English Al Qamar Urdu جون 21, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ایک کشمیری، خاتون اور پھر صحافی ہونا کیسا ہے؟ شفقنا خصوصی

القمر
اکیس سالہ عذرا صوفی( نام تبدیل کر دیا گیا ہے) نے صحافی بننے کے اپنے بچپن کی خواہش کو والدین کے دباؤ پر ترک کر دیا ہے۔ وہ مسلسل اپنے والدین کو قائل کرنے کی کوشش کر رہی ہے وہ اسے صحافی بننے کے خواب کی تکمیل کی اجازت دیں مگر وہ نہیں جانتیں کہ وہ اس دباؤ پر کب تک مزاحمت کر سکتی ہیں۔ بھارتی حکام کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کی وجہ اور رشتہ داروں کی باتوں کی وجہ سے اس کے والدین ہچکچاہٹ کا شکار ہیں اور بہت سارے خدشات ہیں۔ عذرا صوفی کا کہنا ہے کہ بعض اوقات یہ بحث اس بات پر ختم ہوتی ہے کہ اگر حالات خراب ہوگئے تو میرے پاس اسے چھوڑنے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے۔ صحافتی سکول میں داخلے میں تیاری کی بجائے عذرا اپنے والدین کو راضی کرنے کی کوشش کررہی ہے۔
مگر اس کے والد کی دوست کی جانب مداخلت کے بعد اس کو اپنے خواب کے حصول کی کوشش کی اجازت دے دی گئی۔ لیکن تاحال اس کے لیے چیزیں آسان ہیں اور یہ فیصلہ کرنے وجہ سے اس پر طنز اور تنقید ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دباؤ اس کی ذہنی صحت اور سکون کو تباہ کررہاہے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں صحافت کا شعبہ خاص طور پر خواتین کے لیے کوئی آسان شعبہ نہیں ہے۔ کیونکہ خواتین صحافی کو ایسے معاشرے میں بہت ساری مشکلات کا سامنا ہوتا ہے جہاں عورت کو محض چار دیواری میں قید چیز سمجھا جائے۔ راہ چلتے ہوئے لوگوں کی جانب سے بے ہودہ فقرے، خطرے اور بھارتی حکام کی جانب سے دھمکیاں والدین کے لیے سب سے بڑے خدشات ہیں۔
ایک اکیس سالہ بیٹی کے والد کا کہنا تھا کہ ایسا شعبہ چنو جس کے لیے تمہیں باہر بھٹکنے کی ضرورت نہ پڑے اور تمہیں اندر رہ کر کام کرنا پڑے۔ 26 سالہ قرات العین رہبر جو کہ انڈیپینڈنٹ کی صحافی ہیں اور کشمیر میں مقیم ہیں کو حال ہی میں بھارتی حکام نے طلب کر کے ان سے ذاتی معلومات مانگی ہیں۔ حکام کا کہنا تھا کہ وہ ان کے علاقے میں مقیم صحافیوں کی تصدیق کر رہے ہیں۔ ان کا فون مسلسل تین دن بجتا رہا اور ان سے مسلسل یہ سوالات ہوتے رہے کہ آپ کس کے لیے لکھتی ہیں؟ آپ سری نگر میں کہاں رہتی ہیں اور آپ کتنا کما لیتی ہیں۔ قرات العین کا کہنا تھا کہ مجھے یوں لگ رہا ہے جیسے میں مشکل میں پڑ گئی ہوں۔ اس سال کے اوائل میں قرات العین سینکڑوں ممتاز صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنان اور سیاست دانوں میں سے ایک تھیں جن کو بلی بے ایپلی کیشن پر نیلامی کے لیے ڈالا گیا۔ بلی بے مقامی زبان میں مسلمان خواتین کے لیے قابل نفرت لفظ ہے ۔ اس سانحے نے انہیں ذہنی دباؤ کا شکار کر دیا۔

دباؤ

 2019 میں نریندرا مودی کی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 کے خاتم کے بعد بھارتی مقبوضہ کشمری میں صحافیوں کے خلاف ہراسگی، دھمکیاں، گرفتاریاں اور جسمانی تشدد میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا ہے۔ ایک مقامی اخبار دی کشمیریت کی جانب سے جمع کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق ایک 49 سالہ کشمیری صھافی کو ہراسگی اور دھمکیوں کے 32 واقعات کا سامنا کرنا پڑا۔ رپورٹ کے مطابق ہراسگی کے یہ سانحات شناختی کارڈ چھیننے، جسمانی تشدد، تھانوں میں طلبی ، ایف آئی آر کے اندراج اور ان کی رہائشوں پر حملے پر مشمتل تھے۔
2021 میں کشمیر میں تعینات ایک پولیس افیسر نے اکنامک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ انکاؤنٹر کے مقامات پر بہت سارے ناخوشگوار واقعات پیش آئے ہوں گے کیونکہ پولیس دباؤ میں ہوتی ہے تاہم ہماری ترجیح انسانی جانوں کا تحفظ ہے۔ اگر کوئی صحافی کسی بھٹکی ہوئی گولی کا نشانہ بن جائے تو کسے الزام دیا جائے؟22 سالہ مشکورہ جو کہ ایک تربیتی صحافی ہیں ایک کیمرہ مین کو ہدایات دے رہی تھیں جب ایک پیدل سفر کرنے والا شخص ان پر چیخنا شروع ہوگیا  کے ” یہ کس فلم کی شوٹنگ چل رہی ہے” اور وہ یہ کہہ کر اونچی آواز میں ہنسنے لگا۔ مگر مشکورہ اس شخص کو جواب دینے کی جرات نہ کر سکیں اور کانپنے لگیں۔ وہ اپنا یہ تجربہ اپنے والدین اور رشتہ داروں کا نہ بتا سکی کیونکہ اسے ڈر تھا کہ اسے گھر بٹھا دیا جائےگا۔

خاموش کردینے کے احکامات

جب جموں و کشمیر نے 2019 میں اپنا خصوصی سٹیٹس کھو دیا تب ایک براڈ کاسٹ صحافی شاہانہ بٹ مکمل طور پر پریشان تھیں کہ کیا ہورہا ہے۔ مواصلاتی چینلز بند کر دیے گئے ، وادی کو دنیا سے مکمل کاٹ کر رکھ دیا گیا اور پورے مقبوضہ کشمیر کو جیل میں تبدیل کر دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ہنس رہی تھیں کہ میرے اللہ ہمیں صرف ریڈیو نسل تک محدود کر دیا گیا ہے۔ تاہم ایک صحافی کے طور پر وہ بے بس تھیں اور ان کے ذہن میں بہت سارے شہبات تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافت کو ایک قابل عزت شعبے کے طور پر چننے کے بعد آپ کو یہ بتایا جاتا ہے کہ آپ نے کیا رپورٹ کرنا ہے اور کیا نہیں۔
ان کے لیے اور دیگر بہت سارے صحافیوں کے لیے اپنے دفاتر اور ساتھیوں کے ساتھ رابط کرنا چیلنجنگ تھا۔ آئین میں تبدیلی کے 5 دن بعد میرے دفتر کے ساتھی میرے پاس آئے اور مجھے اطلاع دی کہ حکومت نے میڈیا فیسیلیٹیشن سنٹر کا قیام عمل میں لایا ہے۔ میں یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ 250 صحافیوں کو 2 سے تین کمپیوٹر فراہم کیے گئے ہیں۔ خود کو فقیروں کی طرح دیکھنا بہت تکلیف دہ تھا۔ خاتون صحافیوں جیسا کہ بٹ اور قرت العین نے اپنے مرد ساتھیوں کی طرح ہدایات پر عمل کیا۔ تاہم انہوں نے اپنی زندگیوں کو داؤ پر لگایا اور میدان میں نکل پڑیں جہاں پوری وادی بھارتی فوجیوں سے بھری ہوئی تھی اور وہ ایک ایک حرکت پر نگاہ رکھے ہوئے تھے۔ قرت العین کا کہنا تھا کہ وہ رپورٹنگ کے لیے کئی میل تک پیدل چلیں کیوں کہ ان کے پاس ذاتی گاڑی نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ پریشانی کا شکار تھے کیونکہ انہیں اپنے عزیزو اقربا کی کوئی خبر نہیں تھی۔

مسلسل دھمکیاں

گزشتہ برس مسرت زہرا نے الزام عائد کیا کہ ان کے والدین کو سرینگر پولیس نے تشدد کا نشانہ بنایا۔ طاقت کے نشے میں چور جموں و کشمیر پولیس نے ان کے والد کا شناختی کارڈ چھین لیا گیا اور جب میری والدہ نے مداخلت کرنے کی کوشش کی تو انہیں بھی دھکے مارے گئے۔ بعض لوگ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ پولیس نے ایک بزرگ جوڑے کے ساتھ ایسا سلوک کیوں کیا۔ اس مہینے کے آغاز میں وائر کی جانب سے ایک تحقیقات کے دوران جو ممتاز صحافیوں مسرت زہرا اور قرات العین رہبر ان بیس صحافیوں میں شامل تھیں جن کو ٹیک فوگ نظام کے ذریعے سب سے زیادہ نشانہ بنایا گیا۔ یہ براؤزر بیسڈ ایپلی کیشن بھارتی حکومتی پارٹی بی جے پی کی جانب سے استعمال کی گئی ہے جس کا مقصد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز میں گھس کر غلط معلومات پھیلانا اور خاتون صحافیوں کو جنہیں حکومت مخالف سمجھتی ہے نشانہ بنانا ہے۔
وادی میں بڑھتے تناؤ کے باوجود ، نوجوان خواتین صحافی اگلےمورچوں پر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔ کشمیری خواتین صحافی اپنی جراءت کی وجہ سے بہت سارے بین الاقوامی ایوارڈز جیت چکی ہیں۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں خاتون صحافی ہونا بذات خود ایک چیلنجنگ کام ہے مگر یہ دلیر خواتین تمام تر ہراسگی، دھمکیوں اور جسمانی تشدد کے باوجود اپناکام جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ہفتہ، 22 جنوری 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

The post ایک کشمیری، خاتون اور پھر صحافی ہونا کیسا ہے؟ شفقنا خصوصی appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے