پاکستان میں حزبِ اختلاف کی جماعتیں حکومت مخالف لانگ مارچ کے اعلان کے بعد وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لانے پر غور کر رہی ہیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد لانا حزب اختلاف کی جماعتوں کا آئينی حق ہے لیکن ہم اسے سنجیدہ نہیں لے رہے۔ اپوزیشن تحریک عدم اعتماد لائے، ہم سامنے کرنے کیلئے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فنانس بل کے موقع پر اپوزیشن کی جانب سے حکومتی صفوں میں انتشار کے دعوے کئے جا رہے تھے جو تمام غلط ثابت ہوئے۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے اپنے اتحادیوں کی توقعات پر پورا اُتریں۔ مجھے نہیں لگتا کہ تحریک انصاف کے اتحادی اپوزیشن کی وجہ سے ہمارا ساتھ چھوڑ جائیں گے۔ ہميں اپنے اتحاديوں پر پورا اعتماد ہے۔
ایوان وزیر اعظم میں اس وقت بجا طور پر خوف کا موسم ہے۔ خوف کی اسی فضا میں لندن سے ملاقاتوں کی خبریں آتی ہیں تو زلزلے کے جھٹکے اسلام آباد میں محسوس کئے جاتے ہیں۔ کبھی ایکسٹنشن مسئلہ کا حل قرار پاتی ہے اور کبھی الزام تراشی کی ایک نئی مہم سے اس خوف پر قابو پانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اعلان ہوتا ہے کہ وہ دست شفقت جو ہمارے سروں پر دراز ہے اسے چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن ہم ان ’ناپاک کوششوں ‘ کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ اس اعتراف میں اپنے ہی دعوؤں سے انکار کا سارا سامان مہیا ہے۔ ’میں بااختیار، میں کسی سے نہیں ڈرتا، وہ تو میرے نیچے ہے‘ ایسے سارے صیغے بے معنی ہوکر رہ جاتے ہیں۔ بدحواس اور مضطرب ترجمانوں کی وضاحتوں پر غور کیا جائے تو سوائے ہوس اقتدار کی تکرار کے کوئی معنی معلوم نہیں پڑتے۔ کیا یہی مدینہ ریاست کی طرف سفر کا کل زاد راہ ہے؟
اس وقت ملک کو جن حالات کا سامنا ہے خواہ ان کا تعلق معیشت سے ہو یا علاقائی ممالک کے ساتھ تعلقات سے، عالمی اداروں سے مراسم ہوں یا بڑی طاقتوں کے درمیان پھنسے ہوئے قومی مفادات۔۔۔ یہ قوم صرف ایک ہی وجہ سے اس منجدھار میں پھنسی ہے۔ اس وجہ کو شیخ رشید جی ایچ کیو کے گیٹ نمبر 4 یا سایہ شفقت کا نام دیتے ہیں، فواد چوہدری ایک پیج کی علامت استعمال کرتے ہیں اور عمران خان خود ’میرے فوج کے ساتھ مثالی تعلقات ہیں‘ جیسے دعوؤں سے سامنے لاتے ہیں۔ ان دعوؤں میں دکھائی دینے والی بے بسی صاف کہہ رہی ہوتی ہے کہ معاملات پر کسی کا اختیار نہیں ہے اور اختیار والے من مانی کے عادی ہوچکے ہیں۔ اس من مانی نے ملک میں آئینی جمہوریت کا راستہ کھوٹا کیا ہے اور سیاسی ماحول میں انتشار، نفرت اور تصادم کی ایسی خطرناک صورت پیدا کردی ہے کہ سیاست دان چاہنے کے باوجود بہتری کا کوئی راستہ تلاش نہیں کر پاتے۔
یہ صورت حال اور اسے تسلیم کرنے کا خطرناک نتیجہ ہے کہ اقتدار پر قابض ہونے کے باوجود یہ یقین نہیں کہ مدت پوری کرنے کا موقع ملے گا یا نہیں۔ ساری صلاحیت مخالفین کو چور کہنے پر صرف کی جا رہی ہے لیکن جہاں سے جمہوریت پر وار ہونے کا سب سے زیادہ اندیشہ ہے، اس در کو کھلا رکھنے پر اصرار ہے۔ اس بوالعجبی میں ایک ہی موہوم سی امید ہے۔ یہ مطالبہ کہ انتخاب ہوں، عوام کو فیصلہ کرنے کا موقع ملے اور انتخابات میں دھاندلی نہ کرنے کی یقین دہانی کروائی جائے۔ اگر ملک کی ایک بڑی سیاسی قوت اس یقین دہانی کے بغیر حکومتی تبدیلی اور نئے نظام کی طرف پیش قدمی سے انکار کر رہی ہے تو اسے غنیمت جاننا چاہئے۔ عمران خان آمریت مسلط کرنے کے خواب دیکھنے اور ہتھکنڈے تلاش کرنے کی بجائے اگر شفاف انتخابات کی طرف قدم بڑھانے کی تیاری کریں تو شاید ان کی اپنی سیاست کے لئے یہی بہترین راستہ ہوگا۔
بہرحال جہاں تک تحری عدم اعتماد کی بات ہے تو یہ محض حکومت پر دباؤ ڈالنے والی بات ہے وگرنہ اپوزیشن کو بھی اس بات کابخوبی اندازہ ہے کہ اس سے حاصل کچھ نہیں ہوگا۔ کیونکہ وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے دوران ”خفیہ رائے شماری“ والی سہولت بھی میسر نہیں ہوتی۔ قومی اسمبلی کے اراکین کو اپنی نشستوں سے اٹھ کر تحریک کے حامیوں اور مخالفین کے لئے مختص لابیوں میں جاکر وہاں موجود رجسٹر پر دستخط بھی کرنا ہوتے ہیں۔ ہمارے آئین میں واضح طور پر لکھ دیا گیا ہے کہ اگر وزیر اعظم کے انتخاب یا اس کے خلاف پیش ہوئی تحریک اعتماد کے دوران کسی رکن قومی اسمبلی نے اپنی جماعت کی قیادت کی ہدایات کے برعکس ووٹ دیا تو وہ اپنی نشست سے محروم ہو جائے گا۔ اس شق کے ہوتے ہوئے تحریک انصا ف کی ٹکٹ پر منتخب ہوا ایک رکن اسمبلی بھی عمران خان کے خلاف ووٹ ڈالنے کی جرات دکھا نہیں سکتا۔ بہرحال تحریک عدم اعتماد بہت بڑا جوا ہے جو اپوزیشن کھیلے گی اب دیکھنا ہے کہ کھلاڑی اور ایمپائر اس مرتبہ کس طرح کھڑے ہوتے ہیں؟
ہفتہ، 22 جنوری 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
The post ایک بار پھر تحریک عدم اعتماد کی گونج appeared first on شفقنا اردو نیوز.
