English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

دھرنے کا 19 واں دن ،شہری وزیراعلیٰ ہائوس جانے کی تیاری کریں،حافظ نعیم الرحمٰن

امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن سندھ اسمبلی کے باہر دیے گئے دھرنے کے 19ویں روز شرکاء سے خطاب کررہے ہیں

کراچی(اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی کے تحت سندھ حکومت کے بلدیاتی کالے قانون کے خلاف سندھ اسمبلی کے سامنے جاری دھرنا19ویں روزمیں داخل ہوگیا۔ دھرنے میں عوامی شرکت اور جوش و خروش میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ،شہر بھر سے بڑی تعداد میں خواتین بھی مسلسل شرکت کررہی ہیں ۔ 18ویں روزشہر بھر سے تاجر تنظیموں و ایسوسی ایشنز کے عہدیداران ودیگر وفود نے دھرنے میں شرکت کی اور دھرنے کے شرکا سے بھرپور اظہار یکجہتی کیا۔ دھرنے سے نائب امیر کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی ، سیکرٹری کراچی منعم ظفر خان و دیگر نے بھی خطاب کیا۔امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے سندھ اسمبلی کے باہر دھرنے کے18ویں روز شرکااور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ایم کیو ایم بار بار حکومت کا حصہ رہی لیکن اس نے ہر دور میں کراچی کے عوام کا استحصال کیا ،اس جماعت کے حکومت میں رہنے کے باوجود اس شہر نے پیچھے کی طرف سفر کیا ہے،شہرکا بہت نقصان ہوا،شہریوں کے لیے بنیادی سہولیات مسلسل چھینی جارہی ہیں،ہمارا دھرنا کراچی کے 3 کروڑ عوام کی توانا آواز بن چکا ہے جبکہ باقی جماعتوں نے احتجاج کے لیے 2 ،2 ماہ کی تاریخ دے کر جان چھڑالی ہے ،جماعت اسلامی کے ضلعی سطح پر کارکنان اور عوام بڑی تعداد میں شریک ہورہے ہیں ،جمعرات 20جنوری کو حسن اسکوائر پر خواتین کا عظیم الشان احتجاج اور دھرنا ہوگا ،کراچی کے اہم اور اسٹریٹجکٹ پوائنٹ پر دھرنا دیں گے اور مائیں ،بہنیں ،بیٹیاں بھی دھرنا دیں گی اوراپنا حق مانگیںگی، ایک ہفتے میں پورے شہر میں2ہزار کارنر میٹنگز کریں گے، حق دو کراچی کو کی صدا ہر گلی کوچے ،محلے اور ہر گھر سے نکلے گی ، جدوجہد آگے بڑھے گی ،مطالبات کی منظوری کے لیے وزیر اعلیٰ ہاؤس بھی جاسکتے ہیںشہری تیاری کریں ،بلدیاتی بل کا مسئلہ حل کرانے کے بعد گورنر ہاؤس کا رخ کریں گے۔ پورے صوبے میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ اس شہر میں جماعت اسلامی کی طویل خدمات ہیں۔جماعت اسلامی نے اس شہر میں کم بیک کر لیا ہے۔اپوزیشن جماعتوں کی ذمے داری تھی کہ کالے بلدیاتی قانون کے خلاف زبردست احتجاج کرتیں اور سندھ حکومت اسمبلی میں ہی بل واپس لینے پر مجبور کردیتیں لیکن آج یہ جماعتیں مشترکہ رسمی احتجاج کرکے مظلوم بننے کی کوشش کررہی ہیں ۔امیرجماعت اسلامی کراچی نے کہاکہ ساڑھے 3 کروڑ سے زاید شہریوں کے لیے کراچی میں کوئی مؤثر ٹرانسپورٹ کا نظام تک موجود نہیں ہے ، وفاقی وصوبائی حکومتوں نے کراچی کو مکمل نظر انداز کیا ہوا ہے ، وفاق کے تحت گرین لائن منصوبہ جسے 2017ء میں مکمل ہونا تھا لیکن 2018ء میں شروع ہونے والایہ پروجیکٹ آج تک مکمل نہیں ہوسکااور دوسری جانب سندھ حکومت نے 6سال میں اورنج لائن کا منصوبہ مکمل نہیں کیا ،صوبائی حکومت بار بار اعلانات تو کرتی رہی لیکن عملاً کراچی کو ایک بھی سرکاری بس نہیں دے سکی ۔سرکلر ریلوے آج بھی بند پڑی ہے۔انہوں نے کہاکہ تعلیم کے لیے 277 ارب روپے اور صحت کے لیے 150 ارب روپے مختص کیے گئے لیکن 40فیصد سے زاید بچے تعلیم سے محروم ہیں اعلیٰ تعلیم کی صورتحال یہ ہے کہ پورے سندھ میں صرف 2سرکاری یونیورسٹیاںہیں،ہر سال 50 ہزار طالبعلم انٹرمیڈیٹ کے امتحانات دیتے ہیں جبکہ صرف16 ہزار طالبعلموں کو ہی یونیورسٹیز میں داخلہ ملتا ہے ،ہر بدلتے دن کے ساتھ کراچی کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ اگر اس شہر کو محروم کرو گے تو پورا پاکستا ن محروم ہوگا۔ہم سیٹیں کم زیادہ ہونے کی بات نہیںایشوزکی بات کررہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے