پاکستان میں صرف 19 فیصد لوگ وزیراعظم عمران خان کے خود کو برانڈ کہنے اور کرپٹ نہ ہونے کے بیان سے اتفاق کرتے ہیں ۔
پلس کنسلٹنٹ کا عوام کی آرا پر مبنی نیا سروے سامنے آیا ہے جس میں 19فیصد پاکستانیوں نے وزیراعظم عمران خان کے خود کو برانڈ کہنے اور کرپٹ نہ ہونے کے بیان سے مکمل اتفاق کیا ہے جبکہ 46 فیصد پاکستانیوں نے اس بیان پہ متفق نہ ہونے کا اظہار کیا ہے ۔
واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ ماہ 3جنوری کو پارٹی رہنمائوں کے ایک اجلاس میں ملک کی معاشی اور اقتصادی صورت حال پر حکومتی ترجمانوں کو اعتماد میں لیتے ہوئے کہا تھا کہ “آپ کا برانڈ وزیر اعظم ہے جو “چور ڈاکو نہیں، اپوزیشن چور ڈاکو اور کرپٹ رہنماؤں کو تحفظ دیتی ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت آج پیر کو حکومتی ترجمانوں کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزیر اعظم اور وزیر خزانہ نے شرکا کو فنانس بل پر بریفنگ دی اور وزیر اعظم نے ترجمانوں کو فنانس بل سے متعلق ابہام دور کرنے کی ہدایت کی
سروے نتائج کے مطابق ایک دوسرے سوال پر 62 فیصد عوام ٹکٹوں کی غلط تقسیم کو خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کی شکست کی بڑی وجہ سمجھتے ہیں جبکہ 30فیصد کرپشن اور بُری کارکردگی کو تحریک انصاف کے ہارنے کی وجہ بتاتے ہیں۔
البتہ اس سوال پر خیبرپختونخوا کے شہریوں کی رائے قومی سطح سے مختلف نظر آئی اور 65 فیصد نے پی ٹی آئی کی شکست کی وجہ صوبے میں کرپشن اور بُری کارکردگی کو کہا۔
اس کے علاوہ ایک اور سوال پر 61فیصد پاکستانی فارن فنڈنگ کیس میں عدالت کی جانب سے کلیئر قرار دینے کے حکومتی وزراکے بیان کو بھی حقائق کے منافی سمجھتے ہیں۔
دوسری جانب ملکی مسائل پر کیے گئے سوالات کے جوابات میں 84فیصد پاکستانیوں نے مہنگائی کو ملک کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا جبکہ ایک اور سوال کے جواب میں 80فیصد افراد بے روزگاری اور 37فیصد افراد کرپشن کو ملک کا اہم مسئلہ قرار دیتے نظر آئے۔
گزشتہ 3ماہ میں مہنگائی میں اضافے کے سوال پر 99 فیصد نے شدید پریشانی کا اظہار بھی کیا، ملک کے خراب معاشی حالات کا ذمہ دار 65 فیصد پاکستانی موجودہ حکومت کی پالیسیوں کو ٹھہراتے ہیں جبکہ 29 فیصد سابقہ حکومتوں کے قرضوں کو اس کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔
سروےے میں لوٹی گئی ملکی دولت واپس لانے میں 63فیصد پاکستانیوں نے حکومت کو ناکام قرار دیا۔

