English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

صنعتکاروں کا سوئی سدرن ہیڈ آفس پر احتجاج

صدر کے سی سی آئی محمد ادریس اورچیئرمین بی ایم جی زبیر موتی والا سوئی سدرن گیس کمپنی کے دفتر کے سامنے مظاہرے کے دوران میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر)بزنس مین گروپ اور کراچی چیمبر کی قیادت میں کراچی کی تمام انڈسٹریل ٹاؤن ایسوسی ایشنز اور سیکٹرز کی ٹریڈ ایسوسی ایشنز کے صدور سمیت سیکڑوں مظاہرین بدھ کے روز سوئی سدرن گیس کمپنی ( ایس ایس جی سی) ہیڈ آفس کے باہرجمع ہوئے جہاں انہوں نے خبردار کیا کہ جب تک تمام صنعتی یونٹس کو گیس کی سپلائی مکمل طور پر بحال اور معمول پر نہیں لائی جاتی اس وقت تک تمام صنعتی زونز میں گیس سپلائی کی فوری بحالی کا مطالبہ ماننے تک یہ مہم جاری رہے گی اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اس میں مزید شدت آ سکتی ہے۔ چیئرمین بی ایم جی زبیر موتی والا، وائس چیئرمین بی ایم جی جاوید بلوانی اور صدر کے سی سی آئی محمد ادریس نے مظاہرے میں شامل ممتاز کاروباری شخصیات کے ہمراہ تجارت وصنعت کو درپیش سب سے اہم مسئلے کو حل کرنے میں حکومتی عدم توجہ پر گہری تشویش کا اظہار کیا جہاں صنعتکار گیس نہ ہونے یا کم پریشر کی وجہ سے بھاری نقصان اٹھا رہے ہیں۔ کراچی کے صنعتکار پریس ریلیز کی اپیلوں کے جواب میں حکومت کی سراسر لاپرواہی اور گزشتہ 100 دنوں سے جاری گیس، آر ایل این جی کے بحران کے حوالے سے حالیہ پریس کانفرنس کے بعد بھی کوئی مثبت پیش رفت نہ ہونے پر حیران ہیں اور سخت مایوس ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کراچی کو گیس کی عدم دستیابی سے روزانہ 45 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے جو کہ تقریباً بہت سارے چیلنجز کا سامنا کرنے کے باوجود قومی خزانے میں 68فیصد سے زائد ریونیو کا حصہ ڈال رہا ہے نیز 54فیصد قومی برآمدات میں اور 52فیصد ٹیکسٹائل برآمدات بھی کراچی سے ہوتی ہیں۔ سندھ کے وسائل سے ایس این جی پی ایل کو 211 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی غلط تقسیم کا حوالہ دیتے ہوئے بی ایم جی، کے سی سی آئی کی قیادت نے مطالبہ کیا کہ کراچی میں صنعتی سرگرمیوں کو بحال کرنے کے لیے سندھ کی گیس صوبے کو واپس کی جائے۔کراچی کی صنعتوں کو سندھ کے اپنے گیس کے وسائل سے محروم رکھنا انتہائی ناانصافی ہے۔انہوں نے کہا کہ موسم سرما میں بلوچستان میں گیس کی بڑھتی ہوئی طلب صرف ایس ایس جی سی ہی پوری کر رہی ہے جو سوئی سے 125 ایم ایم سی ایف ڈی گیس حاصل کرتی ہے جبکہ ایس این جی پی ایل جو سوئی سے 180 ایم ایم سی ایف ڈی گیس حاصل کرتا ہے اس کے باوجود ایس این جی پی ایل کو بلوچستان میں گیس کی بڑھتی ہوئی طلب کا بوجھ بانٹنے سے مکمل طور پر استثنیٰ حاصل ہے جو سمجھ سے بالاتر ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں گیس کی بڑھتی ہوئی طلب کو ایس ایس جی سی ایل اور ایس این جی پی ایل کو ملنے والی گیس کے تناسب کے مطابق پورا کرنا ہوگا جس کا مطلب یہ ہے کہ موسم سرما کے دوران بلوچستان میں 160ایم ایم سی ایف ڈی کی اضافی مانگ کو دانمشندی سے تقسیم کیا جانا چاہیے جس میں سوئی سدرن گیس پر 41فیصد (65ایم ایم سی ایف ڈی) بوجھ پڑے گا اوربقیہ 59فیصد (95ایم ایم سی ایف ڈی) سوئی نادرن کو برداشت کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ تمام صنعتوں بشمول عام صنعتوں، ایس ایم ایز اور برآمدی صنعتوں کو بغیر کسی تفریق گیس فراہم کی جائے کیونکہ یہ سب ایک دوسرے کے ساتھ چلتے ہیں۔حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عام صنعتیں برآمدات کے لیے ویلیو چین کا ایک لازمی حصہ ہیں جو معیشت کو چلاتی ہیں۔ بی ایم جی اور کے سی سی آئی کی قیادت نے قومی مفاد میں وزیر اعظم عمران خان سے اپیل کی کہ وہ صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور صنعتکاروں کی سرمایہ کاری کو بچانے کے لیے کراچی کی تاجر برادری کے آئینی حق پر فوری رد عمل دیں اور عالمی سطح پر پاکستان کے سافٹ اور مثبت امیج کو برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں بصورت دیگر اگر یہ تشویشناک صورتحال برقرار رہی تو کراچی میں صنعتوں کی بندش سے ملک بدامنی، بے یقینی اور فراتفری کا شکار ہو سکتا ہے اور بڑے پیمانے پر بے روزگاری اور قومی خزانے میںبہت زیادہ کمی کا باعث بن سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے