قومی اسمبلی میں مِنی بجٹ کی منظوری کیلئے حکومت متحرک ہوگئی، وزیراعظم عمران خان کل پارلیمنٹ ہاؤس آئیں گے اور قومی اسمبلی اجلاس سے پہلے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت کریں گے۔ حال ہی میں وزیر اعظم نے پنجاب اور کے پی کے وزرائے اعلٰی نے ارکانِ قومی اسمبلی کو الگ الگ عشائیہ بھی دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے عشائیے میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے 30 سے زائد اراکین قومی اسمبلی شریک نہیں ہوئے۔ عشائیے کے موقع پرپارٹی اراکین قومی اسمبلی کی حاضری لگائی گئی، عشائیے میں نہ آنے والے پارٹی ارکان اسمبلی کی فہرست تیار کی گئی، عشائیے میں نہ آنے والوں کی فہرست وزیراعظم کو بھجوا دی گئی ہے۔
وفاق میں حکومت کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم مِنی بجٹ پر حکومت کی حمایت کرنے یا نہ کرنے کا اب تک فیصلہ نہیں کرسکی ہے۔ اس حوالے سے ہونے والے حکومتی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں شرکت کے معاملے پر ایم کیو ایم گو مگو کا شکار ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان نے منی بجٹ پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور 11 نکاتی تجاویز قومی اسمبلی میں جمع کرادی ہیں اور وزیر خزانہ کو بھی تجاویز بھجوا دیں ہیں۔ تاہم تمام تجزیہ نگار اس بات پر متفق ہیں کہ ایم کیو ایم محض دباؤ ڈالنے کے لیے یہ سب کر رہی ہے ورنہ منی بجٹ محض چند فون کالوں کی مار ہے اور یقینی طور پر منی بجٹ منظور ہوجائے گا۔ مگر یہاں سوال صرف اتحادیوں کا نہیں ہے بلکہ تحریک انصاف کے بہت سارے اراکین بھی یہ سمجھتے ہیں کہ اگر منی بجٹ منظور ہوگیا تو مہگائی کا جو طوفان آئے گا وہ اگلے انتخابات میں ان کو بہا کر لے جائے گا۔
اس حوالے سے وزیر اعظم کے اپنے وزراء بھی خوش نہیں ہے اور حال ہی میں وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک اور عمران خان کے مابین تلخ جملوں کا تبادلہ ہے۔ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں وزیر اعظم اور پرویز خٹک کے مابین تلخ و تند جملوں کا تبادلہ ہوا ہے۔ اس اجلاس میں پرویز خٹک، نور عالم و دیگر ارکان نے منی بجٹ، مہنگائی، اسٹیٹ بینک کی خودمختاری سے متعلق شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ اجلاس میں وزیر دفاع اور سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہا کہ آپ کو وزیراعظم ہم نے بنوایا ہے، خیبرپختونخوا میں گیس پر پابندی ہے، گیس بجلی ہم پیدا کرتے ہیں اور پِس بھی ہم رہے ہیں، اگر آپ کا یہی رویہ رہا تو ہم ووٹ نہیں دے سکیں گے۔پارلیمانی پارٹی اجلاس میں پرویز خٹک تین دفعہ نشست پر کھڑےہوئے۔ انہوں نے وزیراعظم کو کہا کہ آپ نےغیرمنتخب لوگوں کو پاس بٹھایا ہوا ہے،شوکت ترین کابینہ میں بھی مطمئن نہیں کرسکا۔ ووٹ نہیں ڈال رہا، اجلاس سے جارہا ہوں، جس پر وزیراعظم نےکہا مجھےبلیک میل نہ کرو، نہیں ووٹ دینا نہ دو، میرےکوئی کارخانےنہیں ہیں، میری جنگ ملک کےمفاد کی ہے۔
اس کے علاوہ پنجاب اور کے پی کے وزرائے اعلٰی نے بھی گزشتہ شب ارکانِ قومی اسمبلی کو الگ الگ عشائیہ دیا تاہم ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کے عشائیے میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے 30 سے زائد اراکین قومی اسمبلی شریک نہیں ہوئے۔ عشائیے کے موقع پرپارٹی اراکین قومی اسمبلی کی حاضری لگائی گئی، عشائیے میں نہ آنے والے پارٹی ارکان اسمبلی کی فہرست تیار کی گئی، عشائیے میں نہ آنے والوں کی فہرست وزیراعظم کو بھجوا دی گئی۔ یاد رہے کہ پی ٹی آئی میں کم از کم 24 ایسے اراکین اسمبلی موجود ہیں جو عمران خان کو دھوکا دے سکتے ہیں۔ اب تو کئی رہنما محفلوں میں برملا کہتے ہیں کہ ہم اگلے الیکشن میں ساتھ نہیں دینگے۔
متعدد اراکین اسمبلی نے کہنا شروع کر دیا ہے کہ پی ٹی آئی میں جانا ہماری بہت بڑی سیاسی غلطی تھی۔ ان میں ایسے اراکین بھی شامل ہیں جنھیں پی ٹی آئی نے ہی سیاست میں آنے کا موقع فراہم کرتے ہوئے پارلیمنٹ کا ممبر بنوایا، وہ بھی ناراض نظر آتے ہیں۔ یاد رہے کہ عمران خان نے جب اعتماد کا ووٹ لینا تھا تو اس وقت دو اراکین کو کلبھوشن یادو کے اس کنٹینر میں بند کر دیا گیا تھا جس میں اس کی والدہ اور اہلیہ سے ملاقات کرائی گئی تھی۔ یہ بھی خبریں آئی تھیں کہ بعض پی ٹی آئی کے ایم این ایز کو مارا پیٹا بھی گیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ فون کالز نہیں کی گئیں تو عمران خان کو فنانس بل پاس کرانے میں مشکل ہوگی۔ تاہم اس کا پاس ہونا ملکی مفاد میں ہے کیونکہ ہمیں آئی ایم ایف کے پیسوں کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے اوپر دیوالیہ ہونے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ اس لئے لوگوں پر دبائو ڈالا جائے گا کہ آپ منی بجٹ پاس کروانے میں حکومت کی مدد کریں اور ووٹ دیں۔
حال ہی میں پرویز خٹک کے دو قریبی عزیز بھی مسلم لیگ نواز میں شامل ہوگئے ہیں۔ جس سے لگتا ہے کہ تحریک انصاف اس وقت مشکلات کا شکار ہوگئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اگلے تین ماہ مشکل ہیں۔ جہاں تک منی بجٹ کی بات ہے تو یہ بات لازم ہے کہ یہ بجٹ منظور ہوگا اور چاروناچار ناراض اراکین اور اتحادی ووٹ دیں گے مگر یہ صورتحال زیادہ عرصہ قائم نہیں رہے گی۔ دیکھنا ہے کہ پرندوں کی پروازیں شروع ہوگئی ہے اور دیکھنا ہے کہ اب وہ نیا آشیانہ کہاں تلاش کرتے ہیں۔
بدھ، 13 جنوری 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
The post پی ٹی آئی زلزلوں کی ذد میں appeared first on شفقنا اردو نیوز.
