ویب ڈیسک —
بلوچستان کے ضلع پنجگور میں پاکستان کی فوج اور عسکریت پسندوں کے درمیان لڑائی دوسرے روز بھی جاری ہے۔ حکام نے جھڑپوں کے دوران 15 حملہ آوروں کو ہلاک کرنےکا دعویٰ کیا ہے جب کہ فائرنگ کے تبادلے میں چار فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔
وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید نے جمعرات کو اپنے ایک ویڈیو پیغام میں تصدیق کی ہے کہ پنجگور میں فوج اور عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپ جاری ہے اور جلد حملہ آوروں کو منطقی انجام تک پہنچا دیا جائے گا۔
ضلع پنجگور اور نوشکی میں بدھ کی شام دہشت گردوں نے سیکیورٹی فورسز کے کیمپوں پر حملہ کیا تھا۔ ابتدائی طور پر فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے دونوں واقعات میں ایک اہلکار سمیت چار دہشت گردوں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔
فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ پنجگور میں دہشت گردوں نے دو مقامات سے سیکیورٹی فورسز کے کیمپ پر حملہ کیا تھا لیکن بروقت جوابی کارروائی کے بعد حملہ آورفرار ہو گئےتھے۔
تاہم وفاقی وزیرِ داخلہ نے جمعرات کو ویڈیو بیان میں کہا کہ پنجگور میں اس وقت بھی چار سے پانچ دہشت گرد گھیرے میں ہیں جنہیں فوج اپنی روایت برقرار رکھتے ہوئے شکست دے گی۔
وفاقی وزیرِ داخلہ کے مطابق نوشکی میں نو دہشت گرد اور فوج کے چار اہلکار ہلاک ہوئے جب کہ پنجگور میں جھڑپ کے دوران چھ دہشت گرد مارے گئے ہیں۔
وزیرِ اعظم عمران خان نے اپنے ایک ٹوئٹ میں بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز پر ہونے والے حملے کے دوران فوج کی جوابی کارروائی کو سراہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم اپنی فوج کی پشت پر متحد اور یکجا کھڑی ہے۔
دوسری جانب بلوچستان میں سرگرم عسکریت پسند تنظیم کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے ترجمان نے میڈیا کو بھیجی گئی ایک ای میل میں نوشکی اور پنجگور میں ایف سی ہیڈ کوارٹرز پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
ترجمان نے دعویٰ کیا کہ تنظیم کی مجید بریگیڈ کی جانب سے کیے گئے حملے میں فوج کے تقریباً 100 اہل کار ہلاک جب کہ کیمپ کے اندرونی حصے کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ تاہم حکام نے بی ایل اے کے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی۔
یاد رہے کہ حالیہ چند ہفتوں کے دوران بلوچستان میں سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ ماہ 25اور 26جنوری کی درمیانی شب دہشت گردوں نے ضلع کیچ میں ایک چوکی پر حملہ کیا تھا جس میں 10 سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہو ئے تھے۔
