English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

اگر مجھے نکالا گیا

القمر
وزیرِ اعظم عمران خان نے اتوار کو عوام کے سوالات کا براہ راست جواب دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر وہ اقتدار سے باہر نکل کر سڑکوں پر آ گئے تو وہ اپوزیشن جماعتوں کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ‘اگر میں حکومت سے باہر نکل گیاتو زیادہ خطرناک ہوں گا‘ابھی تک تو میں چپ ہوں اور تماشے دیکھ رہاہوں ‘اگرسڑکوں پر نکل آیاتو آپ کیلئے چھپنے کی جگہ نہیں ہوگی۔ ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر ہونے والے اس سیشن کے دوران عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ‘ابھی تک تو میں چپ کر کے دفتر میں بیٹھا ہوتا ہوں، یا تماشے دیکھ رہا ہوتا ہوں۔ عمران خان نے یہ بھی کہا کہ وہ نہ صرف یہ مدت پوری کریں گے بلکہ آئندہ مدت بھی پوری کریں گے۔
پاکستانی صحافی عنبر رحیم شمسی نے وزیراعظم کے انتباہ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’اس کا صرف مطلب یہ نظر آتا ہے کہ وہ (وزیراعظم) دباؤ محسوس کر رہے ہیں ورنہ لوگوں کو کیوں یاد دلاتے کہ وہ کیسے ردعمل کا اظہار کریں گے۔‘ وزیراعظم عمران خان کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستانی میڈٰیا میں اپوزیشن جماعتوں اور اسٹبلیشمنٹ کے درمیان کسی متوقع ڈیل پر قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں۔ عمران خان کی اتوار کی گفتگو سے دو چیزیں واضح ہوتی ہیں جس میں ایک یہ کہ وہ اقتدار میں رہتے ہوئے بھی وہی باتیں کرتے ہیں جو وہ بطور اپوزیشن کر رہے تھے جبکہ دوسرا یہ کہ انھوں نے بہت اہم پیغام دیا کہ اگر انھیں نکالا گیا تو وہ زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔‘
اس بیان سے لگتا ہے کہ عمران خان اس بات کو ماننے سے انکاری ہیں کہ ان کی مقبولیت کا گراف نیچے گیا ہے اور عام پاکستانی اپنے مستقبل کے لیے پریشان ہے، جس میں اس حکومت کی ناتجربہ کاری اور عمران خان کے وزرا کی نااہلی وجوہات میں شامل ہے۔عوامی مشکلات اور گرتی ہوئی کارکردگی کو نظر انداز کرنا سیاسی حکمت عملی ہوتی ہے تاکہ اگر حکومتوں کو اقتدار سے نکالا جائے تو یہ کہا جا سکے کہ ‘ہمیں مقتدر حلقوں نے نکالا تھا۔ یہاں ایک بات اور بھی اہم ہے کہ پاکستان میں عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے بعد حزب اختلاف میں ہونا ایک جرم سا بن گیا ہے۔ جن پر ان کی نظر کرم ہے یا ان کے ساتھ شامل کر دیے گئے ہیں ان پر سات خون معاف لیکن اگر آپ حزب اختلاف میں ہیں تو آپ کی طبیعت بظاہر صاف کرنے کے لیے نیب، نیب عدالتیں، ایف آئی اے اور دیگر تفتیشی ادارے موجود ہیں۔
مغرب میں زندگی گزارنے اور وہاں کی جمہوریت کو قریب سے دیکھنے والا اور اس کی ہر وقت تعریفیں کرنے والا رہنما کیسے کہہ سکتا ہے کہ حزب اختلاف استعفیٰ دے دے تو یہ ملک کے لیے اچھا ہو گا۔ وہ کیسے وزیراعظم ہوتے ہوئے ایک جھگڑالو شخص کی طرح قومی ٹیلی ویژن پر منہ پر ہاتھ پھیر کر حزب اختلاف کو سبق سکھانے کی دھمکیاں دے سکتے ہیں؟ یہ تکبر اور منتقمانہ خصوصیات ایک کھلاڑی میں کیسے آ سکتی ہیں اور خاص طور پر اس کھیل کا کھلاڑی جسے شرفا کا کھیل کہا جاتا ہے؟ سپورٹس مین سپرٹ اس رہنما میں کیوں نہیں اور کیا اس سپرٹ کا کوئی وجود بھی ہے یا اس کا ذکر صرف زیب داستان کے لیے کیا جاتا ہے۔
اسی طرح ہمارے وزیر اعظم کا بھی ہر تیز رفتار بولر کی طرح ہدف مخالف کی وکٹ اڑانا ہوتا ہے۔ اس کے لیے مختلف طریقے استعمال کیے جاتے ہیں جن میں بال ٹیمپرنگ کے علاوہ باؤنسر اور شارٹ پچ بال بھی شامل ہوتے ہیں۔ ان کا مقصد اپنے حریف کو خوف میں مبتلا کر کے اسے غلطی پر مجبور کرنا ہوتا ہے یا اسے جسمانی نقصان بھی پہنچانا ہوتا ہے۔ لیکن اگر یہی حربے ان کے خلاف استعمال ہوں تو دھاندلی کی بات بھی کی جاتی ہے۔ اپنی دشمنی اور نفرت کا اظہار کرتے ہوئے اس کپتان نے مخالف ٹیم کے ڈریسنگ روم میں جا کر انہیں خوش آمدید کہنے سے بھی انکار کر دیا اور کہا کہ ’میں ان پر لعنت بھیجتا ہوں۔ ‘ یہ رویہ صرف کپتان تک محدود نہیں تھا بلکہ تمام کھلاڑیوں کی سوچ اسی طرح کی تھی۔
وزیراعظم کو احساس کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ اس وقت کوئی کھیل نہیں کھیل رہے جس میں انہوں نے ہر حال میں مخالفین کو شکست فاش دینی ہے یا انہیں نیست و نابود کرنا ہے۔ وہ ایک جمہوری ملک کے وزیر اعظم ہیں جس میں جمہوری قدروں اور قانون کی پابندی ضروری ہے۔ ملک چلانا ایک کھیل نہیں ہے اور ہمارے وزیراعظم کو جتنی جلدی اس کی سمجھ آ جائے تو ملک کے لیے بہتر ہو گا۔ لیکن افسوس کہ ایک مسابقتی ذہن رکھنے والے کھلاڑی کی حیثیت سے ان کی ذہنی تربیت انہیں اس راستے پر چلنے سے روکتی رہے گی، جو ملک کے لیے شدید مسائل پیدا کر سکتی ہے اور اسے ایک فسطائی ریاست میں تبدیل کر سکتی ہے۔
منگل، 25 جنوری 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

The post اگر مجھے نکالا گیا appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے