English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

شہری اپنا حق لے کر ہی اٹھیں گے،حافظ نعیم الرحمٰن ،دھرنا 13 ویں دن میں داخل

امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن سندھ اسمبلی کے باہر دھرنے کے 12ویں روز متحدہ علماء محاذ کے عہدیداران،خواتین وکلاء ،تاجر تنظیموں و ایسوسی ایشنز کے عہدیداران کے ہمراہ شر کا سے خطاب کر ر ہے ہیں

کراچی(اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی کے تحت سندھ حکومت کے بلدیاتی کالے قانون کے خلاف سندھ اسمبلی کے سامنے جاری دھرناتیرہویں روزمیں داخل ہوگیا، دھرنے میں عوامی شرکت اور جوش و خروش میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ،شہر بھر میں بھی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے،پاور ہاؤس چورنگی نارتھ کراچی، فائیو اسٹار چورنگی نارتھ ناظم آباد اور دیگرمقامات پر دھرنے دیے گئے ، نارتھ کراچی ، سخی حسن ،نارتھ ناظم آباد، بورڈ آفس ضلع وسطی اور شمالی کے مختلف علاقوں سے قافلے اور جلوس دھرنا دیتے اور احتجاج کرتے ہوئے مرکزی دھرنے کے مقام سندھ اسمبلی پہنچے ،شہر بھر سے بڑی تعداد میں خواتین نے بھی شرکت کی ۔حیدرآباد سے آنے والے وفود ،متحدہ علما محاذ کے عہدیداران ،خواتین وکلا ،تاجر تنظیموں و ایسوسی ایشنز کے عہدیداران ودیگر وفود نے بھی شرکت کی اور دھرنے کے شرکا سے اظہار یکجہتی کیا۔حافظ نعیم الرحمن نے سندھ اسمبلی کے باہر دھرنے کے بارہویں روز میڈیا سے گفتگو اور خواتین سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دھرنے کے شرکا بالخصوص خواتین میں آئے روز اضافہ ہورہا ہے ،دھرنے میں خواتین کی شرکت نیا سیاسی کلچر ہے ،ماؤں ،بہنوں او ربیٹیوں کو بڑی تعداد میں دھرنے میں پہنچنے پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں ، کراچی اپنی اصل شناخت کی طرف لوٹ رہا ہے ، پیپلزپارٹی کے وزرا ہمارے پاس آئے انہوں نے بلدیاتی قانون میں ترامیم کی یقین دہانی کرائی، اس موقع پر ہم نے عوام اور اپنی ٹیم سے مشورے کے بعد فیصلہ کیا کہ دھرنا جاری رہے گا ، ہم نے کراچی کے حقوق کے لیے دھرنا دیا ہے اور ہم اپنا حق لے کر ہی جائیں گے ، 2دن گزرگئے ہیں لیکن حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی طرف سے کوئی پیش رفت نہیں ہے ،ہم نے ان سے ایک ہی بات کی کہ جب تک عملی اقدامات نہیں ہوں گے دھرنا جاری رہے گا،پیپلزپارٹی کے وفد کے پاس ہمارے بہت سے سوالات کا کوئی جواب نہیں تھا ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ دیہی و شہری یونین کونسلز میں آبادی کا ایک ہی تناسب ہونا چاہیے ، ہم حکمرانوں سے پوچھتے ہیں کہ وہ کراچی کو اپنا حصہ کیوںنہیں سمجھتے ،ترقیاتی کاموں میں بلدیہ کاکوئی حصہ ہی نہیں ہے ،بے اختیار بلدیہ کیسے کوئی کام کرسکے گی ، بلدیاتی اداروں پر صوبائی حکمرانوں کا کوئی حق نہیں ہے ، ماضی میں ٹرانسپورٹ کا شعبہ بلدیات کے پاس تھا صوبائی حکومت نے وہ بھی اپنے قابو میں کرلیا تھا ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ اگر یہ اعصاب کی جنگ ہے تو ہم اعصابی جنگ کی طرح ہی لڑیں گے ،دھرنے میں وکلا ، دانشور ، ڈاکٹرز،طلبہ ،اساتذہ تمام مکتب فکر سے وابستہ افراد سمیت شہر کی مختلف فیڈریشنز شرکت کررہی ہیں،دھرنا کراچی کی ماؤں بہنوں اور کراچی کے ساڑھے 3 کروڑ رعوام کا دھرنا بن چکا ہے ، دھرنا کراچی کے ہر شہری کی آواز بن چکا ہے ، دھرنے میں ساڑھے 3 کروڑ عوام کی آواز شامل ہے ، جماعت اسلامی نے فیصلہ کرلیا ہے کہ ہم یہاں سے کراچی کے عوام کا حق لے کرہی اٹھیں گے ۔ہمارا مطالبہ ہے کہ بااختیار شہری حکومت ، میئر کا براہ راست انتخاب کرنے اور میئر کو بااختیار بنایا جائے اگر کراچی کے عوام کو ان کا حق نہیں دیا گیا تو ہم اپنا حق چھین کر لیں گے ۔انہوں نے مزیدکہاکہ آج سے شہر میں ہمارے فلوٹ چلیں گے ،اور ریلیاں نکالی جائیں گی اوردھرنے ہوں گے ،دھرنا عوام کی قوت بن رہا ہے ،سندھ حکومت کو اپنا قانون واپس لینا پڑے گا ،ہم آئینی ،جمہوری و قانونی جدوجہد کررہے ہیں،بھارت نے اپنے آئین میں بلدیات کا پورا قانون رکھا ہے ،پاکستان کے آئین میں لوکل باڈیز چیپٹرکو مکمل طور پر شامل کیا جائے ،ہم یہاں کراچی اور سندھ کے عوام کے حقوق کے لیے بیٹھے ہیں ۔دھرنے میں جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر اسد اللہ بھٹو ،جماعت اسلامی سندھ کے رہنما ،عبد الوحید قریشی ، صوبائی ڈپٹی سیکرٹری حافظ طاہر مجید،امیرجماعت اسلامی حیدرآباد کے امیر عقیل احمد خان ودیگر ذمے داران کے ہمراہ ایک بڑے وفد ،مختلف مکتب فکر کے علما کرام پر مشتمل متحدہ علما محاذکے صدر علامہ مرزا یوسف حسین ،علامہ سجاد رضوی ،علامہ شاہ فیروز الدین رحمانی،علامہ سید علی کرار نقوی ،علامہ عبد الخالق فریدی،مولانا محمد امین انصاری،سینیٹر سردار اختر بلوچ اور دیگر نے شرکت کی ،دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیااور مطالبات کی حمایت کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے