تحریر مانیہ شکیل
پاکستان میں خواتین جہاں ہر میدان میں اپنا لوہا منواتی نظر آرہی ہیں وہیں سیاست بھی ایک ایسا پیشہ ہے جس میں بہادر اور ذہین خواتین کی کوئی کمی نہیں نہ صرف پاکستان بنے کے بعد بلکہ پاکستان بنے سے پہلے بھی خواتین کی ہمت ،لگن اور جدوجہد مثالی رہی ہے اب اگر موجودہ دور کی بات کی جائے تو تقریبا تمام سیاسی جماعتیں ایسی ہیں جہاں خواتین کارکنان کی بڑی تعداد دیکھائی دیتی ہے سیاسی جسلے ، ریلی ہویا احتجاجی مظاہرے ہرجگہ خواتین کی موجودگی اپنی ہی اہمیت رکھتی ہے لیکن سوال یہ بنتا ہے کیا سیاست سے وابستہ خواتین اس اہمیت سے مطمئن ہیں ،،کیا پارٹی ان پرمردوں کے برابرپیسے لگاتی ہیں ،،کیا سیاسی جماعتیں خواتین کارکنان کوعہدے داران بنانے کے لیے اتنی ہی کوشا ہیں جتنا مردوں کے لیے ،،،ان تمام سوالات کے جوابات جاننے کے لیے ہم نے سیاست سے وابستہ خواتین سے اس حوالے سے رائے جانی ،
ثمینہ عابد نے متحدہ قومی موومنٹ کے ساتھ اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا اور 18 سال سیاست کے شعبے سے وابستہ ہیں ثمینہ صاحبہ کا ماننا ہے کہ پاکستان میں پڑھی لکھی خواتین موجود ہیں آج عورت ہر شعبے میں اپنی نمایاں کارکردگی دکھا رہیں لیکن پھر بھی پاکستان میں خواتین کا سیاست کرنا جوئے شیر لانے کے برابر ہے اور پاکستان میں کوئی بھی سیاسی جماعت ایسی نہیں ہے جو خواتین کو برابری کا حق دے رہی ہو اگر کوئی عورت اچھا کام کر رہی ہوتی ہے تو مردوں کو یہ برداشت نہیں ہوتا ، پاکستان میں ماضی میں حالات بہت مختلف تھے محترمہ فاطمہ جناح نے سیاست بہت کام کیا پاکستان بنانے میں مادرملت محترمہ فاطمہ جناح اپنے بھائی کے شانہ بشانہ کھڑی رہیں ،ان کے بعد بےنظیر بھٹو صاحبہ بہت ذہین خاتون تھیں اپنے والد بھٹو صاحب کے ساتھ اور ان بعد بھی انہوں اپنا سیاسی سفر جاری رکھا اور پاکستان پہلی خاتون وزیراعظم بنی میں نے اپنے سیاسی کیرئیر میں یہ ہی دیکھا ہے کہ عورت کو اپنے آپ کو ثابت کرنے کے لیے مردوں سے زیادہ محنت درکار ہوتی ہے ایم کیو ایم کے رہنما خواتین کو بہت دیتے تھے اس دور عورت محفوظ تھی لیکن 2013 میں پارٹی رہنما کے جانے بعد جانبداری زیادہ غالب ہوگئی ہر شخص کرسی سنبھالنا چاہتا تھا اس لیے خواتین کو آگے آنے سے روکا گیا پارٹی میں اب خواتین کی کیمپنگ پر پیسے نہیں لگا اس سے بہتر حالات تو بھارت میں دیکھائی دیتے ہیں کم سے کم خواتین اپنی لڑائی خود لڑ تو سکتی ہیں میں پارٹی کو 18 سال دئیے لیکن پھر بھی الیکشن میں کھڑے نہیں ہونے بلکہ مجھے ریزرو سیٹ دی جارہی تھی جو کہ مجھے نا منظور تھا اب میں آزاد امیدوار کے طور پر کام کررہی ہوں اور آزاد امیدوار ہی رہوں گی یہ مشکل تو ہے لیکن نہ ممکن نہیں
یہ صرف ایک سیاسی خاتون کی آپ بیتی نہیں بلکہ اس حوالے سے جاننے کے لیے ہم نے دعا زبیر سے بھی ان کے خیالات جانے دعا صاحبہ نے 2008 میں پرامید ہوکر پاکستان تحریک انصاف کا حصہ بنی۔ دعا صاحبہ کا کہنا ہے کہ میں پہلی خاتون تھی جس نائن زیرو کے اطراف میں رہنے کے باوجود بھی پی ٹی آئی جوائن کی عمران خان صاحب بہت ایماندار ہیں اور خواتین کو عزت بھی دیتے ہیں پی ٹی آئی کے 126 دن کے دھرنے میں خواتین نے بھرپور حصہ لیا جس میں بھی شامل تھی میرا تعلق کشمیر سے ہے اس ہی لیے میں نے کشمیر جاکر بھی اپنی جماعت کے لیے کام کیا تک کہ پہاڑی علاقوں میں بھی جاکر اپنی پارٹی کے جھنڈے لگا لیکن پھر میرے ساتھ پارٹی نے وفا نہیں کی 2018 میں میرے خاتون ہونے کی بنا پر مجھے لیاری سے الیکشن نہیں لڑنے دیا تاکہ ایک مرد وہاں پر کرسی سنبھالے اب کوئی بھی سیاسی جماعت ہو ہر کوئی صرف نام کی لبرل پارٹی ہے مجھے 13 سال ہوگئے اب تک میں نے دیکھا کے کسی خاتون کو آگے لانے کے پارٹی نے فنڈز دئیے ہو موجودہ دور میں تو پارلیمنٹ میں بھی خواتین کی تعداد کو دیکھا جاسکتا ہے اور جو خواتین موجود ہیں وہ خود اپنے لیے فنڈز دے کر آتی ہیں ہمارے یہاں سیاست میں جنس اور معاشی حالات دیکھ کرہی آگے لایا جاتا ہے ہر کوئی اتنا معاشی مستحکم نہیں ہوتا کہ اپنے لیے فنڈز دے سکے اب تو بھائی، باپ یا سسر اگر سیاست میں ہو تو ہی منزل آسان دیکھائی دیتی ہے یہ وجہ تھی کہ میں آج آزاد امیدوار کے طور پر کام کررہی ہوں 2021 میں میں کشمیر کی وہ واحد خاتون تھی جو آذاد امیدوار کے طور پر سامنے آئی کشمیر میں ہونے والے انتخابات میں ایک ہزار ووٹ حاصل کیے۔
سیاست کے اس میدان میں قدم بڑھاتی ایسی ہی ایک شاہینہ سعیدہ بھی ہیں جو کئی سالوں سے سیاست جیسے پیشے میں اپنی پہچان بنانے کی تگ و دو میں مصروف ہیں شاہینہ صاحبہ کا کہنا ہے کہ سیاست میں آنے کے لیے سب پہلے اپنے آپ سے اور پھر اپنے ہی خاندان سے لڑنا پڑتا ہے میری خاندان میں سے آج تک کوئی سیاست میں نہیں آیا اس ہی مجھے سیاست میں آنے کےلیے اپنے گھر والوں سے بغاوت کرنی پڑی اور اس علاوہ میرے پاس کوئی چارہ نہیں تھا میں بے نظیر بھٹو شہید کی بہادری اور ذہانت دیکھ کر متاثر ہوئی ان جیسا بنے کا خواب دیکھا اور پاکستان پیپلزپارٹی جوائن کی ، آگے آنے کا تو موقع مل رہا ہے لیکن ہر سیاسی جماعت میں اچھے اور برے لوگ موجود ہوتے ہیں کوئی کسی کو آگے بڑتا نہیں دیکھ سکتا کئی بار خواتین آپس میں ہی کمتری کا شکار ہونے لگتی ہیں اور جب اپنے گھر والے ہی ساتھ نہ ہو تو سفر مزید مشکل ہو جاتا ہے سیاست کا شوق بھی بہت مشکل شوق ہے جس میں روز نئے مرحلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے پاکستان میں اب بھی تعلیم یافتہ خواتین کو آگے چاہیے تاکہ سیاست میں خواتین کا کردار مزید مضبوط ہوسکے
سیاست سے وابستہ یہ چند خواتین کے تاثرات تو یہاں بیان ہیں پاکستان میں سیاست بھی خواتین کے لیے ایک شعبہ ہے جس ہمت لگن اور مستقل مزاجی ہی اپنی منزل کی جانب ہی لے جاسکتی ہے
سیاسی میدان میں خواتین کی جدوجہد
القمر
