کوئٹہ —
پاکستان کے صوبے بلوچستان کےضلع پنجگور اور نوشکی میں سیکیورٹی فورسز کے کیمپوں پرمبینہ دہشت گردوں کے حملوں اور فورسز کی جوابی کارروائی میں چار حملہ آور اور ایک سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہو ئےہیں۔
پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ان دونوں واقعات کی تصدیق کرتے ہوئے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ”بدھ کی شام لگ بھگ 7 بجے دہشت گردوں نےپنجگور اور نوشکی میں سیکیورٹی فورسز کے کیمپوں پر حملے کی کوشش کی جس کا بھرپور جواب دیا گیا۔”
آئی ایس پی آر کے مطابق ”ضلع پنجگور میں حملہ آوروں نے دو مقامات سے سیکیورٹی فورسز کے کیمپ میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ تاہم، بروقت جوابی کارروائی سے دہشت گردوں کی اس کوشش کو ناکام بنا دیا گیا۔”
اس دوران دونوں اطراف سے شدید فائرنگ کے تبادلے میں ایک سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گیا جبکہ حملہ آور جائے وقوعہ سے فرار ہو گئے ۔بیان کے مطابق واقعے میں دہشت گردوں کی ہلاکتوں کا تعین کیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی فورسز کے کیمپ پر حملے کا دوسرا واقعہ ضلع نوشکی میں پیش آیا جہاں آئی ایس پی آر کے مطابق ” دہشت گردوں نے فرنٹیئر کور (ایف سی) کیمپ میں گھسنے کی کوشش کی جس پر جوابی کارروائی کی گئی۔”
بیان کے مطابق اس حملے اور جوابی کارروائی کے دوران چار حملہ آور ہلاک ہوگئے جبکہ ایک افسر زخمی ہو ا۔
نوشکی کے علاقے میں مقامی انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وائس آف امریکہ کے نمائندے مرتضیٰ زہری کو بتایا کہ شام 7 بجے کے قریب نوشکی شہر کے وسط میں فرنٹئیر کور کے ہیڈ کوارٹرز کے گیٹ نمبر 2 پر نامعلوم مسلح حملہ آوروں نے حملہ کیا۔


ان کے بقول حملے کے دوران گیٹ پر زور دار دھماکا کیا گیا جس کی آواز نوشکی میں دور دور تک سنائی دی گئی۔
عہدیدار کے مطابق دھماکااس قدر شدید تھا کہ اس سے قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ دھماکے سے ڈپٹی کمشنر آفس کی عمارتوں کوبھی نقصان پہنچا اور اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر میں ایک ملازم شیشا لگنے سے زخمی ہوا۔
سول اسپتال نوشکی کے ذرائع کے مطابق دھماکے سے اسپتال کی عمارت کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ اسپتال میں مختلف وارڈ سمیت دیگر دفاتر کے دروازےاور کھڑکیاں اکھڑ گئیں ۔
واضح رہے کہ سول اسپتال نوشکی میں ایف سی ہیڈکوارٹر ز کے قریب واقع ہے۔
پنجگورپولیس کا کہنا ہے کہ بدھ کو تقریباً7 بجے ضلع پنجگورمیں ایف سی کیمپ کے قریب ایک دھماکا ہوا جس کے بعد شدید فائرنگ کا سسلسلہ کافی دیر تک جاری رہا۔
پولیس کے مطابق نامعلوم حملہ آوروں نے بارود سے بھری گاڑی فرنٹیئر کور کے کیمپ گیٹ سے ٹکرا دی جس سے دھماکا ہوا۔
علاوہ ازیں بلوچستان میں سرگرم بلوچ عسکریت پسند تنظیم کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے ترجمان نے میڈیا کو بھیجی گئی ایک ای میل میں نوشکی اور پنجگور میں ایف سی ہیڈ کوارٹرز پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملے تنظیم کی مجید بریگیڈ نے کیے ہیں۔
تنظیم نےحملوں میں درجنوں فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
قبل ازیں پاکستان کے ذرائع ابلاغ نےبدھ کی شام کو یہ رپورٹ کیا تھا کہ پنجگور اور نوشکی میں سیکیورٹی فورسز کے کیمپوں کے نزدیک دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ اخبار ڈان کے مطابق، ایف سی کے ترجمان نے ان دھماکوں کی بھی تصدیق کی تھی۔
خٰیال رہے کہ آئی ایس پی آر نے گزشتہ ہفتے تصدیق کی تھی کہ بلوچستان کے ضلع کیچ میں 25اور 26جنوری کی درمیانی رات کو اس کے دس سیکیورٹی اہلکاروں کو ایک چوکی پر حملے کے دوران ہلاک کردیا گیا تھا۔
بلوچستان عسکریت پسندوں کے حملوں کی زد میں کیوں ہے؟
گزشتہ سال سے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بلوچ عسکریت پسند تنظیموں کی جانب سے سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے سمیت مختلف تنظیموں کے مابین آپس میں جھڑپوں میں اضافہ ہوا ہے۔
اسلام آباد میں قائم سیکیورٹی تھنک ٹینک پاک انسٹی ٹیوٹ آف پیس اسٹیڈیز (پی آئی پی ایس ) کی سالانہ رپورٹ کے مطابق 2021 میں ملک میں خیبرپختونخوا کے بعد بلوچستان دہشت گردی سے متاثرہ دوسرا صوبہ ہے جہاں دہشت گردی کی 81 کارروائیوں میں 136 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
دہشت گردوں کی مذکورہ کارروائیوں میں 71 حملے بلوچ عسکریت پسند تنظیموں کی جانب سے کیے گئے جن کا نشانہ زیادہ تر سیکیورٹی فورسز ہی رہیں۔
یہ حملے بلوچ لبریشن فرنٹ، بلوچ لبریشن آرمی، بلوچ ری پبلکن آرمی، بلوچ ری پبلکن گارڈز، یونائیٹڈ بلوچ آرمی، لشکر بلوچستان اورچار علیحدگی پسند تنظیموں کے اتحاد بلوچ راجی آجوئی سنگر (براس) کی جانب سے کیے گئے ہیں۔
بلوچ عسکریت پسند تنظیمیں حملوں کے لیے آئی ای ڈی بم، فائرنگ اور دستی بموں کا استعمال کرتی ہیں لیکن گزشتہ برس 20 اگست کو بلوچ لبریشن آرمی نے گوادر میں چینی انجینئروں اور کارکنوں کے قافلے پر خودکش حملہ کیا تھا ۔
پی آئی پی ایس کی سیکیورٹی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں سب سے زیادہ 19 حملے ضلع کیچ میں ہوئے جہاں ماضی میں بھی سیکیورٹی فورسز پر حملے ہوتے رہے ہیں۔اس کے علاوہ کئی حملے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت سبی ، پنجگور اور بولان میں بھی کیے گئے۔
