English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مطالبات کی منظوری تک دھرنا و مذاکرات جاری رہیں گے،حافظ نعیم کا اعلان

سندھ حکومت سے مذاکرات کے پہلے مرحلے کے بعد امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن دھرنے کے شرکا سے خطاب کرر ہے ہیں

کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ اسمبلی کے باہر پیپلزپارٹی کے کالے بلدیاتی قانون کے خلاف جماعت اسلامی کے جاری دھرنے کے پندرہویں روز 5دن کے تعطل کے بعد سندھ اسمبلی میں جماعت اسلامی اور صوبائی حکومت کی ٹیموں کے درمیان ساڑھے 3 گھنٹے طویل مذاکرات ہوئے ۔ جماعت اسلامی کی مذاکراتی کمیٹی میں نائب امرا جماعت اسلامی کراچی مسلم پرویز، ڈاکٹر اسامہ رضی، رکن سندھ اسمبلی و امیر ضلع جنوبی سید عبدالرشید اور امیر ضلع قائدین سیف الدین ایڈووکیٹ جبکہ پیپلزپارٹی کی جانب سے سینئر صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ ، وقار مہدی کے علاوہ سابق سٹی نائب ناظم طارق حسن بھی شامل تھے ۔حکومتی ٹیم سے مذاکرات کے بعد امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ باہمی مشاورت کے بعد میڈیا کے نمائندوں اور دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مطالبات کی منظوری تک مذاکرات اور دھرنا جاری رہے گا اور شہر بھر میں تحریک چلتی رہے گی ،کل بروز اتوار16 جنوری کو تمام اضلاع سے ریلیاں نکالی جائے گی اور شاہراہ فیصل پر بھرپور مارچ کیا جائے گا جس میں کراچی کی مائیں ،بہنیں ، بیٹیاں بھی بڑی تعداد میں شریک ہوں گی ، سندھ اسمبلی کے باہر دھرنے کا مرکز رہے گا جبکہ پورے کراچی میں ریلیاں نکالی جائیں گی،جماعت اسلامی مذاکرات کے پوائنٹ آف نوریٹرن تک لے جانے تک مذاکرات جاری رکھے گی ، حکومتی مذاکراتی ٹیم نے جماعت اسلامی کی تجاویز نوٹ کرلی ہیں ،حکومتی مذاکراتی ٹیم نے بہت سی باتوں سے اتفاق بھی کرلیا ہے تاہم کچھ باتیںابھی حل طلب ہیں ، جماعت اسلامی نے حکومتی مذاکراتی ٹیم سے واضح بات کی کہ ہم کوئی غیر قانونی اور غیر آئینی مطالبہ نہیں کررہے ،ہم نے صوبائی حکومت کے وفد سے دوٹوک کہا تھا کہ عملی اقدامات تک دھرنا جاری رہے گا ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ ہمارا مطالبہ ہے کہ ساڑھے 3 کروڑ آبادی والے شہر میں بااختیار شہری حکومت قائم کی جائے ،میئر اورڈپٹی میئر کا انتخاب براہ راست کیاجائے ،دیہی و شہری آبادی میں یونین کمیٹی میں آبادی کا تناسب برابر ی کی بنیاد پر ہونا چاہیے ، کراچی کے تمام شہری محکمے بلدیاتی حکومت کے ماتحت کیے جائیں ، ہمارے مطالبات آئین کے آرٹیکل 140-Aکے عین مطابق ہیں ۔انہوں نے کہاکہ کراچی کے ساڑھے 3 کروڑ عوام کو صرف صوبائی حکومت ہی نے ہی نہیں بلکہ وفاقی حکومت نے بھی نظر اندا ز کیا ہے ،17سال میں کراچی کے عوام کے لیے ایک بوند پانی میں بھی اضافہ نہیں ہوا ، ماس ٹرانزٹ پروگرام پر عمل نہیں ہوا ، پورے پاکستان میں آدھا ٹیکس کراچی اور بقیہ پورا پاکستان دیتا ہے ،امیرجماعت اسلامی نے کہاکہ میں دھرنے کے شرکا کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ جنہوں نے اپنے عز م و حوصلے سے دھرنے کو جاری رکھا ،آج دھرنے کے شرکا کی آواز پورے پاکستان میں گونج رہی ہے ۔ علاوہ ازیں سندھ اسمبلی باہر دھرنے میں شہر بھر سے خواتین کی شرکت وجوش وخروش میں مسلسل اضافے نے احتجاج کو ایک نیا جذبہ فراہم کردیا ہے ،گزشتہ روز بھی شہر کے مختلف علاقوں سے خواتین بچوں کے ہمراہ دھرنے میں اظہار یکجہتی کے لیے پہنچیں ، دھرنے میں مختلف سیاسی ،سماجی ودیگر پارٹیوں سمیت مختلف وفود نے شرکت کی ۔ضلع ملیر ،ضلع کورنگی سے آنے والے قافلے داؤد چورنگی لانڈھی اور ڈی سی آفس کورنگی سمیت مختلف چورنگیوں پر دھرنا دیتے ہوئے اسمبلی پہنچے ۔دھرنے سے امیر ضلع ملیر محمد اسلام ،امیر ضلع کورنگی عبد الجمیل و دیگر نے خطاب کیا۔ دھرنے میں آل پاکستان مسلم لیگ کے سینئر وائس چیئرمین صدیق مرزا ایڈوکیٹ ،صوبائی جنرل سیکرٹری کرنل شاہد قریشی ،امیرجماعت اسلامی ضلع تھرپارکر عبدا لسبحان سمیجو،پاکستان مسلم لیگ الائنس کے مرکزی چیئرمین امان اللہ خان پراچہ،تحریک جاں نثاران وطن کے صوبائی صدر ارشد شیخ ، نائب صدر حسین خان ،کراچی کے صدر ظفر اقبال، فرزندان ملیر کے محسن احمد،لائنز ایریا یوتھ کے مدثر فیضان ،ینگ سولجرز فٹبال کلب سولجربازار کے ریاض الدین ودیگر نے شرکت کی اور شرکا سے بھرپور اظہار یکجہتی کیا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے