پشاور(جسارت نیوز) شہیدآباد میں واقع کھیلوں کا میدان دو حکومتیں اور متعدد ڈی جی اسپورٹس کی تعیناتی کے دوران مکمل نہ ہوسکا.چار گائوں کے مابین واقع شہید آباد پلے گرائونڈ جس کی زمین بھی صوبائی اسپورٹس ڈائریکٹریٹ نے لی ہیں میں ابھی تک کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوسکا.پشاور میں ہی واقع شہید آباد کے گرائونڈ کی منظوری سابق صوبائی وزیر کھیل سید عاقل شاہ کے دور حکومت میں سال 2013 میں ہوئی تھی اور یہاں پر کھیلوں کے میدان بنانے کا اعلان بھی کیا گیا تاہم اعلان کے باوجود بھی کچھ نہیں ہوسکا ‘ صوبائی وزیر کھیل جو اس سے قبل بھی محمود خان تھے اور آج وزیر اعلی خیبر پختونخواہ بھی ہیں انہی کے دور حکومت میں بھی دو سو پینتالیس مرلے زمین پر کچھ نہیں کیا جارہا قبل ازیں بھی اسپورٹس ڈائریکٹریٹ نے ایک اہلکار کو پی سی ون بنانے کیلئے بھیجا تھا ور یہاں پر کرکٹ اکیڈمی اور بیڈمنٹن ہال بنانے کا اعلان بھی کیا گیا تاہم کچھ نہیں کیا گیا بعد ازاں مقامی افراد نے ٹائون تھری کی مدد سے اسی زمین کیلئے دیوار اور گیٹ تعمیر کروا دی -جبکہ کھیلوں کے ایک ہزار سہولیات کی ٹیم نے بھی یہاں کا دورہ کرکے یہاں پر فوری طور پر کام کرنے کا اعلان بھی کیا گیا مگر یہ اعلان بھی صرف اعلان کی حد تک رہا۔
