English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

فائزر اومیکرون کے لیے  نئی ویکسین کی ٹیسٹنگ شروع کر رہا ہے

فائزر نے کودڈ نائنٹین کے ویرینٹ اومیکرون سے تحفظ کے لیے اپنی تیار کردہ نئی ویکسین کی ٹیسٹنگ کے لیے صحت مند بالغ رضاکاروں کا اندراج شروع کر دیا ہے۔

اومیکرون انتہائی تیز رفتاری سے ایک فرد سے دوسرے کو منتقل ہونے والا جینیاتی طور پر تبدیل شدہ وائرس ہے۔ فائزر اپنے تجربات میں یہ جاننا چاہتا ہے کہ اس کی نئی ویکسین اومیکرون کے خلاف، اس سے قبل کی مستعمل ویکسین کے مقابلے میں کتنی زیادہ مؤثر ہے۔

اس نئے مطالعاتی جائزے کا اعلان فائزر اور اس کی شریک کار ادویات ساز کمپنی بائیو این ٹیک نے منگل کے روز کیا۔

کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین تیار کرنے والی کمپنیاں اپنی ویکسینز پر اس حوالے سے کام کر رہی ہیں کہ وہ عالمی وبا کی دوسری اقسام کی طرح اومیکرون کے خلاف بھی کس طرح بہتر مدافعت فراہم کر سکتی ہے۔

صحت کے عالمی اداروں کے حکام اس سے قبل یہ کہہ چکے ہیں کہ اومیکرون کے خلاف مدافعت بڑھانے کے لیے ویکسین کو اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے۔


بیجنگ میں دو خواتین سرمائی اولمپکس کے اسٹڈیم کے سامنے اپنی سیلفی بنا رہی ہیں۔ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث چین کی حکومت نے کھیل دیکھنے کے لیے لوگوں کو اسٹیڈیم جانے کی اجازت نہیں دی ہے۔ 20 جنوری 2022

بیجنگ میں دو خواتین سرمائی اولمپکس کے اسٹڈیم کے سامنے اپنی سیلفی بنا رہی ہیں۔ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث چین کی حکومت نے کھیل دیکھنے کے لیے لوگوں کو اسٹیڈیم جانے کی اجازت نہیں دی ہے۔ 20 جنوری 2022

اب تک سامنے آنے والے نتائج کے مطابق اومیکرون ان لوگوں کو بھی ہورہا ہے جن کو مکمل ویکسین لگ چکی ہے۔ فائزر کی نئی تحقیق میں یہ جائزہ لیا جائے گا کہ نئی ویکسین موجودہ ویکسین کے مقابلے میں کتنا بہتر بچاو کر سکے گی۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت مستعمل ویکسینز اومیکرون میں مبتلا افراد کو بھی بیماری کی شدت اور ہلاکت کے خلاف بہتر تحفظ فراہم کر رہی ہیں۔ امریکہ اور دوسرے ملکوں میں ہونے والی طبی تحقیقات سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ ویکسین کی بوسٹر خوراک لگوانے سے جسم کے اندر مدافعتی اینٹی باڈیز کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے اگر وائرس کا حملہ ہو بھی جائے تو وہ شدید نہیں ہوتا۔

فائزر کی ویکسین ریسرچ چیف کیتھرین جانسن نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ اس وقت اومیکرون اور مستقبل میں ظاہر ہونے والی وائرس کی نئی جینیاتی اقسام کے مقابلے کے لیے تیار ہونے کی ضرورت ہے۔

امریکہ میں اومیکرون سے متعلق ہونے والی اس نئی تحقیق میں 18 سے 55 سال کی عمروں کے 1420 رضاکاروں کو شامل کیا جائے گا۔ اس تحقیق کی بنیاد بوسٹر اور ویکسین کی بنیادی خوراکیں ہوں گی۔

کرونا سے متاثر ہونے پر پھیپھڑوں کی پیوند کاری کرانے والے امریکی کی کہانی





please wait



No media source currently available

ماہرین اس مطالعاتی جائزے میں یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ ابتدائی ویکیسن کے مقابلے میں اپ گریڈ کی گئی ویکسین قدرتی مدافعتی نظام کو کس طرح متاثر کرتی ہے اور یہ کہ وائرس کے خلاف مدافعت فراہم کرنے والی اینٹی باڈیز کتنی مدت تک اپنی قوت برقرار رکھتی ہیں۔

فائزر کے سی ای او نے اس مہینے کے شروع میں سی این بی سی چینل کو بتایا تھا کہ ان کی کمپنی مارچ کے آغاز تک ایک ایسی دوا سامنے لانے کی کوشش کر رہی ہے جو اومیکرون کا مقابلہ کر سکے گی۔

ایک اور نئی تحقیق میں، 600 رضاکاروں کو، جو فائزر کی موجودہ ویکسین کی دو خوراکیں تین سے چھ ماہ قبل لگوا چکے ہیں، انہیں اومیکرون کے لیے تیار کی جانے والی ویکسین کی خوراکیں اور بوسٹر لگائے جائیں گے۔

فائزراوربائیواین ٹیک کمپنمیاں مشترکہ طور پر امیکرون پر قابو پانے کے لیے نئی ویکسین پر کام کر رہی ہیں۔

فائزراوربائیواین ٹیک کمپنمیاں مشترکہ طور پر امیکرون پر قابو پانے کے لیے نئی ویکسین پر کام کر رہی ہیں۔

چھ سو رضاکاروں کا ایک اور گروپ جو پہلے ہی فائزر کی موجودہ ویکسین کی خوراکیں لے چکا ہے، اسے موجودہ ویکسین کی چوتھی خوراک یا اومیکرون ورژن کی ویکسین لگائی جائے گی۔

اس مطالعاتی جائزے میں ان رضاکاروں کو بھی شامل کیا جائے گا جنہوں نے ابھی تک کوئی بھی ویکسین نہیں لگوائی ہے۔ انہیں اومیکرون ورژن کی ویکسین کی تین خوراکیں دی جائیں گی۔

فائزر 2022 میں ویکسین کی 4 ارب خوراکیں تیار کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ منگل کے روز اس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر اومیکرون سے موافقت پذیر ورژن کی ضرورت پڑی تو اس تعداد میں تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔

(اس رپورٹ کا کچھ مواد ایسوسی ایٹڈ پریس سے لیا گیا ہے)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے