رپورٹ علیم عُثمان
سابق وزیراعظم نواز شریف کے پہلے دور حکومت کے دوران ممتاز صنعت کار میاں نصیر اے شیخ (جو مجید نظامی مرحوم کی طرح ملاقاتیوں سے ہمیشہ پنجابی میں بات کرتے تھے) اپنے مخصوص انداز میں ایک روز بتا رہے تھے ” فیصل بنک کا صدر عباسی جو ایک روز کے لئے لاہور آیا تھا ابھی مل کے گیا ہے، اس کی موجودگی میں ایک لڑکا سیدھا دروازہ کھول کے اندر چلا آیا، سیدھا عباسی کے پاس گیا اور ایک سفید کاغذ اس کے آگے کر دیا، عباسی نے بھی اسی طرح اس پر لکھ دیا approved and proceed accordingly اور وہ لڑکا اسی طرح الٹے پیروں واپس چلا گیا، میں حیرت سے دیکھتا چلا گیا، اس کے نکلتے ہی مَیں نے عباسی سے پوچھا ‘یہ لڑکا کون تھا’ عباسی نے کہا ‘یہ وزیراعظم نواز شریف کا بھائی شہباز شریف تھا’ میں نے کہا وہ تو ایک سادہ کاغذ لایا تھا، نہ کوئی لیٹر ہیڈ نہ پیڈ اور تم نے بھی ڈائریکٹ ہی اسے سائن کر دیا، نہ اس کے ساتھ کوئی کاغذ (دستاویزات) لگے تھے، قرضہ ایسے دیتے ہیں؟ عباسی بولا’ میاں صاحب، نوازشریف کا بھائی ہے، بس وزیراعظم کا حکم تھا، کیا کرتا’ شیخ صاحب کی بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ “چھوٹا” شروع سے کتنا “تیز” ھے
علالت کی بنیاد پر نواز شریف کی بیرون ملک روانگی بارے وزیراعظم عمران خان کو انٹیلیجنس بیورو نے جو حالیہ رپورٹ پیش کی ہے اس میں بتایا گیا ہے سابق وزیراعظم لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں بند تھے کہ ایک رات ٹی وی پر خبر چلی “نوازشریف سخت بیمار ہیں، ان کے “پلیٹلٹس” تیزی سے گر رہے ہیں” یہ رات کا پچھلا پہر تھا، قریباً 3 بجے نیب کا ایک افسر گھبرایا ہوا جیل پہنچا جسے ہکا بکا سابق وزیراعظم حیرت سے تک رہا تھا، بعد میں شہباز شریف کمرے میں داخل ہوا، قید کاٹ رہا نوازشریف حیرت سے سوچ رہا تھا یہ سب کیا ہے، میں تو بھلا چنگا ہوں، نوازشریف نے” چھوٹے” سے پوچھا ‘میں تو بالکل ٹھیک ہوں، مجھے کیا ہوا ھے؟’ تو شہباز شریف نے “بڑے بھائی” کے کان میں کچھ کہا. وزیراعظم عمران خان کو بتایا گیا تو انہیں کچھ شک گزرا، انہوں نے اپنی تسلی کے لئے شوکت خانم کے سی ای او ڈاکٹر فیصل سلطان کو کنفرم کرنے کے لئے بھیجا مگر صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمیں راشد سارے ماجرے سے لاعلم تھیں البتہ میڈیکل بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر محمود ایاز آن بورڈ تھے، جنہیں بعد میں پروموشن دے کر سروسز ہسپتال کا چیف ایگزیکٹو بنا دیا گیا تھا.
ایک دوسری انٹیلیجنس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ ہفتے نون لیگ کے چار مرکزی لیڈروں نے “بڑے گھر” یعنی پنڈی مَیں جو اھم ملاقات کی تھی، اس سے قبل پارٹی کے 6 رہنماؤں نے اسلام آباد کے ایک فارم ہاؤس میں ایک خفیہ گیٹ ٹو گیدر میں شرکت کی تھی جس کا اہتمام ایک سینیئر نے کیا تھا، اس اجتماع میں بعض اھم شخصیات کے علاوہ سعودی سفیر اور امریکی ناظم الامور بھی شریک ہوئے تھے ( امریکی سفیر خود شرکت کے لئے دستیاب نہ تھے) لیکن اس خفیہ گیٹ ٹو گیدر کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں ہونے والی تمام تر گفتگو انٹیلیجنس بیورو نے ریکارڈ کر لی تھی. اس خفیہ اجتماع اور بات چیت میں شریک چھ لیگی راہنماؤں میں احسن اقبال، خواجہ آصف، ایاز صادق اور مفتاح اسماعیل شامل ہیں جبکہ اس خفیہ گیٹ ٹو گیدر کے بعد “بڑے گھر” مَیں ہونے والی ملاقات میں نواز لیگ کے 4 مرکزی رہنما خواجہ آصف، شاہد خاقان عباسی،ایاز صادق اور احسن اقبال شریک ہوئے.
دریں اثناء دارالحکومت کے سنجیدہ حلقوں کو یہ پُر تشویش امکان لاحق ہے کہ آنے والے مئی جون میں “پہاڑی والا درویش، خالد بن ولید کے ساتھ سینگ پھنسا سکتا ہے اس لئے کہ خالد بن ولید اگلے آرمی چیف کے تقرر کے لئے اپنی سفارشات پہاڑی والے درویش کو بھجوا سکتا ہے جن میں” پشاور والے “کا نام شامل نہیں ہوگا کیونکہ ستمبر تک وہ سنیارٹی میں گیارہویں نمبر پر ہوگا البتہ نئے آرمی چیف کی تقرری کے لئے سفارشات اگر ستمبر کے بعد منگوائی جاتی ہیں تو “پشاور والا” سنیارٹی میں چوتھے نمبر پر اچکا ہوگا اور اس کا نام سفارشات کی لسٹ میں شامل کرنا ہوگا، اس لئے کہ ستمبر میں 7 کور کمانڈر ریٹائر ہورہے ہیں.
