میں پاکستان کے ساتھ کوئی تعاون کرنے پر تیار نہیں ہے۔
وہ پاکستانی طالبان کو اپنا بھائی سمجھتے ہیں۔ اور ٹی ٹی پی نے بھی واضح طور پر کہا ہے کہ وہ طالبان کا حصہ ہیں۔ اس کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کو اس مسئلے پر پیش رفت کی جو امید تھی وہ پوری نہیں ہو گی۔
لیکن انہوں نے کہا کہ پاکستان کے افغانستان کے ساتھ مسائل بھی زیادہ ہیں اور ذمہ داری بھی زیادہ ہے۔ پاکستان اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے کہ خطے کے ممالک کو ساتھ ملا کر ایک ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کرے جس میں افغانستان میں آباد تمام قومیتوں کو اقتدار میں اس کا حصہ دیا جا سکے۔ بصورت دیگر اگر معاملات صرف طالبان پر چھوڑے گئے تو کسی کو کچھ حاصل نہیں ہو گا اور ایک مرتبہ تاریخ پھر خود کو دہرائے گی۔
