اومیکرون کرونا وائرس کے تیزی سے پھیلنے والے ایک ویرینٹ نے نئی بحث کا آغاز کر دیا ہے ۔ یہ ویرینٹ بعض ممالک میں اس قدر تیزی سے پھیلا ہے کہ سائنس دان حیران رہ گئے ہیں۔ اومیکرون ویرینٹ کی اس ذیلی قسم جس کو بی اے ۔2 کا ناما دیا گیاہے پر نظر رکھی جارہی ہے تاکہ تعین کیا جاسکے کہ اس سے مستقبل میں وبا کے پھیلاؤ پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ برطانیہ میں طبی حکام نے اس کی ذیلی قسم بی اے 2 کے سیکڑوں کیسز کو شناخت کیا ہے، جبکہ عالمی ڈیٹا سے بھی عندیہ ملا ہے کہ یہ قسم تیزی سے پھیل سکتی ہے۔
تاہم بعض علامات سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ یہ اومیکرون کی یہ ذیلی قسم اصلی اومیکرون سے زیادہ خطرناک نہیں ہے۔ تاہم بعض ماہرین نے یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اومیکرون کی یہ ذیلی قسم تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جیسے جیسے اس پر بحث بڑھتی جارہی ہے ویسے ویسے اعدادوشمار کی کمی نے سنجیدہ سوالوں کو جنم دیا ہے جیسا کہ اس ذیلی قسم کا ویکسین کے خلاف رد عمل اور دوبارہ متاثر کرنے کی صلاحیت ہے۔
اب تک ہم اس کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟
یاد رہے کہ بی اے2 نیا ویرینیٹ نہیں ہے بلکہ بی اے 1 کی طرح ایک ذیلی ویرینیٹ ہے جو کہ دنیا بھر میں موسم سرما میں کرونا کی نئی لہر کی ذمہ دار ہے۔ بی اے 1 اور بی اے 2 کو اومیکرون ویرینٹ کے نام سے ہی جانا جاتا ہے۔فرانس کے وبائی امراض کے ماہر انٹونی فلاہوٹ نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ہم جس بات نے حیران کیا وہ یہ ہے کہ اومیکرون کی یہ ذٰلی قسم کتنی برق رفتاری سے ایشیا میں پھیلنے کے بعد ڈنمارک تک پہنچ گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں کی جانب سے وائرس کے ارتقا کی جانچ پڑتال کرنے کی ضرورت ہے جس میں مسلسل تبدیلیاں آرہی ہیں۔
جب کہ بی اے 1 اور بی اے 2 میں بہت ساری تبدیلیاں مشترک ہیں دونوں میں کم از کم 20 کے قریب تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں۔ بی اے 2 میں بعض جنیاتی خاصیتیں ہیں جو اس کو بعض پی سی آر ٹیسٹوں میں دیگر اقسام سے ناقابل شناخت بناتی ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں یہ بی اے۔1 سے الگ ہے۔ اسی خاصیت کی وجہ سے بی اے۔2 کو خفیہ ویرینیٹ قرار دیا گیا ہے یعنی اس کی شناخت کرنا بہت مشکل ہے۔
مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ بی اے 2 لیبارٹری ٹیسٹ سے بچ نکلتا ہے۔ ایک پی سی آر ٹیسٹ بی اے 2 کی صورت میں بھی کرونا وائرس کی شناخت کرتا ہے اگرچہ جینوم سیکوئنسنگ عمل اس ذیلی قسم کو پہچاننے کے لیے ضروری ہے۔ رپورٹس کے مطابق بی اے۔2 اب تک 40 ممالک بشمول امریکہ، برطانیہ، ڈنمارک اور بھارت میں دریافت ہوا ہے۔ جبکہ برطانیہ نے بی اے 2 کو زیر مطالعہ قرار دیا ہے جبکہ عالمی ادارہ صحت نے اس ذیلی قسم کی خصوصیات کی تحقیق کی ہدایت کی ہے۔
ایک بحث کا آغاز
امپرئیل کالج لندن کے وائرلوجسٹ ٹام پیکوک کا کہنا تھا کہ بھارت اور ڈنمارت کے ابتدائی مشاہدات سے عندیہ ملتا ہے کہ اس ذیلی قسم کی شدت اومیکرون سے ڈرامائی حد تک مختلف نہیں اور موجودہ ویکسینز کی افادیت متاثر نہیں ہوگی۔انہوں نے زور دیا کہ ابھی ہمارے پاس ایسے شواہد نہیں کہ یہ نئی متعدی قسم کتنی متعدی ہے، مگر ہم کچھ اندازے لگا سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ اومیکرون کی بالادست قسم اور اس ذیلی قسم کے خلاف ویکسینز کی افادیت میں معمولی فرق ہی ہوگا۔ انہوں نے پیشگوئی کی متعدد ممالک میں اومیکرون قسم کے کیسز عروج کے قریب ہیں یا گزر چکے ہیں، ہم بہت حیران ہوں گے اگر اس موقع پر بی اے 2 دوسری لہر کا باعث بن جائے۔
امپیریل کالج، لندن کے ماہر وائرولوجسٹ ٹام پیاکک نے ٹویٹ کیا، تازہ ترین قسم کو موجودہ ویکسین کی تاثیر پر سوالیہ نشان نہیں بنانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ آنے والے ہفتوں میں چیزیں کافی حد تک واضح ہوجائیں گی۔ تیزی سے پھیلاؤ کے علاوہ دو اور ایسے سوالات ہیں جو اس وقت ماہرین کے ذہنوں پر سوار ہیں کہ کیا جو شخص حال ہی میں اومیکرون سے متاثر ہوا ہو وہ بی اے 2 سے دوبارہ متاثر ہوسکتا ہے؟ اور دوسرا یہ ذیلی ویرینٹ ویکسین کے خلاف کیا رد عمل دے گا؟ ڈنمارک میں بی اے 2 نے بی اے 1 ویرینٹ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے کیونکہ ملک میں 65 فیصد کیسز بی اے 2 کے ہیں۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے کوئی ثبوت نہیں ملے کہ بی اے 2 زیادہ سخت انفیکشنز کا سبب بنتا ہے۔ درحقیقت رپورٹس کے مطابق بی اے 2 میں اضافے کے باوجود ڈنمارک میں آئی ٍسی یو میں داخل مریضوں کی تعداد میں کمی دیکھی گئی ہے۔ ڈنمارک کے وزیر صحت میگنس ہیونک نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ بی اے 2 قسم زیادہ بیماری کا سبب بنتی ہے تاہم اس کی اچھوت کی شرح زیادہ ہے۔ ابتدائی معلومات سے پتا چلتا ہے کہ بی اے 2، بی اے 1 کی نسبت 5۔1 گنا زیادہ پھیلاؤ کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ابھی تک اس بات کا بھی کوئی ثبوت نہیں ہے کہ بی اے 1 اور بی اے 2 امنیت سے بچاؤ، زیادہ وائرل ہونےاور عمر کے حوالے کے حوالے سے مختلف ہیں۔ حالیہ موجود شواہد سے معلوم ہوا ہے کہ بی اے 1 اور بی اے 2 کی شدت میں تبدیلیاں نئی وبائی پابندیوں کی راہ ہموار نہیں کریں گی اور نہ ہی موجود پابندیوں کے خاتمے میں کچھ مدد کریں گی۔
جمعتہ المبارک، 28 جنوری 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
The post ہم اومیکرون کے ذیلی ویرینٹ بی اے 2 کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟ شفقنا صحت appeared first on شفقنا اردو نیوز.
