حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)لیاقت یونیورسٹی اسپتال حیدرآباد/ جامشورو کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر مبشر علی کولاچی نے کہا ہے کہ ہم اسپتال کو جدید تقاضوں کے مطابق استوار کر رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اسپتال میں جدید مشینوں کی موجودگی کے باوجود استعمال میں مزید مشنری لگانے کے ساتھ ساتھ مختلف امراض کے شعبہ جات میں بھی اضافہ کر رہے ہیں تاکہ آپریشن سے قبل تمام معلومات دستیاب ہو سکے اور کئی امراض کے جہاں بڑے آپریشن ہوتے تھے اب وہاں بڑے آپریشن کے بجائے معمولی سوراخوں کے ذریعے مریض کو تکلیف کے بغیر بڑے بڑے آپریشن کیے جائیں گے۔ اس بات کا اظہار انہوں نے شہر کی سول سوسائٹی کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر ایڈمن عبدالستار جتوئی،AMS جنرل ڈاکٹر شاہد اسلام جونیجو، ڈائریکٹرICU ڈاکٹر کاشف علی میمن ،AMSجنرل ٹو ڈاکٹر شوکت علی لاکھواور اسپتال کے دیگر انتظامی افسران بھی موجود تھے۔ ایم ایس ڈاکٹر مبشر علی کولاچی نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ اسپتال میںریڈیو لوجی ڈپارٹمنٹ میں MRI، سٹی اسکن کلر ڈوپلر الٹرا ساؤنڈمشین، میمو گرافی مشین ،فلوروسکو پی مشین اور دیگر مشینیں بڑی تعداد میں کام کر رہی ہیں جن میں حیدرآباد میں تینMRI مشین کام کر رہی ہیں اسی طرح ایک MRI جامشورو میں، تین عدد سٹی اسکن حیدر آباد میں، دو سٹی اسکن اور دو ڈیجیٹل ایکسرے مشینیں جامشورو میں اور 10کلرڈوپلر الٹرا ساؤنڈ مشین حیدرآباد میں کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حیدر آبادمیں سات ڈیجیٹل ایکسرے مشینیں کام کر رہی ہیں اور ان تمام ریڈیو لوجی ڈپارٹمنٹ کی مشینوں کی رپورٹس تیار کرنے کے لیے ہیڈ آف ڈپارٹمنٹ محترمہ ڈاکٹر انیلا شیباکی سربراہی میں تجربہ کار سینئر ڈاکٹرز پر مشتمل شعبہ رپورٹنگ قائم ہے جہاں ہیڈ آف ڈپارٹمنٹ کی حتمی رائے کے بعد مذکورہ انویسٹی گیشن رپورٹس جاری کی جاتی ہیں جبکہ رپورٹ تیار ہونے کے بعد اسپتال کے مختلف شعبہ جات کے ماہرین پیچیدہ امراض کا علاج بھی سہولت کے ساتھ کر لیتے ہیں بلکہ ان رپورٹ کے بعد مختلف امراض کا علاج بغیر آپریشن بھی ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیاقت یونیورسٹی اسپتال حیدرآباد اور جامشوروکے مریضوں کے علاج معالجہ اور دیگر سہولیات کو چیک کرنے کے لیے حیدرآباد اسپتال کے مختلف مقامات پر 350 سی سی ٹی وی کیمرے اور جامشورو میں بھی 300 کیمرے نصب کردیے گئے ہیں جنہیں کنٹرول اینڈ کمانڈ روم سے 24 گھنٹے مانیٹر کیا جارہاہے اور ہم خود ان کیمروں کی مدد سے اسپتال میں علاج و معالجہ کو چیک کرتے رہتے ہیں اور موقع پر ذمے دار ڈاکٹروں کو ہدایات بھی جاری کرتے رہتے ہیں اور ان کے کیمروں کی وجہ سے کسی بھی جگہ سے چوری یا بچوں کی گمشدگی کے حوالے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے معلومات حاصل ہو جاتی ہیں جو کہ اسپتال انتظامیہ کا بڑا اقدام ہے اور اس سے بچوں کی گمشدگی کے واقعات کا خاتمہ ہواہے۔
