English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

طالبان کا مطلوب دہشت گرد خراسانی مارا گیا

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کاانتہائی مطلوب دہشت گرد محمد خراسانی افغانستان میں ایک کارروائی کے دوران مارا گیا۔ دہشت گرد محمد خراسانی کو افغان صوبے ننگرہار میں مارا گیا۔

دہشت گرد خراسانی تحریک طالبان پاکستان کا ترجمان تھا جس کا اصلی نام خالد بلتی تھا۔ وہ میرانشاہ میں دہشت گردی کا مرکز چلا رہا تھا۔
آپریشن ضربِ عضب کی کامیابی کے بعد افغانستان بھاگ گیا تھا
شاہد اللہ شاہد کے بعد ٹی ٹی پی کا ترجمان بنا۔ دہشت گرد خراسانی پاکستانی عوام اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں اور کارروائیوں اور ٹی ٹی پی کے مختلف دھڑوں کو متحد کرنے میں مصروف تھا۔
خراسانی تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ مفتی نور ولی محسود کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ اس نے حال ہی میں پاکستان کے اندر مختلف کارروائیوں کا اشارہ بھی دیا تھا۔
خراسانی پر آرمی پبلک اسکول پشاور میں بچوں کے قتل عام کا الزام بھی تھا۔
گزشتہ ہفتے ترجمان پاک فوج میجر جنرل بابر افتخار نے میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف آپریشن ہو رہا ہے، موجودہ افغان حکومت کی درخواست پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے مذاکرات کا آغاز کیا گیا لیکن کچھ چیزیں ناقابل قبول تھیں، تنظیم غیر ریاستی عنصر ہے جو پاکستان میں کوئی بڑا حملہ نہیں کر سکی۔ کالعدم ٹی ٹی پی میں اندورنی اختلافات بھی ہیں جبکہ افغان حکومت کو کہا ہے کہ اپنی سرزمین کو ہمارے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے حالیہ مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہورہےنہ ان کے ساتھ اب جنگ بندی کا کوئی معاہدہ ہے،آپریشن جاری ہے
ترجمان پاک فوج کے مطابق کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ نو دسمبرکوختم ہوگیا۔جنگ بندی کایہ معاہدہ غیرریاستی جنگجوعناصر کے ساتھ مذاکرات سے قبل موجودہ افغان حکومت کی درخواست پراعتماد سازی کےلیے اٹھایا گیا۔
میجر جنرل بابرافتخار کاکہنا تھا موجودہ افغان عبوری حکومت کا تقاضہ تھا کالعدم ٹی ٹی پی ان کی سرزمین استعمال نہ کرے اسی لیے طالبان حکومت نے کہا کہ وہ ٹی ٹی پی کو مذاکرات کی میز پر لائیں گےاور ان سے کہیں گے کہ وہ پاکستان کے مطالبات مانیں لیکن ظاہر ہے کہ یہ چیزیں اب تک طےنہیں ہوئیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی کوئی اکائی نہیں ہے۔اس میں اندرونی اختلافات ہیں۔ کچھ مسائل اورکچھ شرائط تھیں جن پر ہماری طرف سے کوئی بات چیت نہیں کی جا سکتی تھی اس لیے اس وقت کوئی جنگ بندی نہیں ہے۔ ہم آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس وقت تک آپریشن جاری رکھیں گے جب تک دہشت گردی کی لعنت سے چھٹکارا حاصل نہ کرلیں۔
انہوں نے کہا کہ 2021 کے دوران مغربی سرحد پر سیکیورٹی کی صورتحال چیلنجنگ رہی، افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے اثرات پاکستان کی سیکیورٹی پر پڑے، مغربی سرحدی انتظام، خاص طور پر پاک ۔ افغان سرحد پر کچھ مسائل ہیں جن کو متعلقہ سطح پر حل کیا جا رہا ہے جبکہ پاک ۔ افغان حکومتی سطح پر دونوں طرف ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ لوگ مقررہ جگہوں سے سرحد عبور کر سکتے ہیں اور سرحد پر آمد و رفت کا عمل آنے والے مہینوں میں مزید آسان ہو جائے گا۔ حال ہی میں باڑ کو اکھاڑ پھینکنے کے واقعے کو مقامی مسائل قرار دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ معاملہ دونوں ممالک کی حکومتوں کے درمیان زیر بحث ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے