English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پاکستان میں کورونا کے وار جاری، 8 ہزار 183 کیسز رپورٹ، 27 اموات

پاکستان میں کورونا وائرس کی پانچویں لہر کے وار جاری ہیں اور گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران مسلسل تیسری بار 7 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ کیے گئے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران کورونا کے 70 ہزار سے زائد ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 7 ہزار 963 کے نتائج مثبت آئے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز ملک میں کورونا کے 8 ہزار 183 کیسز رپورٹ ہوئے تھے جس کے بعد چوبیس گھنٹے میں رپورٹ ہونے والے کیسز کی یہ دوسری بڑی تعداد ہے۔

ملک میں وائرس کی مثبت شرح 11.31 فیصد رہی جبکہ متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 14 لاکھ 10 ہزار 33 ہوگئی۔

ملک میں چوبیس گھنٹے کے دوران مزید 27 افراد وبا کا شکار ہو کر جاں بحق ہوگئے جس کے بعد اموات کی مجموعی تعداد بڑھ کر 29 ہزار 219 ہوگئی ہے۔

کیسز میں اضافے کے ساتھ ہی ملک میں فعال کیسز کی تعداد بھی ایک لاکھ 4 ہزار 95 تک پہنچ گئی ہے جس میں سے ایک ہزار 375 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں کورونا کیسز اور اموات کی صورتحال کچھ اس طرح رہی۔

پنجاب: 2 ہزار 283 کیسز، 7 اموات

سندھ: 2 ہزار 231 کیسز، 15 اموات

خیبر پختونخوا: ایک ہزار 278 کیسز، 5 اموات

بلوچستان: 90 کیسز

اسلام آباد: ایک ہزار 555 کیسز

گلگت بلتستان: 24 کیسز

آزاد کشمیر: 502 کیسز

ملک میں مزید 2 ہزار 62 مریض صحتیاب بھی ہوئے، یوں صحتیاب افراد کی مجموعی تعداد 12 لاکھ 76 ہزار 719 تک پہنچ گئیں۔

واضح رہے کہ ملک میں عالمی وبا کے ’اومیکرون‘ ویرینٹ کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے کورونا وائرس سے متعلق نافذ پابندیوں میں 15 فروری تک توسیع کا اعلان کیا ہے۔

این سی او سی نے ایک ٹوئٹ میں اعلان کیا کہ موجودہ نان فارماسیوٹیکل انٹروینشنز (این پی آئیز) 31 جنوری تک نافذ کی گئی تھیں، لیکن اب ان میں 15 فروری تک توسیع کردی گئی ہے۔

اعلان کے مطابق 10 فروری کو حالات کا جائزہ لیا جائے گا۔

ایک اور ٹوئٹ میں این سی او سی نے زور دیا کہ وہ مہلک وائرس کے خلاف ویکسین کی بوسٹر خوراک ضرور لگوائیں، اومیکرون ویرینٹ ملک بھر میں پھیل رہا ہے۔

انہوں نے درخواست کی کہ مکمل ویکسی نیشن کو یقینی بنائیں اور بوسٹر شارٹس ضرور لگوائیں اور ماسک پہننے اور سماجی دوری سمیت ایس او پیز پر عمل کریں۔

وبا کی پانچویں لہر

خیال رہے کہ ملک میں وبا کا پھیلاؤ تقریباً کنٹرول ہوگیا تھا تاہم وائرس کی نئی قسم اومیکرون سامنے آنے کے بعد دسمبر کے اواخر سے کیسز میں تیزی سے اضافے کا سلسلہ جاری ہے جسے وبا کی پانچویں لہر قرار دیا گیا ہے۔

اگر وبا کی مختلف لہروں کے دوران سب سے زیادہ کیسز دیکھے جائیں تو اس سے قبل سب سے زیادہ کیسز 13 جون 2020 کو رپورٹ ہوئے تھے جن کی تعداد 6 ہزار 825 تھی۔

وبا کی دوسری لہر میں سب سے زیادہ کیسز 6 دسمبر 2020 کو سامنے آئے جو 3 ہزار 795 تھے۔

اسی طرح تیسری لہر کے دوران 17 اپریل 2021 کو کیسز کی بلند ترین تعداد 6 ہزار 127 ریکارڈ کی گئی۔

چوتھی لہر میں سب سے زیادہ کیسز 4 اگست 2021 کو رپورٹ ہوئے تھے جو 5 ہزار 661 تھے۔

کورونا وائرس کے کیسز میں اضافہ، این سی او سی کا پابندیوں میں توسیع کا فیصلہ

اعلان کے مطابق 10 فروری کو حالات کا جائزہ لیا جائے گا — فوٹو: این سی او سی

ملک میں کورونا وائرس کے 8 ہزار 183 کیسز رپورٹ ہونے کے بعد نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے کورونا وائرس سے متعلق نافذ پابندیوں میں 15 فروری تک توسیع کا اعلان کردیا۔

ایک روز میں رپورٹ ہونے والے کیسز کی یہ تعداد فروری 2020 سے اب تک سب سے زیادہ ہے، اس سے قبل اسی سال 20 جنوری کو 7 ہزار 678 کیسز رپورٹ ہوئے تھے، پاکستان میں کورونا وائرس کی تشخیص اور پہلے سال کے دوران کورونا وائرس کے سب سے زیادہ کیسز کی تعداد 6 ہزار 825 تھی، یہ تعداد 13 جون 2020 کو رپورٹ ہوئی تھی۔

این سی او سی نے ایک ٹوئٹ میں اعلان کیا کہ موجودہ نان فارماسیوٹیکل انٹروینشنز (این پی آئیز) 31 جنوری تک نافذ کی گئی تھیں، لیکن اب ان میں 15 فروری تک توسیع کردی گئی ہے۔

اعلان کے مطابق 10 فروری کو حالات کا جائزہ لیا جائے گا۔

ایک اور ٹوئٹ میں این سی او سی نے زور دیا کہ وہ مہلک وائرس کے خلاف ویکسین کی بوسٹر خوراک ضرور لگوائیں، اومیکرون ویرینٹ ملک بھر میں پھیل رہا ہے۔

انہوں نے درخواست کی کہ مکمل ویکسی نیشن کو یقینی بنائیں اور بوسٹر شاٹس ضرور لگوائیں اور ماسک پہننے اور سماجی دوری سمیت ایس او پیز پر عمل کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ بزرگوں کا خاص خیال رکھیں کیونکہ بیماری اور شرح اموات بڑی عمر کے لوگوں میں زیادہ ہے۔

Image

خیال رہے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 68 ہزار624 ٹیسٹ کیے گئے جن میں مثبت کیسز کی شرح بڑھ کر 11.92 فیصد ہوگئی، این سی او سی کے مطابق فعال کیسز کی تعداد بڑھ کر 98 ہزار 221 ہوگئی جبکہ 961 مریض تشویشناک حالت میں تھے۔

گزشتہ روز عالمی وبا سے 30 اموات ہوئی تھی۔

این سی او سی کے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ پشاور میں سب سے زیادہ مثبت شرح 29.65 فیصد ہے، جس کے بعد کراچی میں 27.92 فیصد، مظفر آباد میں 26.40 فیصد، مردان میں 22.73 فیصد، حیدر آباد میں 20.59 فیصد، لاہور میں 20.58 فیصد مثبت کیسز رپورٹ ہوئے۔

ادھر گلگت بلتستان اور اسلام آباد میں کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح 17.13 فیصد، نوشہرہ میں 17.01 فیصد، ایبٹ آباد میں 12.93 فیصد، صوابی میں 11.21 فیصد اور میرپور میں 11.04 فیصد رہی۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ اموات سندھ میں ہوئیں جہاں 20 افراد جان کی بازی ہار گئے، جس کے بعد پنجاب میں 6، خیبر پختونخوا میں 3 اور گلگت بلتستان میں ایک ہلاکت ہوئی۔

ملک میں کورونا وائرس کے کیسز کی مجموعی تعداد 14 لاکھ 20 ہزار 70 ہوچکی ہے جبکہ اب تک 29 ہزار 192 اموات ہوئی ہیں۔

علاوہ ازیں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں ایک ہزار 786 افراد کورونا وائرس سے صحت یاب ہوئے جس کے بعد عالمی وبا کو شکست دینے والے افراد کی مجموعی تعداد 12 لاکھ 74 ہزار 657 ہوگئی ہے۔

دریں اثنا وزارت صحت نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ ویکسین لگائیں اور ماسک پہنیں، اومیکرون سمیت کورونا وائرس کی مختلف اقسام میں اضافہ ہوا ہے، رواں ماہ کورونا وائرس کے کیسز میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

این سی او سی نے نئی لہر سے نمٹنے کے لیے رواں ہفتے کے آغاز میں نئی پابندیوں کا اطلاق کیا ہے جس کے تحت جن اضلاع یا شہروں میں مثبت کیسز کی شرح 10 فیصد سے زیادہ ہوگی وہاں انڈور اجتماعات، شادیوں اور ڈائن اِن پر پابندی لگا دی جائے گی۔

پاکستان میں شہریوں کو بوسٹر خوراک لگانا شروع کردی گئی ہیں اس سے قبل 30 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کو بوسٹر لگائی جارہی تھی جبکہ 12 سال سے زائد عمر کے شہریوں جن کی قوت مدافعت کم ہو بوسٹر خوراک لے سکتے تھے۔

بعد ازاں این سی او سی نے عمر کی حد کو کم کر تے ہوئے 18 سال سے زائد عمر شہریوں کو بوسٹر خوراک لگوانے کی اجازت دے دی تھی۔

منبع: ڈان نیوز

The post پاکستان میں کورونا کے وار جاری، 8 ہزار 183 کیسز رپورٹ، 27 اموات appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے