اسلام آباد (رپورٹ: میاں منیر احمد) ملک کی کسی سیاسی جماعت میں حقیقی جمہوریت نہیں ہے‘ کسی جماعت میں موروثیت ہے اور کسی جماعت میں لیڈر شپ کے مقابلے میں کوئی امیدوار نہیں آتا‘ جیسی جمہوریت ملک میں ہے ویسی ہی جمہوریت سیاسی جماعتوں میں ہے جس جماعت میں جمہوریت کا دعویٰ کیا جاتا ہے‘ وہاں بھی سب کچھ پہلے ہی طے ہوتا ہے جو لوگ ملک کی بربادی لٹتے ہوئے دیکھ کر بھی مسلم لیگ(ن) کو پسند کریں تو وہ پھر چور ہی کو ووٹ دیں گے‘ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی اگر نواز شریف کو ہی لیڈر ماننا ہے تو اس کا مطلب چور کو ہی منتخب کرنا ہے۔ان خیالات کا اظہار تحریک انصاف کے ترجمان اور سینئر رہنما افتخار چودھری،تحریک انصاف یوتھ کے رہنما اور کاروباری شخصیت سید فہد جعفری ، تجزیہ کار اعجاز احمد ، مسلم لیگ(ض) پنجاب کے صدر میاں ساجد حسین، پیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی نواب زادہ افتخار احمد خان اور مسلم لیگ(ن) کے رکن اسمبلی میاں جاوید لطیف نے جسارت کے اس سوال کے جواب میںکیا کہ’’نواز شریف اپنی جماعت میں انتخابات کرا کر ووٹ کو عزت کیوں نہیں دیتے؟‘‘ افتخار چودھری نے کہا کہ ویسے جو لوگ ملک کی بربادی اورلٹتے ہوئے دیکھ کر بھی اگرن لیگ کی جانب دیکھیں گے تو وہ پھر چور ہی کو ووٹ دیں گے‘ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی اگر نواز شریف کو ہی لیڈر ماننا ہے تو اس کا مطلب چور کو ہی منتخب کرنا ہے ۔ سید فہد جعفری نے کہا کہ یہ اس لیے نہیں کرانا چاہتے کہ یہ اپنی تاریخ کو دہرائیں گے جیسے ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی زندگی میں اپنی صاحب زادی کو سیاسی میدان میں لانے کی تدبیر کی اور انہیں شملہ ساتھ لے کر گئے‘ بھٹو کے بعد ان کی بیٹی بے نظیر بھٹو ہی پارٹی کی لیڈر بنیں اور بعد میں وہ ملک کی وزیر اعظم منتخب ہوئیں ‘مسلم لیگ(ن) میں مریم نواز ہیں کیونکہ وہ نواز شریف کی صاحبزادی ہیں‘ مسلم لیگ(ن) میں یہ بات سمجھی جاتی ہے کہ ان میں نواز شریف جیسا لیڈر موجود ہے‘ یہ دونوں ایسی جماعتیں ہیں جہاں ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ ایک نعرہ ہے عملی طور پر پارٹیوں میں ایسا کچھ نہیں ہے ‘اگر مسلم لیگ(ن) میں الیکشن ہوجائے تو شہباز شریف کو ووٹ اس لیے ملے گا کہ نواز شریف اس وقت اہل نہیں ہیں لہٰذا ووٹ شہباز شریف کو ملے گا‘ نواز شریف اپنی نااہلی کے باعث وزیر اعظم نہیں بن سکتے اور مسلم لیگ(ن) میں حمزہ شہباز کے پسندیدہ شہباز شریف ہیں‘ شہباز شریف ووٹ کو عزت جب ملے گی جب نواز شریف ہوں یا انہیں اقتدار ملے تب ہی ووٹ کو عزت والی بات ہوگی۔ اعجاز احمد نے کہا کہ ہماری سیاسی جماعتوں میں جمہوریت نہیں ہے اور کسی بھی جماعت میں لیڈر شپ کے مقابلے میں کوئی امیدوار سامنے ہی نہیں آتا، تحریک انصاف نے ایک بار الیکشن کرائے تھے‘ جسٹس (ر)وجیہہ الدین کی سربراہی میں یہ کام ہوا مگر نتائج ہمارے سامنے ہیں‘ شریف فیملی کہتی ہے کہ ہم ہیں تو جمہوریت ہے‘ پیپلزپارٹی میںبھی ایسی ہی بات ہے وہاں بھی بھٹو فیملی ہی پارٹی کی سربراہ ہے‘جماعت اسلامی میں قدرے ایک مختلف طریقہ کار ہے تاہم پتا وہاں بھی ہوتا کہ کون امیر منتخب ہوجائے گا، ماضی میں جب ایک بار جماعت اسلامی کے مرکزی عہدیداروں کے انتخاب ہو رہے تھے تو اس وقت میں نے پوچھا تھا اور مجھے کہا گیا کہ کون ہونے چاہئیں، میں نے امیر العظیم کانام لے لیا، لیکن مجھے کہا گیا کہ نہیں سراج الحق ہوں گے پھر ایسا ہی ہوا کہ وہ منتخب ہوگئے۔ ساجد حسین نے کہا کہ پیپلزپارٹی ہو یا مسلم لیگ(ن) ان دونوں میں جمہوریت کہاں ہے؟ جیسا کہا جاتا ہے ویسے ہی کیا جاتا ہے۔ نواب زادہ افتخار احمد خان نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت اپنے منشور پر عمل کرتی ہے اور ہر سیاسی جماعت کا ایک دستور ہے جس کی پابندی کی جاتی ہے‘ پیپلزپارٹی عوام کی ایک مقبول سیاسی جماعت ہے‘ ایک عرصے سے سندھ میں حکومت میں ہے اور 3 بار وفاق میں حکومت بنا چکی ہے، اس نے عوام کی خواہش پر لیبر پالیسی دی‘ مزدوروں کے لیے کام کیا‘ نوجوانوں اور خواتین، اقلیتوں کے لیے کام کیا ہے‘ ہماری لیڈر شپ عوام میں مقبول ہے‘ بھٹو صاحب کے بعد ان کی صاحب زادی نے پارٹی قیادت سنبھالی اور ثابت کیا وہ کہ اس کی اہل تھیں اور اب بلاول زرداری سربراہ ہیں، عوام میں وہ مقبول ہیں ، اسمبلی میں انہیں عوام دیکھ چکے ہیں کہ انہوں نے ہر موضوع پر دلیل کے ساتھ گفتگو کی ہے، لیڈر شپ کوالٹی انہوں نے دکھائی ہے، اگر کسی نے تنقید ہی کرنی ہے تو پھر کون روک سکتا ہے۔ میاں جاوید لطیف نے کہا کہ لیڈر شپ وہی ہوتی ہے‘ جسے عوام میں پذیرائی ہو اور جمہوریت میں لیڈر شپ رول کے لیے عوام میں مقبول ہونا ہی ایک معیار ہے‘ جہاں تک اہلیت کی بات ہے تو مسلم لیگ(ن) نے ثابت کیا کہ اس کی لیڈر شپ ملک چلانے کی اہل ہے‘ مسلم لیگ(ن) کی 3حکومتوں کے دوران اس ملک میں جو ترقی ہوئی وہ ہمارے سامنے ہے۔

