ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے چیئرمین نے وفاقی وزارت تعلیم کی شدید مخالفت کے باوجود جمعرات کو سلیکشن بورڈ کا اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے ایچ ای سی اور وزارت تعلیم کے درمیان تناؤ نے نیا رخ اختیار کر لیا۔
کمیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے تقرر کے لیے سلیکشن بورڈ کا اجلاس بلانے کا فیصلہ حال ہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے بحال کیے گئے ایچ ای سی کے چیئرمین ڈاکٹر طارق بنوری نے کیا۔
تاہم وزارت تعلیم سلیکشن بورڈ پر اعتراضات اٹھارہی ہے جسے ایچ ای سی کے چیئرمین نے اپنی بحالی کے بعد دوبارہ تشکیل دیا تھا، وزارت تعلیم نے اس تشکیل نو کو بلاجواز قرار دیا گیا تھا۔
وزارت تعلیم کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ سلیکشن بورڈ 7 اراکین پر مشتمل ہے جبکہ قانونی طور پر درست کورم کے لیے کم از کم 4 اراکین کی حاضری ضروری ہے۔
بیان کے مطابق ایچ ای سی کے چیئرپرسن نے خود 2 ممبران نامزد کیے ہیں جو کہ وہ کمیشن کی پہلے سے منظور شدہ نامزدگیوں کی موجودگی میں نہیں کیے جاسکتے تھے۔
بیان میں کہا گیا کہ ایچ ای سی قانون کے تحت کمیشن کے چیئرپرسن کے پاس کوئی موروثی اختیارات نہیں ہیں، ان کے تمام اختیارات کمیشن کے ذریعے انہیں سونپے گئے ہیں لہذا ان کی جانب سے کی گئی نامزدگیاں قانونی نہیں ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایچ ای سی کے چیئرپرسن کا ماضی کے طریقہ کار پر انحصار ایک کمزور دلیل ہے۔
وزارت تعلیم کے جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ وزارت تعلیم اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو پہلے ہی سپریم کورٹ میں چیلنج کر چکی ہے، یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ چیئرپرسن نے اپنے عہدے پر بحالی ہونے کے بعد ایچ ای سی کی پالیسی اور گورننس کے مسائل کو حل کرنے کے بجائے ایچ ای سی کے ملازمین کے خلاف انتقامی کارروائیاں کر کے اپنے اختیارات کا غلط استعمال شروع کر دیا۔
بیان میں کہا گیا کہ وزارت تعلیم ایچ ای سی کو افراتفری پھیلانے اور چیئرپرسن کی جانب سے سنسنی خیز فیصلوں سے روکنے کے لیے تمام قانونی اقدامات کر رہی ہے۔
دوسری جانب ایچ ای سی کے بیان میں کہا گیا کہ ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ایچ ای سی کے تقرر کے لیے ایچ ای سی آج (جمعرات کو) سلیکشن بورڈ کا انعقاد کررہا ہے۔
ایچ ای سی کے بیان میں کہا گیا کہ سلیکشن بورڈ چیئرمین ایچ ای سی، ایگزیکٹو ڈائریکٹر، سیکریٹری وزارت تعلیم، سیکریٹری وزارت سائنس و ٹیکنالوجی، ممبر او اینڈ ٹی، پبلک سیکٹر یونیورسٹی کے وائس چانسلرز اور فیلڈ کے ماہر پر مشتمل ہوتا ہے۔
ایچ ای سی نے اپنے بیان میں وزارت تعلیم کے اعتراضات کو بھی بلاجواز، بدنیتی پر مبنی اور ایک خود مختار ادارے کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے مترادف قرار دیا۔
ایچ ای سی کے بیان میں کہا گیا کہ وزارت تعلیم نے ان 2 ارکان کی تبدیلی پر اعتراض کیا جن کا تقرر سابقہ حکومت نے کیا تھا۔
ایچ ای سی کے بیان میں مزید کہا گیا کہ ایک خود مختار ادارے کے طور پر بھرتیوں کے لیے ایچ ای سی کے اپنے قوانین ہیں اور حکومت کی ایم پی اسکیل پالیسی 2020 کی دفعات اس پر لاگو نہیں ہوتیں۔
وزارت تعلیم کی جانب سے چند روز قبل ایچ ای سی کو لکھے گئے خط میں مذکورہ سلیکشن بورڈ پر اعتراضات کے بعد وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے بھی ایچ ای سی کے سلیکشن بورڈ کے اجلاس پر اعتراضات اٹھائے تھے۔
منبع: ڈان نیوز
The post ایچ ای سی اور وزارت تعلیم کے درمیان تناؤ نے نیا رخ اختیار کرلیا appeared first on شفقنا اردو نیوز.
