امریکی صدر جو بائیڈن نے مشرقی یورپ میں اضافی افواج کی تعیناتی کو منظوری دے دی ہے۔
اس منصوبے کے تحت، امریکہ مبینہ طور پر تقریباً 2000 امریکی فوجی پولینڈ اور جرمنی بھیجے گا، جب کہ ایک ہزار فوجی جرمنی سے رومانیہ منتقل کیے جائیں گے۔
پولینڈ میں فوجیوں کو انتہائی چوکنا رکھا جائے گا تاہم، پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ فوجی یوکرین میں لڑنے کے لیے نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کوئی مستقل طور کی نقل و حرکت نہیں ہیں، یہ بس موجودہ حالات کے پیش نظر ایک جوابی اقدام ہے۔
نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے امریکہ کی طرف سے جنوب مشرقی یورپ میں مزید فوج کی تعیناتی کا خیر مقدم کیا ہے۔
پینٹاگون نے یہ بھی بتایا کہ جرمنی میں مقیم تقریباً 1,000 امریکی فوجیوں پر مشتمل اسٹرائیکر اسکواڈرن کو رومانیہ بھیجا جائے گا۔
اس نے مزید کہا کہ تقریباً 1,700 فوجی، خاص طور پر 82ویں ایئر بورن ڈویژن سے، امریکہ سے پولینڈ میں تعینات کیے جائیں گے اور دیگر 300 فوجی جرمنی پہنچیں گے۔
بتایا گیا ہے کہ چونکہ یورپ میں پہلے ہی سے 60,000 امریکی فوجی تعینات ہیں اس لیے یہ محض ایک علامتی اقدام ہے
