
اسلام آباد (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار خسرو بختیار نے کہا ہے کہ ملک میں کھاد کی کوئی قلت نہیں ہے، یوریا کھاد کی پیداوار10 جنوری سے4لاکھ40 ہزار ٹن ہوجائے گی، پاکستان میں یوریا کی بوری کی قیمت 18سو روپے ہے۔ ان خیا لا ت کا اظہار انہوں نے وفاقی وزیر برائے توانائی حماد اظہر اور فرٹیلائزرز مل مالکان کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ10 تاریخ سے کھاد کی اضافی سپلائی شروع ہوجائے گی، کورونا وائرس سے دنیا بھر میں کھاد کی پیداوار متاثر ہوئی، چین نے کھاد کی برآمد بند کردی ہے۔ پاکستان نے موثر اقدامات سے سستی کھاد کی دستیابی یقینی بنائی،فروری میں یوریا کی 42لاکھ اضافی بوریاںدستیاب ہوںگی اور مارچ میں 82لاکھ بوری ملوں اور دکانداروں کے پاس موجود ہوںگی، کھاد کی پیداوار اور ترسیل کی مسلسل نگرانی کی جارہی ہے،سندھ میں کھاد کی نگرانی نہیں کی جارہی۔ ا سمگل کی جانے والی کھاد کا تعلق گھوٹکی سے پایا گیا۔سندھ حکومت نہ صرف کسانوں کے درد کا احساس کرے بلکہ وفاقی حکومت کا ساتھ دے۔
