English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

جب امریکہ میں ڈبل روٹی کے سلائس پر پابندی لگی

ڈبل روٹی کا سلائس ہمارے لیے ناشتے یا لنچ میں کھانے کی ایک معمول کی چیز ہے۔ لیکن امریکہ میں جب پہلی بار سلائس کی ہوئی ڈبل روٹی بازار میں فروخت کے لیے آئی تھی تو اس نے خریداروں کو حیران کر دیا تھا۔ لیکن کچھ ہی عرصے بعد اس پر لگنے والی اچانک پابندی نے بھی انہیں حیرت زدہ کر دیا تھا۔

سن 1928 سے قبل بیکری سے تیار ہونے والی ڈبل روٹی ثابت ہی فروخت ہوتی تھی اور اس کے استعمال کے لیے خریداروں کو اس کے سلائس خود کاٹنا پڑتے تھے۔ گھروں میں اکثر خواتینِ خانہ کو یہ کام کرنا پڑتا تھا جس کے لیے انہیں کافی تردد کرنا پڑتا تھا۔

امیرکن سوسائٹی آف بیکنگ کے مطابق اوٹو روہویڈر نے سب سے پہلے اس مشکل کا ادراک کیا۔ وہ پیشے کے اعتبار سے سنار تھے اور ساتھ ہی نت نئی ایجادات میں دلچسپی رکھتے تھے۔

اپنے زیورات کے اسٹور پر آنے والوں کی باتوں سے انہیں یہ اندازہ ہوا کہ بیکری سے تیار ہونے والی ڈبل روٹی کے برابر برابر سلائس کاٹنا ہر گھر کی مشکل ہے۔

انہوں نے اس مشکل کا حل نکالنے کا فیصلہ کیا اور 1912 میں بیکری میں تیار ہونے والی ڈبل روٹی کے سلائس کرنے کی مشین بنانے کی کوششوں کا آغاز کر دیا۔

پہلے مرحلے میں وہ اس مشین کا ایک ابتدائی نمونہ یا پروٹوٹائپ بھی تیار کرنے میں کام یاب ہوئے لیکن اس ایجاد کو صنعتی پیمانے پر قابلِ استعمال بنانے کے لیے مزید کام درکار تھا۔

اوٹو روہویڈیر کا زیورات کا کاروبار خوب چل رہا تھا لیکن ان کے سر پر ڈبل روٹی کے سلائس کرنے والی آٹو میٹک مشین ایجاد کرنے کا جنون سوار ہو چکا تھا۔

انہوں نے اس کام کے لیے علیحدہ ایک ورکشاپ تیار کرنے کے لیے اپنا زیورات کا اسٹور بیچ دیا۔ لیکن 1917 میں آتشزدگی کے واقعے میں ان کی ساری محنت ضائع ہو گئی۔

ورکشاپ میں آگ لگنے کے باعث روہویڈر کی سلائسنگ مشین کی ابتدائی ڈرائنگز اور پروٹوٹائپ جل کر خاکستر ہو گئے۔ لیکن روہویڈر نے ہمت نہ ہاری اور سلائسنگ مشین پر کام جاری رکھا۔ بالآخر 1928 میں ان کی کوششیں کام یاب ہوئیں اور وہ ڈبل روٹی کے سلائس کرنے والی پہلی آٹو میٹیک مشین تیار کرنے میں کام یاب ہو گئے۔

روہویڈر سے یہ مشین ریاست میزوری کی ایک بیکنگ کمپنی کے مالک نے خریدی اور سات جولائی 1928 کو پہلی بار سلائس کی گئی ڈبل روٹی فروخت کے لیے پیش کی گئی۔

ڈبل روٹی کا سلائس، تاریخی قدم

ایرون بیبرون اسٹرین کی کتاب ’’وائٹ بریڈ: اے سوشل ہسٹری آف دی اسٹور بوٹ لوف‘‘ کے مطابق ڈبل روٹی فروخت کرنے والے بیکرز نے بھی سلائس کی گئی ڈبل روٹی کی خوب تشہیر کی اور اسے ’بینکنگ کی صنعت کے لیے ایک تاریخی قدم‘ قرار دیا۔

آٹو میٹک مشین سے سلائس ہو کر گھروں تک پہنچنے والی ڈبل روٹی کو ایسی پذیرائی ملی کہ یہ امریکہ میں ضرب المثل بن گئی۔

کسی بھی نئی چیز یا مقبولیت حاصل کرنے والی شخصیت یا آئیڈیا سے متعلق جوش و خروش کو بیان کرنے کے لیے آج بھی کہا جاتا ہے ’دی گریٹسٹ تھنگ سنس سلائسڈ بریڈ‘ یعنی سلائس کی ہوئی ڈبل روٹی کے آنے کے بعد سے فلاں چیز کتنی کارآمد یا مشہور ہے۔

لیکن اپنے دور کی اسی مقبول ترین پراڈکٹ کو 18 جولائی 1943 کو امریکہ میں پابندی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

جنگ اور ڈبل روٹی

سن 1939 میں دوسری عالمی جنگ شروع ہونے کے بعد امریکہ کے صدر فرینکلن روز ویلٹ نے جنگ کے دنوں میں انتظامی حکم نامے کے ذریعے آفس آف پرائس ایڈمنسٹریشن قائم کیا تھا۔

یہ آفس مقامی سطح پر خوراک کی قیمتوں اور طلب و رسد کی نگرانی کا کرتا تھا۔ 18 جنوری 1943 کو سلائس کی صورت میں کٹی ہوئی ڈبل روٹی پر پابندی کا حکم نامہ اسی کی جانب سے جاری کیا گیا تھا اوراس اقدام کے کئی اسباب بتائے گئے تھے۔

کراچی کے مشہور ہاٹ کراس بنز





please wait



No media source currently available

آفس آف پرائس ایڈمنسٹریشن نے بیکنگ کے لیے جو نئے قواعد جاری کیے تھے اس کی وجہ سے آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا تھا۔ حکومت چاہتی تھی کہ اس اضافے کا بوجھ عوام کی جیب پر نہ پڑے۔

اس وقت سلائسنگ مشین ملک گیر مقبولیت حاصل ہو چکی تھی اور اس کی مانگ بھی بڑھتی جا رہی تھی۔ بیکری مالکان اس مشین پر آنے والی لاگت ڈبل روٹی کی قیمت میں شامل کرتے تھے۔ اس لیے سلائس کی گئی ڈبل روٹی کی قیمت ثابت ڈبل روٹی کے مقابلے میں زیادہ ہوتی تھی۔

اس لیے ڈبل روٹی کی قیمتوں میں اضافے کو روکنے کے لیے سلائس کی ہوئی ڈبل روٹی اور بریڈ سلائسنگ مشین پر بھی پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

امریکہ جریدے ’ٹائم‘ کے مطابق حکام اس بات پر قائل ہوچکے تھے کہ سلائسنگ مشین کی مانگ بڑھنے کی وجہ سے اسٹیل کی کھپت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس لیے جنگ میں سینکڑوں ٹن اسٹیل کی بچت کے لیے بھی یہ پابندی لگائی گئی تھی۔

ڈبل روٹی زیادہ اور آٹا کم

ڈبل روٹی اور اس کی مختلف اقسام کی تاریخ پر مبنی بلاگ ’ہسٹری آف بریڈ‘ کے مطابق ڈبل روٹی کے صفائی سے کٹے ہوئے سلائس دستیاب ہونے کی وجہ سے اس کی کھپت میں بھی اضافہ ہو گیا تھا۔

ایرون بیبرون اسٹرین بھی اپنی کتاب میں اس دعوے کی تصدیق کرتے ہیں۔ ان کے مطابق 1928 میں پہلی بار سلائس کی گئی ڈبل روٹی متعارف کرائی گئی اور 1936 تک امریکہ میں فروخت ہونے والی ڈبل روٹی میں سے 90 فی صد سلائس کی گئی ہوتی تھی۔

وہ لکھتے ہیں کہ سلائس کی گئی ڈبل روٹی بیچنے والی بیکریز کی سیل میں سو سے تین سو فی صد اضافہ ہوا۔

لاہور کی سوغات، خلیفہ کی نان خطائی





please wait



No media source currently available

اس لیے سلائس کی گئی ڈبل روٹی پر پابندی لگانے کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ جنگ کے دنوں میں آٹے کی بچت کے لیے بھی یہ اقدام کیا گیا تھا۔

سلائس ہونے کے بعد ڈبل روٹی کو سوکھنے اور باسی ہونے سے بچانے کے لیے اس پر بٹر پیپر یا روغنی کاغذ لپیٹا جاتا تھا۔ جنگ کے باعث حکومت کو ملک میں روغنی کاغذ کی قلت کا خدشہ تھا اور یہ بھی سلائس پر پابندی کی ممکنہ وجوہ میں سے شامل تھا۔

’میرا وقت اور توانائی‘

ابتدا میں اس پابندی پر سختی کے ساتھ عمل درآمد کرایا گیا۔ کئی بیکریوں پر جرمانے بھی ہوئے۔

مینٹل فلاس میگزین کے مطابق عوامی سطح پر اس فیصلے کو ناپسند کیا گیا۔ 26 جنوری کو ایک خاتون سو فوریسٹر نے نیو یارک ٹائمز کو مراسلے میں لکھا کہ سلائس کی گئی ڈبل روٹی گھر کے لیے بہت اہم ہے۔

فورسٹر نے اپنے مراسلے میں یہ بھی لکھا تھا کہ انہیں اپنے اہل خانہ کے لیے روزانہ ڈبل روٹی کے تیس سلائس کاٹنے پڑتے ہیں جو ایک امریکی شہری کی توانائی اور وقت کا ضیاع ہے۔

انہیں یہ بھی شکایت تھی کہ اس اقدام سے اخراجات میں کمی بھی نہیں ہو رہی کیوں کہ جنگ کے دنوں میں ڈبل روٹی کاٹنے کی اچھی چھری تلاش کرنا پڑ رہی ہے جو عام دنوں میں بھی آسانی سے نہیں مل پاتی۔

اندازے درست ثابت نہیں ہوئے

اس پابندی کا اطلاق ہوٹل، ریستوران اور ریل کی ڈائنگ کار پر نہیں ہوتا تھا۔ا لبتہ دیگر جگہوں پراس پابندی پر سختی سے عمل درآمد کرایا گیا۔ کئی مقامات پر سلائس کی گئی ڈبل روٹی فروخت کرنے پر جرمانے بھی ہوئے۔

مینٹل فلاس نے اس دور میں اخبار ’ہیرس برگ ٹیلی گراف‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس پابندی سے جس سطح پر بچت کا اندازہ لگایا گیا تھا وہ غلط ثابت ہوئے۔ بلکہ بیکری اشیا کی فروخت میں بھی پاچ سے دس فی صد کمی آئی جس میں سلائس بریڈ کی عدم دستیابی کو بھی ایک بنیادی وجہ بتایا گیا۔

جریدے ٹائم کے مطابق سلائسنگ مشین پر پابندی سے جس مقدار میں اسٹیل کی بچت کا اندازہ لگایا گیا تھا وہ بھی درست ثابت نہیں ہوا اور چند ٹن اسٹیل ہی کی بچت ہو سکی۔ اس کے علاوہ اشیا کی طلب و رسد پر نظر رکھنے والے اداروں نے بتایا کہ ملک میں چار ماہ کے لیے بٹر پیپر کی بھی وافر مقدار موجود ہے۔

ان نتائج اور عوامی ردِعمل کی وجہ سے یہ پابندی دو ماہ بھی نہ چل سکی اور آٹھ مارچ 1943 کو سلائسڈ بریڈ فروخت کرنے کی اجازت دے دی گئی۔

نیو یارک ٹائمز میں اس کی خبر اس طرح شائع ہوئی کہ آج سے بیکری میں سلائس کی گئی ڈبل روٹی کی فروخت پر پابندی ختم کی جا رہی ہے۔ جن خواتینِ خانہ نے گزشتہ تقریباً دو ماہ میں اپنے انگوٹھوں اور مزاج کی برہمی کا خطرہ مول لیا انہیں کل سے سودا سلف کی دکانوں پر دوبارہ سے سلائس کی گئی ڈبل روٹیاں دستیاب ہوں گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے