ایم کیو ایم کے سابق گورنر ڈاکٹر عشرت العباد خان اور صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ کے درمیان رابطہ ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں رہنمائوں کے درمیان سندھ کی موجودہ صورتحال خصوصا بلدیاتی ایکٹ کے حوالے سے گفتگو کی گئی۔
سابق گورنر نے بلدیاتی ایکٹ میں ہونے والی ترامیم اور اس کے خلاف جاری جماعتوں کے احتجاج پر اظہار تشویش کا اظہار کیا۔
عشرت العباد خان نے کہا بلدیاتی حکومت سے اسپتالوں ، تعلیمی اداروں کا اختیار لینا تشویشناک اقدام ہے۔ کسی بھی بلدیاتی حکومت میں اسکے ماتحت ادارے اس حکومت کا فخر ہوتے ہیں ۔ سندھ حکومت اداروں کو اپنے ماتحت کرنے کے بجائے انکے سدھار ، فنڈز کی فراہمی اور بلدیاتی حکومت کو مضبوط کرے۔
امید کرتا ہوں کہ سندھ حکومت میری تجاویز کو سامنے رکھ کر بلدیاتی اداروں کی واپسی اور ترامیم میں نظر ثانی اور مزید بہتری لانے کی کوشش کرے گی۔ اپیل ہے کہ بلدیاتی ایکٹ کے خلاف احتجاج کرنے والی جماعتوں سے بھی مشاورت کرکے سب کو آن بورڈ لیا جائے۔
ناصر شاہ نے کہا اپ کی تجاویز کو سامنے رکھا جائے گا جو بھی فیصلہ کریں گے سندھ اور بلدیاتی حکومت کی مضبوطی اور ترقی کے لیے کریں گے۔ اداروں کو چھینا مقصد نہیں بلکہ انھیں فعال بنانا ہے۔
ایم کیو ایم کے سابق گورنر نے پیپلز پارٹی کی حمایت کردی
القمر
