کراچی/اسلام آباد(اسٹاف رپورٹر+ مانیٹرنگ ڈیسک) کراچی میں کورونا کی شرح 28 فیصد ہوگئی‘ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے شہر میں کورونا کے بڑھتے کیسز پر لاک ڈاؤن سے متعلق کوئی بھی اقدام این سی او سی کی ہدایت سے مشروط کردیا، کورونا وباکی لہر میں تیزی سے اضافے کے بعدمراد علی شاہ نے آج (ہفتہ کو )وزیراعلیٰ ہائوس کورونا ٹاسک فورس کا اجلاس طلب بھی کرلیا ہے جبکہ کمشنر کراچی کی صدارت میں گزشتہ روز کورونا کے پھیلاؤ کی صورتحال پر ہونے سالے جائزہ اجلاس میں شادی ہالز میں ایس او پیز کی خلاف ورزی کا نوٹس لیا گیا ۔دوسری جانب 24 گھنٹوں کے دوران پاکستان میں کورونا کے باعث مزید 7 افراد انتقال کر گئے اور 3567 نئے مریض بھی سامنے آئے۔تفصیلات کے مطابق کراچی میں میڈیا سے گفتگو میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ شہر میں کورونا کیسز میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، جمعرات کو کراچی کی تاریخ میں سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے لیکن حالات اس وقت قابو میں ہیں، ہم صورتحال پرنظر رکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کورونا سے اموات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کیسز میں اضافے کے باوجود اسپتالوں میں دباؤ میں اضافہ نہیں ہوا اور وینٹی لیٹر پر مریضوں کی تعداد بھی کم ہے۔مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ شہر میں لاک ڈاؤن سے متعلق فیصلہ این سی او سی کی ہدایات پرکیا جائے گا اور تعلیمی اداروں پر پابندیوں سے متعلق ہماری نظریں این سی او سی پر ہیں، ملکی معیشت اس قابل نہیں ہے کہ پابندیاں لگائیں۔ جو بھی حکمت عملی یا فیصلہ ہوگا وہ این سی او سی کے ساتھ مل کر کریں گے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے آج وزیراعلیٰ ہائوس میں کورونا ٹاسک فورس کا اجلاس طلب کرلیا۔اجلاس میں سندھ میں کورونا کی صورتحال اور حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔ کورونا کاپھیلائو روکنے سے متعلق محکمہ صحت نے تجاویز اور ایکشن پلان تیار کرلیا۔ محکمہ صحت سندھ کے حکام اجلاس میں اپنی تجاویز پیش کرینگے۔واضح رہے کہ کراچی میں کورونا کیسز کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور گزشتہ 3 روز کے دوران شرح 15 فیصد سے تجاوز کرکے 29 فیصد کے قریب جا پہنچی ہے جب کہ شہر میں اومی کرون ویرینٹ کے 95 فیصد سے زاید کیسز ہیں۔علاوہ ازیں این سے او سی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا کے 48449 ٹیسٹ کیے گئے جس میں سے 3567 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی جبکہ وائرس سے مزید 7 افراد انتقال کر گئے۔ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 7.36 فیصد رہی۔مزید برآں این سی او سی نے نے ملک میں انسداد کورونا کی بوسٹر ڈوز کے لیے عمرکی حد کم کرکے 18 سال کردی ہے جس کے بعد 15 جنوری سے 18 سال کی عمر کے افراد بوسٹر ویکسین لگوا سکتے ہیں۔این سی او سی کا کہنا ہے کہ بوسٹر ویکسین پہلی ویکسی نیشن مکمل ہونے کے6 ماہ بعد لگوائی جاسکتی ہے اور بوسٹر ویکسین لگوانے کا کوئی معاوضہ نہیں ہے۔

