انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) کے طلبا اور فیکلٹی ارکان کے ایک گروپ نے ایک کھلے خط میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملک میں نفرت انگیز تقاریر اور فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف آواز اٹھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فرقہ وارانہ تشدد پر وزیر اعظم کی خاموشی نفرت سے بھری آوازوں کو تقویت دے رہی ہے جو ہمارے ملک کے اتحاد اور سالمیت کیلئے سنگین خطرہ ہے‘ بطور وزیر اعظم آپ ان قوتوں کے خلاف آواز بلند کریں جو ہمیں تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق خط پر دستخط کرنے والوں نے کہا کہ مذکورہ مسائل پر وزیر اعظم کی خاموشی نفرت سے بھری آوازوں کو تقویت دے رہی ہے اور یہ ہمارے ملک کے اتحاد اور سالمیت کیلئے سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ بطور وزیر اعظم آپ ان قوتوں کے خلاف آواز بلند کریں جو ہمیں تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔طلبا اور فیکلٹی ارکان کا یہ خط ہریدوار دھرم سنسد کے حالیہ واقعہ کی روشنی میں آیا ہے جہاں ہندو انتہا پسند مذہبی رہنماو ¿ں نے ہندو?ں پر زور دیا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھائیں اور انکی نسل کشی کریں۔خط میں کہا گیا ہے کہ مذہب اورذات پات کی بنیاد پر برادریوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر اور تشدد کا مطالبہ ناقابل قبول ہے۔دستخط کنندگان نے کہا کہ اگرچہ بھارتی آئین نے ہر کسی کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کا حق فراہم کیا ہے لیکن بھارت میں بھر میںاب اس حوالے سے خوف کا عالم ہے۔ انہوںنے لکھا کہ حالیہ دنوں میں گرجا گھروں اور دیگر عبادت گاہوں کی توڑ پھوڑکی گئی اور ہمارے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی کالیں آ رہی ہیں اور یہ سب کچھ استثنیٰ کے ساتھ بغیر کسی خوف کے کیا جارہا ہے۔ خط پر 183 طلبا اور فیکلٹی ارکان نے دستخط کیے۔
The post انڈین انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ کے طلبا و فیکلٹی کامودی سے فرقہ وارانہ تشدد کیخلاف اقدامات کا مطالبہ appeared first on Daily Jasarat News.
