English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مری: شدید برف باری میں سڑکوں پر پھنسے 21 سیاح ہلاک، امدادی سرگرمیوں کے لیے فوج طلب

القمر

پاکستان کے مشہور سیاحتی مقام مری میں شدید برف باری اور سیاحوں کی بڑی تعداد کی آمد کی وجہ سے حالات انتہائی خراب ہیں۔ برف میں پھنسے 21 سیاح ہلاک ہو گئے ہیں جب کہ امدادی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں۔

شدید برف باری کے بعد مری کی سڑکیں درخت اور بجلی کے کھمبے گرنے کی وجہ سے بلاک ہیں اور لوگ برف میں پھنسے ہوئے ہیں۔ پنجاب حکومت نے مری کو آفت زدہ قرار دے دیا ہے جب کہ علاقے میں ایمرجنسی بھی نافذ کر دی گئی ہے۔

فوجی اہلکار، مری انتظامیہ، ریسکیو 1122 کے اہلکاروں کے علاوہ مقامی افراد بھی محصور مسافروں کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں کر رہے ہیں

ریسکیو 1122 کے مطابق برف میں پھنسنے کے باعث 21 افراد ٹھنڈ سے ہلاک ہو چکے ہیں جن میں ایک ہی خاندان کے آٹھ افراد بھی شامل ہیں۔ امدادی کاموں کے لیے فوجی دستے بھی طلب کیے گئے ہیں جب کہ مری جانے والے تمام راستے بند کر دیے گئے ہیں۔

‘شام سات بجے تک راستے کلیئر ہو جائیں گے’

مری اور گلیات کے علاقوں میں فوجی و ریسیکیو اہلکار سڑکوں سے برف ہٹا کر گاڑیوں میں پھنسے افراد کو نکال رہے ہیں۔ وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ مری میں 90 فی صد راستے کلیئر کرا لیے گئے ہیں جب کہ شام سات بجے تک تمام راستے کلیئر ہو جائیں گے اور گاڑیوں کو نکال لیا جائے گا۔

وائس آف امریکہ کے علی فرقان سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے بتایا کہ مری میں برف باری میں پھنسنے کی وجہ سے 21 افراد کی جانیں جا چکی ہیں جو ایک بہت بڑا سانحہ ہے۔ واقعے کی تحقیقات ہو رہی ہیں اور کوتاہی کے مرتکب ذمے داران کا تعین کیا جائے گا۔

‘اب بھی لوگ مری جانے کے لیے ٹول پلازہ پر کھڑے ہیں’

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ یہ اندازہ ہی نہیں تھا کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگ مری آ جائیں گے اور اتنا شدید طوفان آئے گا۔ نہ پہلے کبھی اتنی برف پڑی اور نہ ہی اتنے لوگ کبھی مری کی طرف آئے۔

وزیرِ داخلہ نے بتایا کہ مری میں سیاح رات کو گاڑیوں میں ہی سو رہے تھے اور سڑکوں سائیڈ میں ہی گاڑیاں روک کر انجوائے کر رہے تھے۔ رات کو ہی لوگوں سے کہا کہ مری کا رخ نہ کریں لیکن لوگ نہیں رکے۔

"اب بھی ٹول پلازہ پر بہت سی گاڑیاں مری میں داخل ہونے کے لیے کھڑی ہیں۔ لوگ ویڈیو بنا رہے ہیں کہ اتنی گاڑیاں مری جانے کے لیے کھڑی ہیں۔ لوگوں کو ڈر ہی نہیں ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں۔”

شیخ رشید نے مزید کہا کہ مری چوں کہ پنجاب کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، اس وجہ سے میں نے پہلے اقدامات نہیں کیے۔

ان کا کہنا تھا کہ مری کے راستے کل صبح ہی بند کر دینے چاہئیں تھے مگر جب پنجاب حکومت نے اقدامات نہیں اٹھائے تو مجھے خود راستے بند کرنا پڑے۔ کل شام پانچ بجے مری کے راستے بند کرنے کے احکامات دیے۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ وہ خود امدادی کاموں کی نگرانی کے لیے مری میں موجود ہیں اور انہیں امید ہے کہ چند گھنٹوں میں صورتِ حال پر مکمل قابو پالیا جائے گا۔

‘لوگوں نے رش نے انتظامیہ کو انتظامات کی مہلت نہ دی’

مری اور گلیات کے علاقوں میں پیدا ہونے والی ہنگامی صورتِ حال پر وزیرِ اعظم عمران خان نے بھی افسوس کا اظہار کیا ہے۔

ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ مری میں شدید برف باری ہوئی اور لوگوں کی بڑی تعداد موسمی حالات کا جائزہ لیے بغیر مری کی طرف آئی جس کے باعث انتظامیہ ضروری اقدامات نہیں کر سکی۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے اور وہ یقینی بنائیں گے کہ آئندہ ایسا سانحہ پیش نہ آئے۔

وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مری میں غیر معمولی برف باری اور کم وقت میں زیادہ لوگ پہنچے، جس کی وجہ سے مسائل پیدا ہوئے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ صرف مری ہی نہیں، تمام بالائی علاقوں میں اس وقت سیاح موجود ہیں۔ سیاحت کے فروغ سے مراد یہ نہیں کہ سارے لوگ ایک ساتھ ہی آ جائیں۔ اس واقعے سے سیکھ کر آگے مینجمنٹ بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ فواد چوہدری نے رواں ماہ ہی اپنے ایک بیان میں سیاحوں کی بڑی تعداد میں مری آمد کو خوش آئند قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاحت میں یہ اضافہ عام آدمی کی خوش حالی اور آمدنی میں اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔

البتہ آج اپنے ایک اور ٹوئٹ میں انہوں نے لوگوں سے درخواست کی تھی کہ وہ مری جانے کا پلان مؤخر کر دیں۔

دوسری جانب وزیرِ اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ گزشتہ رات 23 ہزار سے زائد گاڑیاں مری سے نکالی گئیں اور ریسکیو آپریشن اب بھی جاری ہے۔

ادھر اپوزیشن جماعتوں کے رہنما مری میں پیش آنے والے واقعے کا ذمے دار حکومت کو قرار دے رہے ہیں اور حکومت پر کڑی تنقید کر رہے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف، نائب صدر مریم نواز اور شاہد خاقان عباسی، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سمیت کئی اہم سیاسی رہنماؤں نے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے