حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) آٹا چکی اورنرز ایسوسی ایشن کے صدر حاجی محمد میمن نے حیدر آبادپریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے زبردستی60روپے کلو آٹا فروخت کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جارہاہے جبکہ ملک میں ریکارڈ مہنگائی ہے ۔انہوںنے کہاکہ محکمہ خوراک کی جانب سے ہر آٹا چکی کو فی پتھر 2400سو کلو گندم کا کوٹہ مقرر کیا گیا تھا جس مین سے صرف130کلو گندم فراہم کی جارہی ہے چکی مالکان کو شہری کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے90فیصد گندم کھلی مارکیٹ سے خریدنا پڑ رہی ہے جبکہ محکمہ خوراک کی جانب سے فراہم کردہ گندم میں مٹی ، پتھر اور کچرے کی ملاوٹ بھی ہے جس کے باعث گندم کسی بھی صورت آٹے کے قابل نہیں ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہم180روپے کلو ملنے والی گندم کا آٹا 60 روپے کلو کیسے فروخت کرسکتے ہیں جبکہ6650روپے میں سو کلو ملنے والی گندم کی پسائی پر16روپے40پیسے خرچ آتاہے لہذا 60 روپے کلو آٹا فروخت نہیں کرسکتے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کوٹے کے مطابق گندم کی فراہمی کو یقینی بنایاجائے بصورت دیگر سخت احتجاج پر مجبور ہوں گے۔
